لیاقت علی100 میٹر دوڑ کے پہلے مرحلے ہی میں باہر
پاکستانی ایتھلیٹ نے ریس10.9سیکنڈز میں مکمل کی،7پلیئرز میں چوتھے نمبر پر آئے
پاکستانی ایتھلیٹ نے ریس10.9سیکنڈز میں مکمل کی،7پلیئرز میں چوتھے نمبر پر آئے. فوٹو رائٹرز
HYDERABAD:
پاکستان کے تیز ترین ایتھیلٹ لیاقت علی لندن گیمز100 میٹر دوڑ ہیٹ کے پہلے مرحلے ہی میں باہر ہو گئے ہیں،انھوں نے ریس10.9 سیکنڈز میں مکمل کی اور7 کھلاڑیوں میں چوتھے نمبر پر آئے،وہ صرف 0.01سیکنڈ سے پہلے راؤنڈ کیلیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہے۔ یاد رہے کہ لیاقت علی 100میٹرز میں پاکستان کے ریکارڈ ہولڈر ہیں،اپریل 2011 میں لاہور میں منعقدہ قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں انھوں نے 10.1 سیکنڈز میں ریکارڈ بنایا تھا۔
دریں اثنا ایک انٹرویو میں لیاقت علی نے کہا کہ اولمپکس میں شرکت کسی بھی کھلاڑی کیلیے اعزاز ہے، جب میں ایتھلیٹکس میں آیا تو اس وقت سے یہ خواہش تھی کہ دنیا کے سب سے بڑے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کرسکوں، خواہش پوری ہونے کی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ لیاقت علی پہلے ہاکی کھیلتے تھے تاہم کوچ نے انھیں ایتھلیٹکس میں صلاحیتیں آزمانے کا مشورہ دیا۔ وہ اولمپکس میں دنیا کے صف اول کے ایتھلیٹس کو اپنے قریب دیکھنے پر نازاں ہیں،
انھوں نے کہا کہ میں یوسین بولٹ سے پہلے بھی ملاقات کر کے مفید مشورے لے چکا ہوں، میں نے انکے کوچنگ اسٹاف سے بھی بات کی،ان کے ٹریننگ پروگرام اور سہولتوں کا ہم مقابلہ ہی نہیں کرسکتے۔ دریں اثنا پاکستانی خاتون ایتھلیٹ رابعہ بدھ کو 800 میٹر ریس کے دوران ایکشن میں نظر آئینگی، وہ انفرادی مقابلوں میں شرکت کی منتظر واحد ملکی پلیئر ہیں۔
پاکستان کے تیز ترین ایتھیلٹ لیاقت علی لندن گیمز100 میٹر دوڑ ہیٹ کے پہلے مرحلے ہی میں باہر ہو گئے ہیں،انھوں نے ریس10.9 سیکنڈز میں مکمل کی اور7 کھلاڑیوں میں چوتھے نمبر پر آئے،وہ صرف 0.01سیکنڈ سے پہلے راؤنڈ کیلیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہے۔ یاد رہے کہ لیاقت علی 100میٹرز میں پاکستان کے ریکارڈ ہولڈر ہیں،اپریل 2011 میں لاہور میں منعقدہ قومی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں انھوں نے 10.1 سیکنڈز میں ریکارڈ بنایا تھا۔
دریں اثنا ایک انٹرویو میں لیاقت علی نے کہا کہ اولمپکس میں شرکت کسی بھی کھلاڑی کیلیے اعزاز ہے، جب میں ایتھلیٹکس میں آیا تو اس وقت سے یہ خواہش تھی کہ دنیا کے سب سے بڑے مقابلے میں اپنے ملک کی نمائندگی کرسکوں، خواہش پوری ہونے کی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ لیاقت علی پہلے ہاکی کھیلتے تھے تاہم کوچ نے انھیں ایتھلیٹکس میں صلاحیتیں آزمانے کا مشورہ دیا۔ وہ اولمپکس میں دنیا کے صف اول کے ایتھلیٹس کو اپنے قریب دیکھنے پر نازاں ہیں،
انھوں نے کہا کہ میں یوسین بولٹ سے پہلے بھی ملاقات کر کے مفید مشورے لے چکا ہوں، میں نے انکے کوچنگ اسٹاف سے بھی بات کی،ان کے ٹریننگ پروگرام اور سہولتوں کا ہم مقابلہ ہی نہیں کرسکتے۔ دریں اثنا پاکستانی خاتون ایتھلیٹ رابعہ بدھ کو 800 میٹر ریس کے دوران ایکشن میں نظر آئینگی، وہ انفرادی مقابلوں میں شرکت کی منتظر واحد ملکی پلیئر ہیں۔