پاکستان میں منشیات نوشی میں اضافہ تشویشناک

افغانستان میں مجموعی طور پر 1830 ہیکٹر زمین پر افیون کاشت ہوتی ہے

افغانستان میں مجموعی طور پر 1830 ہیکٹر زمین پر افیون کاشت ہوتی ہے۔فوٹو: فائل

وزارت نارکوٹکس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پچھلے چار سال میں منشیات استعمال کرنیوالوں کی تعداد 67 لاکھ سے بڑھ کر 70 لاکھ افراد تک پہنچ گئی ہے جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کسی بھی قوم کے صحتمند نوجوان اس ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، ملک کی ترقی اور مستقبل کی باگ ڈور ان ہی نوجوانوں کو سنبھالنی ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں منشیات نوشی میں مبتلا افراد کی بیشتر تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے، منشیات استعمال کرنیوالوں میں اکثریت کی عمریں ٹین ایج سے لے کر 39 تک ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایک ایسا ملک جہاں ویسے ہی طب اور صحت کی سہولیات ناکافی ہیں، کرپشن نے ملکی معیشت کو کھوکھلا کر رکھا ہے، وہاں منشیات کے عادی افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد فہمیدہ حلقوں کے لیے متوشش ہے کیونکہ ایک بیمار اور کند ذہن ملکی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

اس وقت دنیا دہشتگردی کے عفریت کو اپنے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے لیکن جائزہ لیا جائے تو دہشتگردی سے زیادہ منشیات نوشی نوع انسان کو نقصان پہنچا رہی ہے، ایک سروے کے مطابق دنیا میں دہشتگردی سے روزانہ اوسطاً 39 جب کہ منشیات استعمال کرنے سے یومیہ اوسطاً 700 افراد موت کے منہ میں جاتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردی سے بھی بڑی لعنت منشیات کی پیداوار اور ترسیل ہے جس کا قلع قمع کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔


حکومت کی جانب سے بظاہر کئی بار اس سلسلے میں اقدامات کیے گئے لیکن ملک میں جاری کرپشن ہمیشہ آڑے آگئی۔ اطلاعات ہیں کہ افغانستان میں مجموعی طور پر 1830 ہیکٹر زمین پر افیون کاشت ہوتی ہے جس سے 3300 ٹن افیون پیدا ہوتی ہے۔ افغانستان سے کوکین، ہیروئن، افیون اور دیگر اقسام کی تمام تر منشیات کا 40 فیصد پاکستان سے گزرتا ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں منشیات کی فروخت کا عمل اس طرح کھلے عام جاری ہے؟ کیا متعلقہ ادارے ان معاملات سے لاعلم ہیں؟ جب کہ وزارت نارکوٹکس کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ بڑے تعلیمی اداروں خاص طور پر سرکاری اور نجی یونیورسٹیز میں بہت ہی منظم گروپس موجود ہیں جنھیں متعلقہ پولیس کی بھی پوری سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے اہلکاروں کا ان جرائم میں ملوث ہونا تشویشناک امر ہے۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 1500 روپے سے 6000 روپے تک کی نشہ آور گولیوں کا استعمال عام ہے۔ لاہور اور کراچی میں بھی یہ منشیات فروخت ہوتی ہیں لیکن کرپشن اور رشوت ستانی ان کے سدباب میں آڑے آجاتی ہے۔

وزارت کے ایک آفیسر نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد منشیات کے عادی افراد کی بحالی کی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے، اس لیے وزارت اس میں کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کرسکتی لیکن ملک سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے وفاقی و صوبائی حکومت سمیت ہر فرد واحد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، حکومتی سطح پر طب اور صحت کے شعبہ کو ترجیح دینا لازم ہے، ان عوامل کا خاتمہ کرنا ہوگا کہ جو منشیات کے کاروبار کو پنپنے میں مدد فراہم کررہے ہیں۔ موت کے سوداگروں اور ان کے ''سہولت کاروں'' کی مکمل بیخ کنی لازم ہے اور ایسا اسی وقت ہوسکتا ہے جب حکومت صدق دل سے اپنے فرائض کی انجام دہی اور سسٹم میں موجود کرپٹ عناصر کے خاتمہ کے لیے راست اقدامات کرے۔
Load Next Story