ایسا ہوتا رہے گا

ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک اس ملک پر اشرافیہ کا راج ہوگا اور ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت قائم نہیں ہوگی

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہم 70 برسوں سے ہنگامی حالات اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں اور یہ جاری رہے گا کیونکہ ہمارے سیاست دانوں میں اقتدار کی بھوک ہمیشہ اس قدر شدید رہی ہے جس کا نتیجہ عدم استحکام کی شکل میں ہمارے سامنے آتا رہا۔ 1947سے 1958 تک پاکستان کی سیاست پر جاگیردار طبقہ چھایا رہا اور اقتدار کے کھیل میں ریفری بنا رہا، یہی نہیں بلکہ وہ اس کھیل میں اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو پنڈی میں قتل کرادیا۔

اس قتل کے بعد ایک افرا تفری مچنا فطری تھا۔ پھر وزیراعظم اور حکومتیں کپڑوں کی طرح بدلتی رہیں، خواجہ ناظم الدین جیسے شریف انسان کو بے آبروئی سے وزارت عظمیٰ سے ہٹایا گیا۔ حسین شہید سہروردی جیسا جمہوریت پسند اور محب وطن خوار ہوتا رہا، محمد علی بوگرہ کو سفارت کے عہدے سے ہٹاکر وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔

چوہدری محمد علی جیسے بیوروکریٹ کو وزیراعظم بنا دیا گیا ۔ بات کرنے سے معذور ملک غلام محمد یہ سب کھیل کھیلتا رہا۔ اسکندر مرزا گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے، فیروز خان نون ان کے وزیراعظم رہے۔ یہ سیاسی بازی گری اس حد تک بڑھ گئی کہ 1958 میں جنرل ایوب خان نے اس لولی لنگڑی جمہوریت کا تیاپانچہ کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ یوں سیاست میں فوجی بیوروکریسی کی مداخلت کا آغاز ہوا۔

بھٹو صاحب ایوب حکومت میں وزیر بنے اور ان کی شہرت کا آغاز ان کے وزیر خارجہ بننے اور 1965 میں بھارتی حملے کے بعد ایوب خان کے معاہدۂ تاشقند کی شدت سے مخالفت کرنے سے ہوا ۔بھٹو نے اس معاہدے کے خلاف وہ طوفان اٹھایا کہ ایوب خان کی اپنی حکومت لرزنے لگی۔ ایوب خان نے اپنے دور میں مزدوروں پر بڑے ظلم کیے، ویسے بھی ایوب خان کولمبو پلان سے بننے والے سرمائے کی بدولت ملک میں ہونے والی صنعتی ترقی سے اپنے پیر جمانے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کے مظالم سے عوام بہر حال بیزار تھے۔1968 میں ان کی آمریت کے خلاف تحریک چلی۔ یوں ایوب خان نے بڑی بے آبروئی کے ساتھ اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کیا۔

1970 میں یحییٰ خان نے ملک میں عام انتخاب کرائے۔ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی انتخابات جیتی، مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ بھاری اکثریت سے جیت گئی۔ جمہوری قدروں کے مطابق مرکز میں حکومت بنانے کا اختیار عوامی لیگ کو ملا لیکن مغربی پاکستان میں بھٹو کو یہ گوارا نہ تھا ۔ سو انھوں نے اقتدار عوامی لیگ کے حوالے کرنے کے بجائے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ فوجی بیوروکریسی اور وڈیرہ شاہی کی حمایت سے بلند کیا۔ یوں 1971 میں پاکستان ٹوٹ گیا۔ بھٹو باقی ماندہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے جو ان کی پہلی اور آخری خواہش تھی۔


بھٹو جن دوستوں کی فکری اعانت سے برسر اقتدار آئے تھے اور برسر اقتدار آنے سے پہلے مزدور، کسان راج کی باتیں کرتے تھے بہت جلد ان نعروں سے دست بردار ہوگئے اور ان دوستوں کو الگ کردیا جن کی ترقی پسندانہ سیاست سے وہ عوام میں مقبول ہوئے تھے اور وڈیروں کی گرفت ان پر مضبوط ہوتی چلی گئی اس دوران دو بار ہماری بھٹو سے ملاقات ہوئی اور ہم نے ایک بار مزدوروں کے مسائل پر بات کی، دوسری بار جب وہ شملہ جارہے تھے تو انھوں نے ملک کے ممتاز حلقوں سے مشورہ شروع کیا اس موقعے پر ہماری بھٹو سے وفد کی شکل میں ملاقات ہوئی لیکن یہ بدلے ہوئے بھٹو سے ملاقات ثابت ہوئی۔

1977 میں ہمارے جمہوری ''مجاہدین''نے پنجاب میں انتخابی دھاندلی کے نام پر تحریک شروع کی اور یہ تحریک عوام کی ناراضی کے ساتھ ساتھ امریکی ڈالروں سے اتنی آتش فشاں ہوگئی کہ بھٹو اس میں جل گئے۔ بھٹو کو پھانسی دے کر تیسرا جنرل ضیا الحق اقتدار پر قابض ہوگیا اور چند سیٹوں پر دھاندلی کو جمہوریت کی توہین کہنے والے آمر ضیا الحق کی حکومت کا حصہ بن گئے۔

ضیا الحق ایک انتہائی خود غرض آمر تھا اور عقل سے بھی پیدل تھا اس نے روس کو افغانستان سے نکالنے کی امریکی مہم میں پاکستان کو اس طرح پھنسادیا کہ آج پاکستان سمیت ساری دنیا جس بلائے عظیم یعنی دہشت گردی کے عذاب میں مبتلا ہے، اس کی ذمے داری ضیا الحق اور اس کے مربی امریکا پر ہی آتی ہے، اگر ضیا الحق فضائی حادثے کا شکار نہ ہوتے تو خدا جانے پاکستان کا کیا حشر ہوتا۔ ضیا الحق کا 11 سالہ دور ظلم و جبر کا دور تھا خاص طور پر پیپلزپارٹی پر ضیا الحق نے بہت ظلم ڈھائے اور ترقی پسند کارکنوں کو سخت اذیتیں دیں۔

ضیا الحق کے بعد 1988 سے 2017 تک جو حکومتیں بنیں ان میں سے جنرل پرویز مشرف کے 10 سال نکال دیے جائیں تو 29 سال اس ملک پر سیاست دانوں کی جمہوری حکومتیں قائم رہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو حکومت کو دو بار کرپشن کے الزام میں سول صدور نے حکومت سے نکالا ۔ نواز شریف تیسری بار اقتدار پر براجمان ہیں ان کی پہلی حکومت کو سویلین صدر نے کرپشن کے الزامات پر ختم کیا ان کی دوسری حکومت کو جنرل مشرف نے مارشل لا لگاکر ختم کیا۔

نواز شریف آٹھ سال ملک سے باہر رہے اور بے نظیر کی عاقلانہ سیاست کی وجہ سے انھیں وطن واپس آنے اور سیاست میں حصہ لینے کا موقع ملا، لیکن مرحومہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان عداوتوں کا عالم یہ رہا کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ ملک کی وزیراعظم کی لاہور آمد پر غیر حاضر رہتا تھا۔

بے نظیر بھٹو کی بے وقت شہادت کی وجہ سے ان کے شوہر اقتدار میں آئے لیکن ان کی پانچ سالہ دور کو کرپشن کا دورکہا جاتا ہے۔ 2013 کے الیکشن جیت کر نواز شریف وزیراعظم بنے لیکن باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان پر اور ان کے خاندان پر اربوں ڈالر کی کرپشن کے الزامات ہیں عدالتوں میں ریفرنسز داخل ہیں۔ ان کے برادرِ خورد میاں شہباز شریف پر 2014 میں طاہر القادری کے 14 کارکنوں کے قتل کے الزامات میں مقدمات دائر ہیں۔ یہ ہے 70 سال کی سیاسی اور فوجی حکومتوں کی کارکردگی کا مختصر حاصل، ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک اس ملک پر اشرافیہ کا راج ہوگا اور ملک میں حقیقی عوامی جمہوریت قائم نہیں ہوگی جس میں حکومتیں عوام کی ہوںگی، عوام کے لیے ہوںگی اور عوام کے ذریعے نہیں ہوںگی۔
Load Next Story