درگاہ فتح پور پر خود کش حملہ

فتح پور کی درگاہ پر 19مارچ 2005ء کو بھی خود کش دھماکا ہوا تھا

فتح پور کی درگاہ پر 19مارچ 2005ء کو بھی خود کش دھماکا ہوا تھا.فوٹو: فائل

بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کی درگاہ فتح پور میں خود کش بم دھماکے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 20 افراد شہید جب کہ 35 زخمی ہو گئے۔ جمعرات کی شام درگاہ میں عرس کی تقریبات جاری تھیں کہ ایک خود کش حملہ آور نے درگاہ کے اندر جانے کی کوشش کی' گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں نے اسے روکا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ صدر مملکت ممنون حسین' وزیراعظم شاہد خاقان عباسی' وزیراعلیٰ بلوچستان' وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

دہشت گردی کا یہ افسوسناک واقعہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ملک بھر، بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں، دہشت گردوں کی نرسریاں ابھی تک موجود ہیں جو وقتاً فوقتاً کارروائیاں کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلاتے رہتے ہیں۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں' ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے انھوں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں جس کا اعتراف نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی کیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو بطور نظیر پیش کیا جاتا ہے لیکن یہ ناسور اس قدر پھیل چکا ہے کہ اسے ختم کرنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہے۔

دہشت گردی کی نرسریوں کو کچلنے کے ساتھ ساتھ اس سوچ کو بھی جڑسے اکھاڑنا ہو گا جو معصوم انسانوں کا خون بہا رہی ہے۔ اس کے لیے اس نظریے کے خلاف جنگ لڑنا ہو گی جو انتقامی جذبات اور دہشت گردی کی سوچ کو پروان چڑھا رہا ہے۔ اس نظریے کو شکست دینے کے لیے سیاسی قیادت' علماء' دانشور طبقے اور ادیبوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے تو گولی کا جواب گولی سے دے رہے ہیں مگر نظریاتی محاذ پر شہر خموشاں کا منظر دکھائی دیتا ہے۔


دہشت گردی کی سوچ اور نظریے کو پروان چڑھانے والی قوتیں تو متحرک ہیں اور اپنا کردار بھرپور ادا کر رہی ہیں مگر اس کے مقابل پرامن اور مثبت سوچ کی حامل قوتیں زبانی مذمت سے آگے نہیں بڑھ رہیں۔ حکمران بھی ہر بار یہ بیان دے کر کہ دہشت گرد قوتیں اپنی مذموم کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے عزائم کمزور نہیں کر سکتیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی، اپنے فرائض اور عملی کردار سے بری ہو جاتے ہیں۔ فتح پور کی درگاہ پر 19مارچ 2005ء کو بھی خود کش دھماکا ہوا تھا جس میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دہشت گردی کے ایک واقعے کے بعد پورے علاقے کی سیکیورٹی کا نظام سخت کر دیا جاتا مگر کیا کہیں روایتی تساہل اور لاپروائی کے رویے کے کہ انسانی جانوں کی قدر و قیمت حکمرانوں کے بیانات اور طفل تسلیوں تک محدود رہتی ہے۔

یہ انکشافات سامنے آ چکے ہیں کہ دہشت گردوں کی نرسریاں پروان چڑھانے میں جہاں کچھ مقامی قوتیں سرگرم ہیں وہاں خارجی سطح پر بھی وسیع پیمانے پر سازشیں کی جا رہی ہیں' غیرملکی ایجنسیاں دہشت گردوں کو مالی اور عسکری امداد فراہم کر رہی ہیں۔ پاکستان نے بارہا افغانستان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ہاں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے بھرپور کارروائی کرے مگر افغان حکومت نے ایسا کرنے کے بجائے پاکستان ہی پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے۔ اس حقیقت سے نظر نہیں چرائی جا سکتی کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی متعدد وارداتوں کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی پاکستان پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف مزید کارروائیاں کرے جب کہ پاکستان پہلے ہی اپنے محدود وسائل اور استطاعت کے باوجود پورے جذبے اور عزم سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔

امریکا کا پاکستانی قربانیوں سے صرف نظر کرنا قطعی طور پر درست عمل نہیں۔ پاکستان تو خود دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اور پوری دنیا اس حقیقت سے آگاہ بھی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی۔ بلوچستان میں وقفے وقفے سے ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیاں اس امر کا مظہر ہیں کہ دہشت گردوں نے یہاں اپنے اڈے قائم کر رکھے اور انھیں یہاں اپنی کارروائیاں سرانجام دینے کے لیے تمام وسائل دستیاب ہیں۔ دہشت گردوں کے اڈے تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔ یہ ایک پوری لڑی ہے جس کے دانے بکھیرنے کے لیے سیاسی قیادت کو بھی جانفشانی اور پوری لگن سے آگے بڑھنا ہو گا۔
Load Next Story