بھرتیوں پر پابندی درست ہے ورنہ بندر بانٹ ہو جائیگی سپریم کورٹ
ٹریفک جام میں لوٹ مار معمول بن گئی، عدالت، ماس ٹرانزٹ نہ ہونا بھی کرائم کی وجہ ہے، آئی جی
فوٹو فائل
سپریم کورٹ نے کراچی میں نئی حلقہ بندی کیخلاف متحدہ قومی موومنٹ کی درخواست خارج کردی اور ریمارکس دیے کہ عدالت نے نئی حلقہ بندی کا کوئی حکم دیا ہی نہیں تھا۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ایک درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ نے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے اپنے حکم پر عملدرآمد کو مؤخر کردے۔ پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے درخواست کی سماعت پر زور نہ دینے پر درخواست خارج کی۔ اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ 24اکتوبر2012کے حکم پر نظر ثانی کی جائے ،جس پر جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ اس روز عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیاتھا بلکہ 2011کے وطن پارٹی کیس کے ے پر عملدرآمد کی ہدایت کی تھی، بینچ نے ریجنل ڈائریکٹر الیکشن کمیشن عطاء الرحمٰن کے بیان اور رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو وضاحت کیلیے طلب کیا تھا۔
آپ عدالت کو وہ حکم بتائیں جس کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے اور اس حکم کے کس حصے سے آپ متفق ہیں اور کس سے نہیں ، جسٹس خلجی نے بیرسٹر فروغ نسیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسانہ ہو کہ پورا ہ پڑھنے کے بعد آپ کو اپنی نظرثانی کی درخواست واپس لینا پڑے تاہم بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ ریجنل ڈائریکٹر نے ڈائریکٹر جنرل کے ے کے مطابق بینچ کوبتایاتھاکہ مردم شمار ی کے بغیر نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں، عدالت نے اس موقف کو قبول نہیں کیا ہم اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ بیرسٹرفروغ نسیم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے قلابازی کھائی ہے جس پر جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا احترام کرنا چاہیے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیان تبدیل کیا جارہا ہے تو عدالت کیا کرسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے متعلق عدالت نے ایک لائن کا بھی حکم نہیں دیا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے الیکشن کمیشن کے وکیل منیر پراچہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ سیکریٹری نے غلط کام کیا ہے تو سیکریٹری کے خلاف کارروائی کریں۔ ادھر الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں بتایاگیاہے کہ سیاسی جماعتوں نے لسانی بنیادوں پر نئی حلقہ بندی کی تجاویز دی ہیں ،جو کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے منافی ہیں ،اس کے علاوہ نئی مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں،اس لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے متعلق اپنی ہدایات پرعمل درآمد کرانے کا ہ موخر کردے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست کو کراچی بد امنی ازخود نوٹس کیس کے ساتھ منسلک کردیا،درخواست میں کہا گیا ہے الیکشن کمیشن عدالتی حکم کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پرپہنچاہے کہ تازہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیں، اس ضمن میں آئین کی دفعات51(3),(5)اورحلقہ بندی ایکٹ 1974کی دفعہ 7کے تحت نئی مردم شماری ناگزیرہے۔
جبکہ 2002کے عام انتخابات کے بعد مردم شماری نہیں ہوئی۔درخواست میں کہاگیا ہے کہ 1998کی مردم شماری کی بنیادپرالیکشن کمیشن نے 26مارچ2002کوحلقہ بندیوں کے حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھااور 4لاکھ99015 نفوس پر قومی اسمبلی کا ایک حلقہ تشکیل دیا گیا تھاتاہم اس موقع پر نئی مردم شماری کے بغیر یہ تعین نہیں کیاجاسکتا کہ کس حلقے کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟۔درخواست میں کہا گیاہے کہ 28نومبر2012کے عدالتی حکم کے بعدالیکشن کمیشن نے تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کی اور سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کی گئیں،سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجویزدی گئی ہے کہ ایک حلقے میں ایک ہی زبان بولنے والوں کی آبادی ہونی چاہیے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ایک درخواست کے ذریعے سپریم کورٹ نے اپیل کی ہے کہ وہ کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے اپنے حکم پر عملدرآمد کو مؤخر کردے۔ پیر کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے درخواست کی سماعت پر زور نہ دینے پر درخواست خارج کی۔ اس موقع پر متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں کہا کہ 24اکتوبر2012کے حکم پر نظر ثانی کی جائے ،جس پر جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ اس روز عدالت نے کوئی حکم جاری نہیں کیاتھا بلکہ 2011کے وطن پارٹی کیس کے ے پر عملدرآمد کی ہدایت کی تھی، بینچ نے ریجنل ڈائریکٹر الیکشن کمیشن عطاء الرحمٰن کے بیان اور رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے سیکریٹری الیکشن کمیشن کو وضاحت کیلیے طلب کیا تھا۔
آپ عدالت کو وہ حکم بتائیں جس کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے اور اس حکم کے کس حصے سے آپ متفق ہیں اور کس سے نہیں ، جسٹس خلجی نے بیرسٹر فروغ نسیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسانہ ہو کہ پورا ہ پڑھنے کے بعد آپ کو اپنی نظرثانی کی درخواست واپس لینا پڑے تاہم بیرسٹر فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ ریجنل ڈائریکٹر نے ڈائریکٹر جنرل کے ے کے مطابق بینچ کوبتایاتھاکہ مردم شمار ی کے بغیر نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں، عدالت نے اس موقف کو قبول نہیں کیا ہم اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ بیرسٹرفروغ نسیم نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس حوالے سے قلابازی کھائی ہے جس پر جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا احترام کرنا چاہیے۔جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیان تبدیل کیا جارہا ہے تو عدالت کیا کرسکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کے متعلق عدالت نے ایک لائن کا بھی حکم نہیں دیا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے الیکشن کمیشن کے وکیل منیر پراچہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگر الیکشن کمیشن سمجھتا ہے کہ سیکریٹری نے غلط کام کیا ہے تو سیکریٹری کے خلاف کارروائی کریں۔ ادھر الیکشن کمیشن نے اپنی درخواست میں بتایاگیاہے کہ سیاسی جماعتوں نے لسانی بنیادوں پر نئی حلقہ بندی کی تجاویز دی ہیں ،جو کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے منافی ہیں ،اس کے علاوہ نئی مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوسکتیں،اس لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے متعلق اپنی ہدایات پرعمل درآمد کرانے کا ہ موخر کردے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی درخواست کو کراچی بد امنی ازخود نوٹس کیس کے ساتھ منسلک کردیا،درخواست میں کہا گیا ہے الیکشن کمیشن عدالتی حکم کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پرپہنچاہے کہ تازہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیں، اس ضمن میں آئین کی دفعات51(3),(5)اورحلقہ بندی ایکٹ 1974کی دفعہ 7کے تحت نئی مردم شماری ناگزیرہے۔
جبکہ 2002کے عام انتخابات کے بعد مردم شماری نہیں ہوئی۔درخواست میں کہاگیا ہے کہ 1998کی مردم شماری کی بنیادپرالیکشن کمیشن نے 26مارچ2002کوحلقہ بندیوں کے حوالے سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا تھااور 4لاکھ99015 نفوس پر قومی اسمبلی کا ایک حلقہ تشکیل دیا گیا تھاتاہم اس موقع پر نئی مردم شماری کے بغیر یہ تعین نہیں کیاجاسکتا کہ کس حلقے کی آبادی میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟۔درخواست میں کہا گیاہے کہ 28نومبر2012کے عدالتی حکم کے بعدالیکشن کمیشن نے تمام فریقین کے ساتھ مشاورت کی اور سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کی گئیں،سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجویزدی گئی ہے کہ ایک حلقے میں ایک ہی زبان بولنے والوں کی آبادی ہونی چاہیے۔