امریکا پر انحصار نہ کرنے کا عہد

مودی پاکستان کو دو لخت کرنے کا اعلان با انداز تفاخر بنگلہ دیش میں کرچکے ہیں

مودی پاکستان کو دو لخت کرنے کا اعلان با انداز تفاخر بنگلہ دیش میں کرچکے ہیں.فوٹو : فائل

KARACHI:
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فوجی اور دیگر ضروریات کے لیے پاکستان کا امریکا پر انحصار باقی نہیں رہا، اگر ضرورت پڑی تو دیگر ذرایع کو بروئے کار لایا جائے گا، پاکستان پر لگائی جانے والی ہر قسم کی پابندی نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ کو متاثر کرے گی بلکہ اس سے خطے میں بھی عدم استحکام پیدا ہوگا، دنیا کو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کی کوششیں تسلیم کرنا چاہیے، افغانستان کے معاملات میں بھارت کو شامل کرنے کی امریکی خواہش کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے، ہم یہاں پر بھارت کا کردار نہیں دیکھتے۔

وزیراعظم کا مذکورہ انٹرویو اس بات کا واشگاف اعلان ہے کہ پاکستان ماضی کو بھلا کر مستقبل کی طرف گرم سفر ہونے کا تہیہ کرچکا ہے اور امریکا پر انحصار کے دن گزرنے کی خوشخبری قوم کے لیے خود انحصاری کی پالیسی پر گامزن ہونے کی نوید جان فزا ہے مگر پاک امریکا تعلقات کی تاریخ ہمارے حکمرانوں کے لیے ایک نصاب کا درجہ رکھتی آئی ہے، سابق صدر ہیری ٹرومین سے لے کر صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پاکستان نے امریکی دوستی میں بہت کچھ پایا مگر بہت کچھ کھویا بھی ہے، نائن الیون کے واقعے نے امریکا اور جنوبی ایشیا و برصغیر سمیت پوری دنیا کی سیاست، معیشت، تزویراتی جدلیات کو تہ و بالا کیا،اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی اور اس کی تلاش میں افغان معاشرے کا جو حشر نشر بش نے کیا وہ تاریخ کا درد انگیز باب ہے، دہشتگردی کے عفریت نے دنیا کو اپنے شکنجوں میں جکڑ رکھا ہے اس کا سبب امریکی توسیع پسندی، اسلام دشمنی اور سامراجی پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔

پاکستان کے ارباب اختیار امریکا پر تکیہ نہ کرنے کی بات کرتے ہوئے اس حقیقت کو پیش نظر رکھیں کہ بھارت کو جن عزائم کے ساتھ افغان پالیسی میں بالادست کردار سونپا جارہا ہے وہ پاکستان کی سالمیت کے ادراک سے امریکا کا تجاہل عارفانہ ہی نہیں بلکہ ایک گھناؤنا منصوبہ ہے، اگر بھارت کے کندھے پر بندوق رکھ کر ٹرمپ انتظامیہ افغانستان فتح کرنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے تو اس کے ہولناک نتائج برآمد ہوںگے، بھارتی وزیراعظم مودی پاکستان کو دو لخت کرنے کا اعلان با انداز تفاخر بنگلہ دیش میں کرچکے ہیں، اس لیے پاکستان بھارتی سوراخ سے دوبارہ ڈسے جانے پر تیار ہوگا اور نہ کسی طاقت سے اپنی سالمیت پر سمجھوتہ کرے گا، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جو بیباکانہ گفتگو اخبار سے کی ہے وہ قومی امنگوں کی مکمل ترجمانی ہے اور وہ دن یادگار ہوگا جب قومی حمیت اور آزاد خارجہ پالیسی کسی سپر پاور کی کاسہ لیسی کی مرہون منت نہیں ہوگی۔

ملکی سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کو سیسہ پلائی ہوئی دیواربننا ہوگا۔ مادر وطن کے ایٹمی طاقت بننے کی راہ میں چار جانب سے دھمکیاں ملیں، اور مزاحمت، ترغیبات اور ایٹمی ہتھیاروں کے دہشتگردوں کے ہاتھ لگنے کے پروپیگنڈہ سے لے کر فوجی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں دی جانے والی امریکی امداد بغیر شرائط کے نہیں ملی ، ہمیں تو ایف16کی ترسیل بھی پیسے دینے کے باوجود کٹھائی میں ڈال دی گئی۔ کیری لوگر بل کے ذریعے ہماری سلامتی کو چیلنجز سے دوچار کیا گیا پھر 2 مئی2011 کے ایبٹ آباد واقعے نے صورتحال بدل کر رکھ دی۔ آج پاکستان کو خطے میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، ہماری مسلح افواج نے دہشتگردی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کیا اس سے نمٹنے میں سنگ میل عبور کیے۔


مگر افسوس دنیا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ اگر ایک ذریعہ ختم ہوجاتا ہے تو ہمارے پاس کسی دوسرے ذریعے سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں، اس کے لیے زیادہ لاگت اور زیادہ وسائل درکار ہو سکتے ہیں لیکن ہم نے دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھنی ہے چنانچہ ملکی نظام پر عائد کردہ کسی بھی قسم کی پابندیاں یا رکاوٹیں نہ صرف دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کاوشوں کو کمزور کریں گی بلکہ ان سے خطے کا توازن بھی متاثر ہوگا، وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ ہماری فوج کے پاس ہتھیاروں کا بڑا نظام امریکی ہے لیکن ہم نے اسے متنوع بنایا ہے، ہمارے پاس اب چینی اور یورپی نظام موجود ہیں، حال ہی میں پہلی مرتبہ ہم نے روسی لڑاکا ہیلی کاپٹر بھی نظام میں شامل کیے ہیں، حکومت کے لیے یہ ایک پیچیدہ کام تھا جس میں دہشتگردی، توانائی کی قلت اور معاشی و علاقائی عدم استحکام جیسے مقامی اور بین الاقوامی چیلنجز کا سامنا تھا۔

پاکستان کو دنیا کے بڑے اور جوہری ممالک میں شامل ہونے کی حیثیت سے مشکل ہمسائیگی، دہشتگردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے تنازع جیسے مسائل کا سامنا ہے، ہمارے مشرقی ہمسائے کے ساتھ کئی جنگیں ہو چکی ہیں، بھارت بھی جوہری طاقت ہے، ہمارا مقبوضہ کشمیر پر تنازع ہے جو ہمارا علاقہ ہے۔ پاکستان ہر دوسرے ملک کی طرح امریکا کے ساتھ بھی برابری کی بنیاد پر تعلقات اور شراکت داری چاہتا ہے، ہم دوٹوک انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کسی کو کسی قسم کی پناہ گاہیں فراہم نہیں کیں، آج ہمارا مشترکہ مقصد ہے کہ دہشتگردی کو نیست و نابود کیا جائے اور افغانستان میں امن لایا جائے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہم پارٹنرز ہیں اور جس کسی سے بھی ہماری ملاقات ہوئی ہم نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن کا خواہاں پاکستان سے زیادہ کوئی نہیں، وزیراعظم نے کہا دہشتگردی کے خلاف ہم سے بڑی اور اپنے وسائل سے جنگ کسی نے نہیں لڑی، پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ 120 ارب ڈالر سے زائد ہے، یہ ایک انتہائی مشکل جنگ رہی ہے لیکن ہماری فوج نے بہت اچھی طرح لڑی ہے۔

بلاشبہ پاکستان ہر ملک سے امن دوستی ، خیر سگالی، برابری اور عالمی اشتراک و تعاون پر مبنی تعلقات اور دوستی کا خواہاں ہے، مگر ساتھ ہی وہ کشمیر سمیت دیگر دیرینہ مسائل کے حل کے لیے غیر مشروط بات چیت کے اصولی موقف پر قائم ہے۔یہ حسن اتفاق ہے کہ گزشتہ روز وزیرخارجہ خواجہ آصف نے بھی یہی بات کی کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی، ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤآتے رہے ، ہرآڑے وقت میں امریکا کے کام آئے،کئی مرتبہ مایوسی ہوئی مگر پھر بھی برابری کی بنیاد پر تعلقات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں پاک امریکا تعلقات کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ امریکا کا ساتھ دینے کاخمیازہ آج بھی بھگت رہے ہیں، اس کی افغان پالیسی ناقص ہے جس کا انجام سیاسی ہوگا، تب پائیدار امن ملے گا، تاہم اس نے دباؤڈالا تو چین ، ترکی ، ایران اور روس ہمارا ساتھ دیں گے، افغان حکومت کے طالبان سے تعمیری رابطے ہیں، امریکا حقانی نیٹ ورک کی آڑمیں ہم پردباؤڈالتا ہے، امریکا کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف فوجی آپریشن کی کئی مرتبہ پیشکش کی۔ ہمارے ساتھ ہیلی کاپٹرمیں بیٹھیںاور اسلام آباد، پشاور،کوئٹہ جہاں بھی حقانی نیٹ ورک کے اڈے یاتربیت گاہیں ہیں تو ان کے خلاف مل کرآپریشن کرتے ہیں ۔

بہر کیف زمینی حقائق تلخ ہیں۔ پاکستان نے خود انحصاری کی نوید دے کر عالمی قوتوں کو بتا دیا ہے کہ خطے میں سیکیورٹی پیراڈائم اور جیو پولیٹیکل شفٹ کے پیدا شدہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے کسی ایک سپر پاور پر انحصار کرنے کی پالیسی کے دن گنے جا چکے۔اللہ کرے حکمراں اپنے اس عہد پر قائم رہیں اور وطن عزیز کی سلامتی پر کوئی حرف نہ آئے۔
Load Next Story