کراچی چھرا مار مجنونانہ وارداتوں کا سدباب ناگزیر

اسی طرح کھلے عام وارداتیں ہوتی رہیں تو شہر جلد جنگل میں تبدیل ہوجائے گا

اسی طرح کھلے عام وارداتیں ہوتی رہیں تو شہر جلد جنگل میں تبدیل ہوجائے گا. فوٹو: فائل

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں 25 ستمبر سے تیز دھار آلے سے خواتین پر حملہ کرنے والے شخص نے چند روز کی خاموشی کے بعد علاقہ تبدیل کرتے ہوئے اب گلشن اقبال میں اپنی وارداتوں کا آغاز کردیا ہے، بدھ کی شام صرف ایک گھنٹے میں جنونی ملزم نے 5 خواتین کو زخمی کردیا، اس سے پیشتر بھی گلستان جوہر میں اسی قسم کی وارداتوں میں کئی خواتین کو زخمی کیا گیا تھا۔


اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا ان وارداتوں میں ایک ہی شخص ملوث ہے یا یہ کوئی گروہ ہے جو مخصوص علاقوں میں خوف و دہشت پھیلانا چاہتا ہے لیکن گزشتہ 10 روز سے ہونے والی وارداتوں نے محکمہ پولیس کی کارکردگی اور شہر میں عوام کے عدم تحفظ کا سب احوال سامنے کردیا ہے۔ میڈیا پر ان وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پیش کی جارہی ہے لیکن کروڑوں روپے خرچ کرکے لگائے جانے والے ان کیمروں کا رزلٹ اتنا خراب ہے کہ بائیک کی نمبر پلیٹ تک واضح نہیں ہورہی۔ حملہ آور ہیلمٹ لگائے ہوتا ہے لیکن شاہراہوں پر لگے کیمروں سے آمد و رفت کو ٹریک کرکے مجرم تک پہنچا جاسکتا ہے، نیز پولیس پٹرولنگ اور دیگر جاسوسی ذرایع کا استعمال وارداتوں کے سدباب میں معاون ثابت ہوسکتا ہے لیکن اس کے لیے معاملے کی سنگینی کا ادراک اور فرض شناسی کا مظہر لازمی ہے، جب کہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ملزم کو گرفتار کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا۔

ترقی یافتہ ممالک میں پولیس کی نہ صرف مخصوص ٹریک پر تربیت کی جاتی ہے بلکہ جدید سہولیات سے مستفید ہوتے ہوئے جرائم کی بیخ کنی کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے، دوسری جانب ہمارے ملک میں پولیس کا محکمہ ویسے ہی بدنام ہے، اس پر مستزاد سہولیات کی کمی اور فرض کی عدم ادائیگی کا رویہ مزید خرابی پیدا کرتا ہے۔ حکام بالا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے، اگر اسی طرح کھلے عام وارداتیں ہوتی رہیں تو شہر جلد جنگل میں تبدیل ہوجائے گا جہاں ہر شخص قانون سے ماورا اپنے اعمال کے لیے آزاد ہوگا۔ ان وارداتوں سے مزید غفلت برتنا بذات خود ایک سنگین جرم ہوگا۔ لازم ہوگا کہ مذکورہ وارداتوں کے سدباب کے لیے فوری طور پر محکمہ پولیس حرکت میں آئے، جدید ٹیکنالوجی اور سائنٹیفک طریقہ کار کا استعمال مجرم تک پہنچنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ مجرم کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے تاکہ شہریوں میں پھیلتے خوف اور احساس عدم تحفظ کو روکا جاسکے۔
Load Next Story