رفیع الدین راز کی شاعری سچے جذبوں سے عبارت ہے جاذب قریشی
دو کتابوں ’’سخن کا چراغ۔ رفیع الدین راز‘‘ اور ’’اک کون و مکاں اور‘‘ کی تعارفی تقریب.
رفیع الدین راز اپنی کتاب پروفیسر جاذب قریشی کو پیش کررہے ہیں ،آغا نور محمد ، ظفر صدیقی اور دیگر موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
KARACHI:
ممتاز شاعر پروفیسر جاذب قریشی نے کہا ہے کہ اردو شاعری میں حسی، بصری اور سماجی تجربوں کی تجسیم نگاری کی اپنی ایک الگ تخلیقی اہمیت ہے.
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ''ادارہ فکر نو'' (کراچی) کے زیر اہتمام ''بزم سراج الادب'' (کراچی) کے تعاون سے رفیع الدین راز کے مجموعہ کلام ''اک کون و مکاں اور'' اور ان کے فن و شخصیت پر ڈاکٹر گوہر ملیسانی کی مرتب کردہ کتاب ''سخن کا چراغ۔ رفیع الدین راز'' کی تعارفی تقریب کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا، دیگر مقررین میں سعید الظفر صدیقی، تشنہ بریلوی، ڈاکٹر مظہر حامد، سلمان صدیقی، سراج الدین سراج اور بابر خان نیازی شامل تھے.
پروفیسر جاذب قریشی نے کہاکہ رفیع الدین راز کی شاعری سچے جذبوں سے عبارت ہے، انھوں نے کہاکہ پاکستان ہو یا ہندوستان جہاں جہاں بھی اردو شاعری ہورہی ہے وہاں سب سے الگ، منفرد اور توانا آواز رفیع الدین راز کی ہے، ان کی شاعری میں عزم و ہمت کا بے کراں سمندر دیکھا جاسکتا ہے،
رفیع الدین راز کی کتابوں میں سیکڑوں ایسے خوب صورت اشعار ملیں گے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، ان کی شاعری، حیات انسانی کو بشارتوں کی نوید دیتی ہے، مہمان خصوصی آغا نور محمد پٹھان نے کہاکہ رفیع الدین راز کو ان کی شاعری سے الگ نہیں کیا جاسکتا، ان کی شاعری جذبوں کی شاعری ہے، ان کی شاعری میں عصری آگہی بھی نمایاں ہے، سلمان صدیقی نے کہاکہ رفیع الدین راز نے زندگی کی حقیقتوں کو شاعری بنایا ہے، انھوں نے کہاکہ میں عزیز حامد مدنی کے بعد رفیع الدین راز کو اہم شاعر سمجھتا ہوں۔
ممتاز شاعر پروفیسر جاذب قریشی نے کہا ہے کہ اردو شاعری میں حسی، بصری اور سماجی تجربوں کی تجسیم نگاری کی اپنی ایک الگ تخلیقی اہمیت ہے.
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ''ادارہ فکر نو'' (کراچی) کے زیر اہتمام ''بزم سراج الادب'' (کراچی) کے تعاون سے رفیع الدین راز کے مجموعہ کلام ''اک کون و مکاں اور'' اور ان کے فن و شخصیت پر ڈاکٹر گوہر ملیسانی کی مرتب کردہ کتاب ''سخن کا چراغ۔ رفیع الدین راز'' کی تعارفی تقریب کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا، دیگر مقررین میں سعید الظفر صدیقی، تشنہ بریلوی، ڈاکٹر مظہر حامد، سلمان صدیقی، سراج الدین سراج اور بابر خان نیازی شامل تھے.
پروفیسر جاذب قریشی نے کہاکہ رفیع الدین راز کی شاعری سچے جذبوں سے عبارت ہے، انھوں نے کہاکہ پاکستان ہو یا ہندوستان جہاں جہاں بھی اردو شاعری ہورہی ہے وہاں سب سے الگ، منفرد اور توانا آواز رفیع الدین راز کی ہے، ان کی شاعری میں عزم و ہمت کا بے کراں سمندر دیکھا جاسکتا ہے،
رفیع الدین راز کی کتابوں میں سیکڑوں ایسے خوب صورت اشعار ملیں گے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، ان کی شاعری، حیات انسانی کو بشارتوں کی نوید دیتی ہے، مہمان خصوصی آغا نور محمد پٹھان نے کہاکہ رفیع الدین راز کو ان کی شاعری سے الگ نہیں کیا جاسکتا، ان کی شاعری جذبوں کی شاعری ہے، ان کی شاعری میں عصری آگہی بھی نمایاں ہے، سلمان صدیقی نے کہاکہ رفیع الدین راز نے زندگی کی حقیقتوں کو شاعری بنایا ہے، انھوں نے کہاکہ میں عزیز حامد مدنی کے بعد رفیع الدین راز کو اہم شاعر سمجھتا ہوں۔