یہ گھپ اندھیرے کیوں

ان بے صبرے رشوت خوروں کی عقل ماری گئی تھی کہ انھیں اپنے ذریعہ روز گار کی فکر بھی نہ رہی

Abdulqhasan@hotmail.com

محترمہ پیپلز پارٹی جاتے جاتے اپنے بچے کھچے جلوے دکھا رہی ہے بلکہ یوں کہیں کہ پہلی کسریں نکال رہی ہے، اس وقت بھی دو دن گزرنے پر بھی ملک کا ایک خاصا حصہ بجلی سے محروم ہے۔ اس کی مبارک سابق وزیر بجلی اور موجودہ وزیراعظم جناب پرویز اشرف کو دینی چاہیے لیکن اصل مبارک کی مستحق خود پیپلز پارٹی ہے جو ملک کے تمام شعبوں میں ایسے جلوے دکھاتی رہی ہے اور اب تک دکھائے چلی جا رہی ہے۔ خدا سلامت رکھے اس کے رہنمائوں کو جن میں چھوٹے بڑے سبھی شامل ہیں کہ گزشتہ پانچ سالہ اقتدار میں انھوں نے ملک چلانے میں جس ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اتنی خرابیاں پیدا کر دی ہیں کہ ان کے ازالے کے لیے زیادہ نہیں تو دس برس کا عرصہ درکار ہے اور اس عرصے میں دو ایسی حکومتیں جن میں خوف خدا ہو یا نہ ہو خوف عوام ضرور ہو۔

بھائی مجیب شامی ٹی وی کے ایک پروگرام میں بتا رہے تھے کہ محکمہ بجلی کے انجینئروں کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ انتظامیہ سے تمام افسروں کو محکمہ بجلی کے مختلف تکنیکی شعبوں کا انچارج بنا دیا گیا ہے اور یہ بھی ان کا ایڈیشنل چارج ہے۔ اصل ذمے داری ان کی پرانی ہے۔ مزید معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ کام ایک منظم طریقے سے اور سنبھل کر کیا گیا ہے کیونکہ رینٹل پاور قسم کے بدنام زمانہ کرتوتوں کو یہ انجینئر شاید خوش دلی کے ساتھ انجام نہ دیں اور اپنے محکمے اور اصل ذمے داریوں کا حیا کر جائیں۔ رشوت کس محکمے یا سرکاری شعبے میں نہیں ہے، مدتوں سے چلی آ رہی ہے لیکن ایک رکھ رکھائو کے ساتھ کہ رشوت بھی چلتی رہے اور رشوت پیدا کرنے والا محکمہ بھی زندہ سلامت رہے مگر ہمارے نئے رشوت خور ایسے آئے کہ انھوں نے سونے کے انڈے دینے والی مرغیوں کا قتل عام بھی شروع کر دیا۔

ان بے صبرے رشوت خوروں کی عقل ماری گئی تھی کہ انھیں اپنے ذریعہ روز گار کی فکر بھی نہ رہی لیکن ان کی تاریخی بدعنوانیوں کی سزا اس قوم کو مل رہی ہے جو ان اندھیروں میں گھروں کے گم شدہ راستے تلاش کر رہی ہے۔ ہم اپنے ایک شاعر کے بقول تاریک راہوں میں مارے جانے والے لوگ ہیں۔ اس پارٹی کے بانی اور دوسری لیڈر بے نظیر میں ایک سلیقہ تھا۔ کچھ رکھ رکھائو تھا۔ باہر کی شرم و حیا بھی تھی اور یہ بات بھی کہ لوگ کیا کہیں گے مگر ان کی جانشین ایک ایسی نسل آ گئی کہ الٹے لوگ ان سے شرمانے لگ گئے ہیں۔ ان لوگوں نے رشوت کا بازار گرم ہی نہیں کیا اسے گویا آگ لگا دی ہے اور یہی وہ آگ ہے جس میں یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جل رہی ہے اور اس کا دھواں اور بدبو دنیا میں پھیل گئی ہے۔


ہمیں تو اب وہ ادارے بھی قرض نہیں دیتے جو بنائے ہی قرض دینے اور کمزور ملکوں کو قابو کرنے کے لیے تھے اور پاکستان ان میں سر فہرست تھا۔ اور تو اور ابھی کل کی بات ہے کہ ابوظہبی جیسا قدیمی دوست اور مہربان ملک بھی 45 ارب ڈالر کا وعدہ کر کے مکر گیا۔ ایک پاکستانی نے اس پر افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے حساب میں تو اس قرض سے میرے حصے میں بھی 45 ہزار روپے آ رہے تھے جو مارے گئے۔ ماری تو پوری قوم گئی ہے جو عالم خیال میں دنیا کے سب سے بلند میناروں پر چڑھ اتر رہی تھی، شکر ہے کہ ملک صاحب نے قوم کو تسلی دلائی ہے کہ جلد ہی دنیا کے چند بڑے سرمایہ کار اس سے بھی زیادہ رقم کے تعاون کا اعلان کریں گے۔ اب قوم جلد ہی کسی بڑی خوشخبری کا انتظار کرے اور اب یہ خوشخبری پکی ہو گی۔ خوش فہم ملک صاحب بھی ہوشیار ہو گئے ہیں۔

ملک کو بچانے اور باقی رکھنے کے لیے پاکستان کے زندہ بزرگوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ حکومت کو بدل دیا جائے اور وہ بھی بذریعہ الیکشن۔ ہم پاکستانی چار بار حکومتوں کو بذریعہ فوجی انقلاب بدل چکے ہیں اور ہر بار مار کھائی ہے، بس تھوڑی سی گنجائش ایوب مارشل لاء کی تھی لیکن ایوب خاں کے محدود ذہن نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دینے کا بندوبست کر دیا تھا بہر حال حکومت وہی جس کی تبدیلی میں عوام براہ راست شامل ہوں اور ایسی حکومت قائم کرنے کا اب تک کا مسلمہ طریقہ الیکشن ہے جس میں لوگ اپنی مرضی سے ووٹ دیتے ہیں۔ مرضی کے ووٹ تو موجودہ حکومت کو بھی دیے تھے لیکن کچھ بھول ہو گئی تھی اس خوشدلانہ ووٹ کا نتیجہ وہ نہ نکل سکا جس کی امید اور خواہش تھی، الیکشن کی حد تک نا تجربہ کار قوم مار کھا گئی اور شاید اس میں قوم کا اتنا قصور بھی نہ تھا، حالات اور نا تجربہ کاری کا زیادہ دخل تھا۔

پرویز مشرف کے طویل اور خطر ناک مارشل لاء کے بعد جب قوم کے ہوش و حواس سن ہو گئے تھے تو قوم کو الیکشن کے مشکل فیصلے میں ڈال دیا گیا چنانچہ جس کی مرضی میں جو آیا وہ ووٹ دیتا گیا، اس کے نتیجے میں حکمران پارٹی کی جو اپوزیشن بھی بنی، وہ بھی فرینڈلی یعنی دوستانہ۔ اگر دوستی کرنی ہو تو پھر اپوزیشن کس بات کی اور اگر اپوزیشن کرنی ہو تو پھر دوستی کس بات کی لیکن ہمارے ہاں ایسا ہی ہوا اور یہ بھی میرے خیال میں ہماری جمہوریت سے ناواقفی کا ایک نتیجہ تھا کہ بازوئوں پر کالی پٹی باندھ کر وزارت کا حلف لیا جب کہ یہ پٹی آنکھوں پر بندھی ہونی چاہیے تھی یا عقل پر۔ ہماری اس نا تجربہ کاری کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم سب کچھ رکھتے ہوئے بھی گھپ اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور کوئی راستہ سمجھائی نہیں دے رہا۔ بس اب ایک ہی راستہ بتایا جا رہا ہے اور وہ ہے الیکشن کا، خدا کرے ہم اس راستے کو بھی عقل کے اندھیروں میں کہیں گم نہ کر دیں۔
Load Next Story