بحرہند کی تہہ میں قدیم براعظم کی باقیات دفن ہیں محققین
زمین کے ایسے ٹکڑوں کے ثبوت ملے جو 85 سے 2 ہزارملین سال قبل پائے جاتے تھے
ساحلی ریت سے زرکون ملے،جوکسی قدیم براعظم کی پرت میں پائی جاتی ہے، پروفیسر ٹرونڈ ۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
بحرہند کی تہہ میں قدیم براعظم کی باقیات دفن ہیں۔ محققین کو زمین کے ایسے ٹکڑوں کے بارے میں ثبوت ملے ہیں جو 85 سے 2 ہزارملین سال قبل پائے جاتے تھے۔ نیچرجیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ٹکڑا جیسے سائنسدانوں نے موریشیا کا نام دیا ہے جدید دنیا کی تشکیل کے وقت ٹوٹ کر پانی میں ڈوب گیا تھا۔
750 ملین سال پہلے تک دنیا میں ایک ہی بڑابراعظم تھا جسے روڈینیاکہا جاتا تھا اور جہاں اب ان دونوں کے درمیان ہزاروں میل طویل سمندر ہے، اس زمانے میں بھارت مڈغا سکرکے قریب واقع تھا۔ جب زمین نے اپنی موجودہ شکل اختیارکرنا شروع کی تو موریشیا کا وجود ختم ہوگیا تھا۔
اب محققین کا خیال ہے کہ انھوں نے اس چھوٹے براعظم کا ایک ٹکڑا دریافت کیا ہے۔ ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو کے پروفیسر ٹرونڈ ٹروسک کا کہنا ہے کہ 'ہمیں ساحلی ریت سے زرکون ملے اور یہ وہ چیز ہے کہ جو کسی براعظم کی پرت میں پائی جاتی ہے اور یہ انتہائی قدیم ہیں۔
بحرہند کی تہہ میں قدیم براعظم کی باقیات دفن ہیں۔ محققین کو زمین کے ایسے ٹکڑوں کے بارے میں ثبوت ملے ہیں جو 85 سے 2 ہزارملین سال قبل پائے جاتے تھے۔ نیچرجیو سائنس نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ ٹکڑا جیسے سائنسدانوں نے موریشیا کا نام دیا ہے جدید دنیا کی تشکیل کے وقت ٹوٹ کر پانی میں ڈوب گیا تھا۔
750 ملین سال پہلے تک دنیا میں ایک ہی بڑابراعظم تھا جسے روڈینیاکہا جاتا تھا اور جہاں اب ان دونوں کے درمیان ہزاروں میل طویل سمندر ہے، اس زمانے میں بھارت مڈغا سکرکے قریب واقع تھا۔ جب زمین نے اپنی موجودہ شکل اختیارکرنا شروع کی تو موریشیا کا وجود ختم ہوگیا تھا۔
اب محققین کا خیال ہے کہ انھوں نے اس چھوٹے براعظم کا ایک ٹکڑا دریافت کیا ہے۔ ناروے کی یونیورسٹی آف اوسلو کے پروفیسر ٹرونڈ ٹروسک کا کہنا ہے کہ 'ہمیں ساحلی ریت سے زرکون ملے اور یہ وہ چیز ہے کہ جو کسی براعظم کی پرت میں پائی جاتی ہے اور یہ انتہائی قدیم ہیں۔