فلسطینی قیدی کی شہادت الاقصیٰ بریگیڈ نے اسرائیل سے بدلہ لینے کا اعلان کر دیا
عرفات جرادت کے جنازے میں مسلح افرادکی ہوائی فائرنگ، فلسطینی پرچم لہرائے گئے، مجرم سزا سے نہیں بچ سکیں گے
عرفات جرادت کے جنازے میں مسلح افرادکی ہوائی فائرنگ، فلسطینی پرچم لہرائے گئے، مجرم سزا سے نہیں بچ سکیں گے فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
اسرائیلی جیل میں فلسطینی قیدی عرفات جرادت کی شہادت کے بعد مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور پیر کو شہید کے گاؤں سائرمیں ان کے جنازے کے موقع پر صدر محمود عباس کی پارٹی الفتح کے مسلح ونگ'' الاقصیٰ بریگیڈ''نے ان کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیاہے۔
جنازے کے دوران الاقصیٰ بریگیڈکا ایک بیان پڑھ کرسنایاگیاجس میں کہاگیاہے کہ اس خوفناک جرم کے مرتکب افرادسزا سے نہیں بچ سکیں گے،اسکا جواب دیاجائیگا۔جنازے کے موقع پرمسلح جنگجوؤں نے ہوا میں گولیاں چلائیں ،جنازے کے مشتعل شرکا نے اس موقع پرفلسطینی پرچم لہرائے۔ اس موقع پر فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ، پتھرائو اور آنسو گیس کی شیلنگ سے کئی مظاہرین زخمی بھی ہوگئے، اسرائیلی فوجی گاؤں کے باہرکھڑے رہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کرمغربی کنارہ کے علاقے میں کشیدگی کوہوا دے رہاہے۔ہم امن اوراپنے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں،اسرائیلی اس علاقے میں انتشارپھیلاناچاہتے ہیں ہم ان کی کسی سکیم کوکامیاب نہیں ہونے دینگے۔چاہے وہ اس کیلیے کتنی ہی سخت کوششیں کرلیں ہم ایسا نہیں کرنے دینگے۔
اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنیوالے فلسطینی قیدیوں کی حمایت میں کئی ہفتوں سے مظاہرے ہورہے ہیں جن میں 30 سالہ قیدی عرفات کی ہلاکت کے بعد شدت آگئی ہے۔فلسطینی عرفات کی شہادت کا سبب تشدد قراردے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا مظاہروں میں تیزی آنے کوامریکی صدراوباما کے اگلے ماہ اسرائیل کے دورہ سے جوڑ رہاہے۔
اسرائیلی جیل میں فلسطینی قیدی عرفات جرادت کی شہادت کے بعد مغربی کنارے کے فلسطینی علاقوں میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور پیر کو شہید کے گاؤں سائرمیں ان کے جنازے کے موقع پر صدر محمود عباس کی پارٹی الفتح کے مسلح ونگ'' الاقصیٰ بریگیڈ''نے ان کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیاہے۔
جنازے کے دوران الاقصیٰ بریگیڈکا ایک بیان پڑھ کرسنایاگیاجس میں کہاگیاہے کہ اس خوفناک جرم کے مرتکب افرادسزا سے نہیں بچ سکیں گے،اسکا جواب دیاجائیگا۔جنازے کے موقع پرمسلح جنگجوؤں نے ہوا میں گولیاں چلائیں ،جنازے کے مشتعل شرکا نے اس موقع پرفلسطینی پرچم لہرائے۔ اس موقع پر فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ، پتھرائو اور آنسو گیس کی شیلنگ سے کئی مظاہرین زخمی بھی ہوگئے، اسرائیلی فوجی گاؤں کے باہرکھڑے رہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ جان بوجھ کرمغربی کنارہ کے علاقے میں کشیدگی کوہوا دے رہاہے۔ہم امن اوراپنے قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں،اسرائیلی اس علاقے میں انتشارپھیلاناچاہتے ہیں ہم ان کی کسی سکیم کوکامیاب نہیں ہونے دینگے۔چاہے وہ اس کیلیے کتنی ہی سخت کوششیں کرلیں ہم ایسا نہیں کرنے دینگے۔
اسرائیلی جیلوں میں بھوک ہڑتال کرنیوالے فلسطینی قیدیوں کی حمایت میں کئی ہفتوں سے مظاہرے ہورہے ہیں جن میں 30 سالہ قیدی عرفات کی ہلاکت کے بعد شدت آگئی ہے۔فلسطینی عرفات کی شہادت کا سبب تشدد قراردے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا مظاہروں میں تیزی آنے کوامریکی صدراوباما کے اگلے ماہ اسرائیل کے دورہ سے جوڑ رہاہے۔