امریکا کا سی پیک پر اعتراض
متنازعہ علاقے سے امریکا کی مراد کشمیر ہے تو امریکا کو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ کیوں نظر نہیں آتا
سی پیک کے باعث مسئلہ کشمیر پر چین کا اصولی موقف بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ فوٹو: فائل
پاکستان چین کے تعاون سے بنائے جانے والے سی پیک ون روڈ ون بیلٹ منصوبے سے ملکی تعمیر و ترقی کی خوشگوار امید رکھتا ہے مگر ہمارے دشمن اس منصوبے کو پروان چڑھتا نہیں دیکھنا چاہتے بلکہ اس کی راہ میں ہر ممکن رکاوٹ اور کھنڈت ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا سب سے بڑا مخالف تو ظاہر ہے کہ بھارت ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اب دنیا کا اکلوتا سپر پاور امریکا بھی ہمارے ازلی دشمن کی زبان بولنے لگا ہے۔
امریکا نے سی پیک پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ متنازعہ علاقے سے گزر رہا ہے۔ متنازعہ علاقے سے امریکا کی مراد کشمیر ہے تو امریکا کو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ کیوں نظر نہیں آتا حالانکہ یہ تنازعہ سال ہا سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ لیکن پاکستان اور چین نے امریکا کا یہ اعتراض مسترد کر دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈانفورڈنے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر امریکی قانون سازوں کو پاک چین اقتصادی راہداری اور خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی سڑکیں اور گزرگاہیں موجود ہیں تاہم کسی ملک کو صرف ایک گزرگاہ اور ایک سڑک کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے لہذا امریکا ون بیلٹ ون روڈ کی مخالفت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا امریکا کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے اس منصوبے کا ایک حصہ سی پیک کشمیر سے ہوکر گزرے گا جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جو خود کسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے اس طرح سے وہ خود ہی اپنی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔
امریکا کی طرف سے اس بیان پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ستر سال سے واویلا کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اس ریاست کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے جو ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں مگر بھارت نے وہاں سات لاکھ فوج مسلط کر رکھی ہے جو نہتے کشمیریوں پر رات دن ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑتی رہتی ہے اور پیلٹ گن کی فائرنگ سے انھوں نے بے شمار لڑکوں لڑکیوں کی آنکھیں پھوڑ کر انھیں نا بینا کر دیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشگردی کے نکتہ پر امریکا اور چین مل کر افغانستان میں کام کر سکتے ہیں۔ جیمز میٹس نے بیجنگ سے متعلق خبردار کیا کہ امریکا کو چین کے بارے میں کسی ابہام میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ حکمت عملی کے تناظر میں ایک سمت ایسی ہے جہاں امریکا اور چین ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ پاکستان نے سی پیک پر امریکی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کی ترقی کا منصوبہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی وزیر دفاع کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک خطے کی ترقی، رابطے اور عوام کی فلاح کا منصوبہ ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور بھارتی فوج کشمیر میں سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے لہٰذا عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا نوٹس لے۔ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہے اور یہ قراردادیں کشمیریوں کے لیے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سی پیک کے حوالے سے تو امریکا کو کشمیر کا متنازعہ علاقہ نظر آ گیا ہے مگر مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ نظر نہیں آیا۔ ادھرچینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو اقوام متحدہ کی تائید حاصل ہے جب کہ سی پیک کے باعث مسئلہ کشمیر پر اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں اور اس کا علاقائی خودمختاری کے تنازعات سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
سی پیک کے باعث مسئلہ کشمیر پر چین کا اصولی موقف بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے چینی ترجمان نے کہا کہ یہ تو محض ایک اہم بین الاقوامی عوامی منصوبہ ہے۔ یہ متعلقہ ممالک کے ساتھ چین کے تعاون کا اہم اور جامع ترقیاتی پلیٹ فارم ہے۔ سو سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس میں شامل ہیں اور بھرپور حمایت کر رہی ہیں۔ ستر سے زیادہ ممالک اور عالمی تنظیموں نے ون بیلٹ ون روڈ پر چین کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اسے اپنی اہم قراردادوں میں بھی شامل کیا ہے۔ بہرحال امریکا نے پہلی بار سی پیک کی کھلی مخالفت کی ہے' یوں دیکھا جائے تو پاکستان اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور چین کے درمیان چپقلش بھی بڑھے گی۔
امریکا نے سی پیک پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ متنازعہ علاقے سے گزر رہا ہے۔ متنازعہ علاقے سے امریکا کی مراد کشمیر ہے تو امریکا کو مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ کیوں نظر نہیں آتا حالانکہ یہ تنازعہ سال ہا سال سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ لیکن پاکستان اور چین نے امریکا کا یہ اعتراض مسترد کر دیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل جوزف ڈانفورڈنے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر امریکی قانون سازوں کو پاک چین اقتصادی راہداری اور خطے کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا بھر میں کئی سڑکیں اور گزرگاہیں موجود ہیں تاہم کسی ملک کو صرف ایک گزرگاہ اور ایک سڑک کے ذریعے اپنی اجارہ داری قائم نہیں کرنی چاہیے لہذا امریکا ون بیلٹ ون روڈ کی مخالفت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا امریکا کی جانب سے اس منصوبے کی مخالفت کی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان سے گزرنے والے اس منصوبے کا ایک حصہ سی پیک کشمیر سے ہوکر گزرے گا جو کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جو خود کسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے اس طرح سے وہ خود ہی اپنی کمزوری کو ظاہر کر رہا ہے۔
امریکا کی طرف سے اس بیان پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان ستر سال سے واویلا کر رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ اس ریاست کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں کی ہے جو ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں مگر بھارت نے وہاں سات لاکھ فوج مسلط کر رکھی ہے جو نہتے کشمیریوں پر رات دن ظلم و تشدد کے پہاڑ توڑتی رہتی ہے اور پیلٹ گن کی فائرنگ سے انھوں نے بے شمار لڑکوں لڑکیوں کی آنکھیں پھوڑ کر انھیں نا بینا کر دیا ہے۔
پاکستان نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشگردی کے نکتہ پر امریکا اور چین مل کر افغانستان میں کام کر سکتے ہیں۔ جیمز میٹس نے بیجنگ سے متعلق خبردار کیا کہ امریکا کو چین کے بارے میں کسی ابہام میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ حکمت عملی کے تناظر میں ایک سمت ایسی ہے جہاں امریکا اور چین ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ پاکستان نے سی پیک پر امریکی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ خطے کی ترقی کا منصوبہ ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکی وزیر دفاع کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک خطے کی ترقی، رابطے اور عوام کی فلاح کا منصوبہ ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور بھارتی فوج کشمیر میں سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے لہٰذا عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی بربریت کا نوٹس لے۔ مقبوضہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت ہے اور یہ قراردادیں کشمیریوں کے لیے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرتی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سی پیک کے حوالے سے تو امریکا کو کشمیر کا متنازعہ علاقہ نظر آ گیا ہے مگر مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ نظر نہیں آیا۔ ادھرچینی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کو اقوام متحدہ کی تائید حاصل ہے جب کہ سی پیک کے باعث مسئلہ کشمیر پر اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہم نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کسی تیسرے فریق کے خلاف نہیں اور اس کا علاقائی خودمختاری کے تنازعات سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
سی پیک کے باعث مسئلہ کشمیر پر چین کا اصولی موقف بھی تبدیل نہیں ہو گا۔ ون بیلٹ ون روڈ کے ذریعے دنیا پر اجارہ داری قائم کرنے کے امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے چینی ترجمان نے کہا کہ یہ تو محض ایک اہم بین الاقوامی عوامی منصوبہ ہے۔ یہ متعلقہ ممالک کے ساتھ چین کے تعاون کا اہم اور جامع ترقیاتی پلیٹ فارم ہے۔ سو سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس میں شامل ہیں اور بھرپور حمایت کر رہی ہیں۔ ستر سے زیادہ ممالک اور عالمی تنظیموں نے ون بیلٹ ون روڈ پر چین کے ساتھ تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے اسے اپنی اہم قراردادوں میں بھی شامل کیا ہے۔ بہرحال امریکا نے پہلی بار سی پیک کی کھلی مخالفت کی ہے' یوں دیکھا جائے تو پاکستان اور امریکا کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکا اور چین کے درمیان چپقلش بھی بڑھے گی۔