شام جھڑپوں اور بمباری سے70 افراد ہلاک باغیوں نے ہیلی کاپٹر مار گرایا

حلب کے قریب ملٹری اکیڈمی پرقبضے کی لڑائی میں 46افراد مارے گئے، گولاباری سے چرچ تباہ، بشارالاسدحکومت مذاکرات پرآمادہ.

اپوزیشن نے آج کے روم اجلاس کا بائیکاٹ کردیا،فیصلہ واپس لیاجائے،جان کیری،سلامتی کونسل ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوگئی، نوی پلے. فوٹو: اے ایف پی

شام میںپیرکوجاری رہنے والی جھڑپوں، بمباری اور تشددکی دیگرکارروائیوں میں کم ازکم مزید 70 افرادہلاک ہوگئے .

ان میں 16باغیوں ،30 سرکاری فوجیوں سمیت 46افراد خان آسل کے قریب ملٹری اکیڈمی پر قبضے کیلیے ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے۔باغیوں نے ایک ہیلی کاپٹرمارگرایا۔ اپوزیشن نے شامی فوج پران کی ہلاکت کا الزام لگایاہے۔شامی حکومت نے اتوارکوحلب پر اسکڈمیزائل سے حملے کی تردیدکی ہے۔اس حملے میں 58 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔دمشق میں سرکاری فوج کی گولاباری میں ایک چرچ تباہ ہوگیا۔بشارالاسدحکومت نے باغیوں کیساتھ مذاکرات پرآمادگی ظاہرکردی ہے۔




یہ اعلان ماسکومیں وزیر خارجہ ولیدمعلم نے روسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کیا۔ شامی اپوزیشن نے ملک میں خونریزی رکوانے میں ناکامی کا الزام لگاتے ہوئے روم میں ہونے والے فرینڈزآف سیریا کے رکن11ممالک کے آج ہونیوالے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیاہے۔فری سیریئین آرمی کے سربراہ سالم ادریس نے کہاہے کہ مذاکرات سے قبل صدربشارالاسدکواقتدارسے الگ اورسرکاری فوج کوتمام شہروں سے واپس بلایا جائے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے شامی اپوزیشن پرزوردیاہے کہ وہ روم کے اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرے ۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سربراہ نوی پلے نے کہاہے کہ سلامتی کونسل شام میں خوریزی بندکرانے میں ناکام ہوگئی ہے۔دوسال سے شام میں قتل وغارت جاری ہے لیکن عالمی برادری اپنی ذمے داری میں ناکام نظرآتی ہے۔ بلجیئم کے وزیرخارجہ دائیدررینڈیرز جوان دنوں اردن کے دورے پرہیں نے شام کے بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے کیلیے صدربشارالاسدکومذاکرات سے الگ رکھنے کا مطالبہ کیاہے۔
Load Next Story