سندھ میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کاقیام توہین عدالت ہے ڈاکٹرعطا الرحمن
وفاق کے پاس ایچ ای سی کا ادارہ نہ ہونے سے ملکی سالمیت کاسوال پیداہوجائے گا
جامعہ کراچی میں نینوٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب. فوٹو: فائل
KARACHI:
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے سندھ میں صوبائی سطح پراعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام پرسخت تنقید کرتے ہوئے اس حوالے سے کی گئی قانون سازی کوتوہین عدالت قراردیاہے.
ڈاکٹرعطا الرحمٰن نے کہاکہ سپریم کورٹ وفاقی ایچ ای سی کی موجودگی میں صوبوں کوپہلے ہی صوبائی ایچ ای سی کے قیام سے روک چکاہے، صوبائی سطح پر ایچ ای سی کے قیام سے چاروں صوبوں میں اعلیٰ تعلیم کی سطح پر یکسانیت نہیں رہے گی جبکہ وفاق کے پاس یہ ادارہ نہ ہونے کے سبب ملکی سالمیت کاسوال بھی پیداہوجائے گا، جامعہ کراچی لطیف ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف نینو ٹیکنالوجی کے قیام کا منصوبہ خوش آئند ہے،وہ پیر کوجامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پریس کانفرنس سے گورنر سندھ کے مشیربرائے اعلیٰ تعلیم آفتاب لودھی،حسین ابراہیم جمال فائونڈیشن کے سربراہ عزیز لطیف جمال، جامعہ کراچی کی ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ڈاکٹر شہانہ عرج کاظمی اورآئی سی سی بی ایس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے بھی خطاب کیا، ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ نینو ٹیکنالوجی کا دیگر سائنسی علوم بشمول فارماسیوٹیکل، نیچرل سائنس، بائیو ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعت کی ترقی میں اہم کردار ہے، ڈاکٹرشاہانہ عروج نے کہا کہ قواعد وضوابط کے تحت ایچ ای جے انسٹی ٹیوٹ اپنے بورڈ آف گورنرزکے فیصلوں کی یونیورسٹی سینڈیکیٹ سے توثیق کاپابند نہیں ہے،انھوں نے کہا کہ جامعہ کراچی میں عالمی معیار کا تحقیقی کام ہو رہا ہے، طلبہ و طالبات کو عالمی ادارے بڑی تعداد میں اسکالر شپ دے رہے ہیں، جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں با آسانی داخلہ مل جاتا ہے، آفتاب لودھی نے کہا کہ گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے حسین ابراہیم جمال فائونڈیشن کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے عزیز لطیف جمال کو مبارکباد پیش کی ہے ۔
اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے سندھ میں صوبائی سطح پراعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام پرسخت تنقید کرتے ہوئے اس حوالے سے کی گئی قانون سازی کوتوہین عدالت قراردیاہے.
ڈاکٹرعطا الرحمٰن نے کہاکہ سپریم کورٹ وفاقی ایچ ای سی کی موجودگی میں صوبوں کوپہلے ہی صوبائی ایچ ای سی کے قیام سے روک چکاہے، صوبائی سطح پر ایچ ای سی کے قیام سے چاروں صوبوں میں اعلیٰ تعلیم کی سطح پر یکسانیت نہیں رہے گی جبکہ وفاق کے پاس یہ ادارہ نہ ہونے کے سبب ملکی سالمیت کاسوال بھی پیداہوجائے گا، جامعہ کراچی لطیف ابراہیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف نینو ٹیکنالوجی کے قیام کا منصوبہ خوش آئند ہے،وہ پیر کوجامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
پریس کانفرنس سے گورنر سندھ کے مشیربرائے اعلیٰ تعلیم آفتاب لودھی،حسین ابراہیم جمال فائونڈیشن کے سربراہ عزیز لطیف جمال، جامعہ کراچی کی ڈین فیکلٹی آف سائنس پروفیسر ڈاکٹر شہانہ عرج کاظمی اورآئی سی سی بی ایس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری نے بھی خطاب کیا، ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ نینو ٹیکنالوجی کا دیگر سائنسی علوم بشمول فارماسیوٹیکل، نیچرل سائنس، بائیو ٹیکنالوجی، زراعت اور صنعت کی ترقی میں اہم کردار ہے، ڈاکٹرشاہانہ عروج نے کہا کہ قواعد وضوابط کے تحت ایچ ای جے انسٹی ٹیوٹ اپنے بورڈ آف گورنرزکے فیصلوں کی یونیورسٹی سینڈیکیٹ سے توثیق کاپابند نہیں ہے،انھوں نے کہا کہ جامعہ کراچی میں عالمی معیار کا تحقیقی کام ہو رہا ہے، طلبہ و طالبات کو عالمی ادارے بڑی تعداد میں اسکالر شپ دے رہے ہیں، جامعہ کراچی سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں با آسانی داخلہ مل جاتا ہے، آفتاب لودھی نے کہا کہ گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے حسین ابراہیم جمال فائونڈیشن کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے عزیز لطیف جمال کو مبارکباد پیش کی ہے ۔