گیلانی کے استثنیٰ پر وزارت قانون جلد رائے دے عدالتوں کو گالیاں دینا معمول بن گیا ہے چیف جسٹس
زین سکھیرا کیخلاف کارروائی آگے بڑھانے اور احمد فیض کی سعودی عرب سے واپسی کی ہدایت
حامد سعید کاظمی کی ضمانت منسوخ کرنیکی درخواست دی جا سکتی ہے، افتخار چوہدری، حج کرپشن کیس کے تفتیشی افسر نے رپورٹ پیش کردی، سماعت ملتوی فوٹو: فائل
KARACHI:
حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران پیر کوسپریم کورٹ نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے استثنیٰ کے معاملے پر جلد رائے دے جبکہ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ زین سکھیرا کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے۔
عدالت نے سابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسماعیل قریشی کی گرفتاری سے متعلق اپنا حکم واپس لے لیا۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ احمد فیض کی سعودی عرب سے واپسی کے لیے معاملہ جلد سعودی حکام کے ساتھ اٹھائیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حامد سعید کاظمی ضمانت کا غلط استعمال کر رہے ہیں تو ان کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست دی جا سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہاکہ تفتیسی افسر بتا رہے ہیں حامد کاظمی میڈیا پر عدالت اور تفتیشی ایجنسی کیخلاف باتیں کررہے ہں،یہ معمول بن گیا ہے کہ بیٹھو اور سپریم کورٹ کو گولیاں دو ۔ پیر کو حج کرپشن کیس کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ احمد فیض کی واپسی کے لیے وزارت داخلہ کو ایک درجن سے زائد خطوط لکھے کوئی جواب نہیں آیا جبکہ حامد سعید کاظمی کے خلاف حج کرپشن کے ثبوت موجود ہیں، وہ رہائی کے بعد اپنے بیانات کے ذریعے گواہوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت15 مارچ تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی ۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ احمد فیض غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں رہ رہا ہے اوراس کی واپسی کے لیے وزارت داخلہ تعاون نہیں کر رہی۔ احمد فیض کا پاسپورٹ بھی منسوخ ہو چکا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پاسپورٹ منسوخ ہو چکا ہے تو پھر ملزم کا سعودی عرب میں قیام غیر قانونی ہے ۔
حسین اصغر نے بتایا کہ زین سکھیرا اور نجیب ملک سے متعلق تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں ۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت اور سیکریٹری داخلہ احمد فیض کی واپسی یقینی بنائیں، سعودی حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا سرکاری خرچ پر حج کی پالیسی ختم ہو گئی ہے ۔ حسین اصغر کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ حامد کاظمی سے تحقیقات کی اجازت نہیں دے رہی ۔ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے عدالت کو بتایا کہ حامد کاظمی کو طویل حراست کے بعد ضمانت ملی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 44 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو گئے ، 6 باقی ہیں ۔
عدالت نے ایف آئی اے کو زین سکھیرا کی ڈگری کی تحقیقات کی اجازت دے دی ۔ ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ حامد کاظمی تمام پیشیوں پر پیش ہوتے رہے ، ملزم سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔ اس پر چیف جسٹس نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ ملزم کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں یا ریاست کی طرف سے؟، معلوم ہوتا ہے کہ آپ استغاثہ کی بجائے وکیل صفائی ہیں۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ حج کرپشن میں یوسف رضا گیلانی کو بلایا تھا، سابق وزیر اعظم نے پیش ہونے سے انکار کر دیا ۔ یوسف رضا گیلانی کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل تھا۔ ہم نے وزارت قانون سے استثنیٰ پر رائے مانگی تھی جو اب تک نہیں آئی ۔
حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران پیر کوسپریم کورٹ نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے استثنیٰ کے معاملے پر جلد رائے دے جبکہ عدالت نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ زین سکھیرا کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھائے۔
عدالت نے سابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسماعیل قریشی کی گرفتاری سے متعلق اپنا حکم واپس لے لیا۔ عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ احمد فیض کی سعودی عرب سے واپسی کے لیے معاملہ جلد سعودی حکام کے ساتھ اٹھائیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ اگر حامد سعید کاظمی ضمانت کا غلط استعمال کر رہے ہیں تو ان کی ضمانت کی منسوخی کی درخواست دی جا سکتی ہے ۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہاکہ تفتیسی افسر بتا رہے ہیں حامد کاظمی میڈیا پر عدالت اور تفتیشی ایجنسی کیخلاف باتیں کررہے ہں،یہ معمول بن گیا ہے کہ بیٹھو اور سپریم کورٹ کو گولیاں دو ۔ پیر کو حج کرپشن کیس کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ احمد فیض کی واپسی کے لیے وزارت داخلہ کو ایک درجن سے زائد خطوط لکھے کوئی جواب نہیں آیا جبکہ حامد سعید کاظمی کے خلاف حج کرپشن کے ثبوت موجود ہیں، وہ رہائی کے بعد اپنے بیانات کے ذریعے گواہوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت15 مارچ تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے حج کرپشن کیس کی سماعت کی ۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ احمد فیض غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں رہ رہا ہے اوراس کی واپسی کے لیے وزارت داخلہ تعاون نہیں کر رہی۔ احمد فیض کا پاسپورٹ بھی منسوخ ہو چکا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پاسپورٹ منسوخ ہو چکا ہے تو پھر ملزم کا سعودی عرب میں قیام غیر قانونی ہے ۔
حسین اصغر نے بتایا کہ زین سکھیرا اور نجیب ملک سے متعلق تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں ۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ حکومت اور سیکریٹری داخلہ احمد فیض کی واپسی یقینی بنائیں، سعودی حکومت سے بھی رابطہ کیا جائے ۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا سرکاری خرچ پر حج کی پالیسی ختم ہو گئی ہے ۔ حسین اصغر کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ حامد کاظمی سے تحقیقات کی اجازت نہیں دے رہی ۔ ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے عدالت کو بتایا کہ حامد کاظمی کو طویل حراست کے بعد ضمانت ملی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 44 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہو گئے ، 6 باقی ہیں ۔
عدالت نے ایف آئی اے کو زین سکھیرا کی ڈگری کی تحقیقات کی اجازت دے دی ۔ ایف آئی اے پراسکیوٹر کا کہنا تھا کہ حامد کاظمی تمام پیشیوں پر پیش ہوتے رہے ، ملزم سے کوئی ریکوری نہیں ہوئی۔ اس پر چیف جسٹس نے ایف آئی اے پراسیکیوٹر سے کہا کہ آپ ملزم کی طرف سے پیش ہو رہے ہیں یا ریاست کی طرف سے؟، معلوم ہوتا ہے کہ آپ استغاثہ کی بجائے وکیل صفائی ہیں۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ حج کرپشن میں یوسف رضا گیلانی کو بلایا تھا، سابق وزیر اعظم نے پیش ہونے سے انکار کر دیا ۔ یوسف رضا گیلانی کو آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل تھا۔ ہم نے وزارت قانون سے استثنیٰ پر رائے مانگی تھی جو اب تک نہیں آئی ۔