محکمہ صحت مائوں اور نوازئیدہ کی صحت کے پروگرام میں 2015 تک توسیع

23 مڈوائفری اسکول قائم، طالبات کی ڈیڑھ سالہ تربیت ہوگی،مقصد دوران زچگی اور حمل شرح اموات کو کم کرنا ہے،جان بدر.

منصوبے کے تحت ماؤں کی شرح اموات کوکم کرنے کے لیے زیادہ تربیت یافتہ مڈوائفیں تیار کی جائیں گی، پروجیکٹ ڈائریکٹر. فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ صحت نے کراچی سمیت سندھ میں مائوں، نوزائیدہ کی صحت کے جاری پروگرام مدر،نیوٹیشل چائلڈ ہیلتھ کے پروگرام میں توسیع کردی۔

اب صوبے میں یہ پروگرام2015تک جاری رہے گا،اس پروگرام کے تحت کراچی سمیت سندھ میں دوران زچگی ماؤں کی شرح اموات کوکم کرنا ہے،سندھ میں15فیصدگھروں میں زچگیوں کے رجحان میںکمی، 40فیصد زچگیاں اب بھی گھروں میں کی جارہی ہیں، سندھ میں ایک لاکھ میں سے314خواتین دوران زچگی زندگی کی بازی ہارجاتی ہیں تاہم اس منصوبے کے تحت ماؤںکی شرح اموات کوکم کرکے140پر لانا ہے۔

یہ بات پروگرام کی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر صاحب جان بدر نے ایکسپریس کو بتائی، انھوں نے بتایاکہ حکومت نے صوبے میں ماؤں اورنوزائیدہ کی صحت کے پروگرام میں جون 2015 تک 3 سال کیلیے توسیع کردی ہے اس توسیعی منصوبے کے تحت مائوںکی شرح اموات کوکم کرنے کیلیے زیادہ سے زیادہ تربیت یافتہ مڈوائفیں تیار کی جائیں گی،2سال کے دوران کراچی سمیت صوبے میںایک ہزار100تربیت یافتہ مڈوائف تیار ہوئی ہیں، ڈیڑھ سالہ اس کورس کے دوران زیر تربیت طالبات کوساڑھے تین ہزار روپے ماہانہ اعزازیہ بھی پروگرام کے تحت دیا جارہا ہے۔




8 سو مزید مڈوائف زیرتربیت ہیں اور رواں سال کے اختتام تک صوبے میں تربیت یافتہ مڈوائفوں کی تعداد1900 ہوجائیگی،تربیت یافتہ مڈوائفوں کو صحت کے بنیادی مراکزمیں تعینات کیاجارہا ہے جہاں ان کوتنخواہ دی جاتی ہے، تربیت یافتہ مڈوائفوںکوعلاقائی سطح پر تعینات کیاجاتا ہے جومحلوں میں جاکرگھروں میں زچگیاں نہ کرانے کی ترغیب اوردوران زچگی پیچیدگیوںکوحل کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

انھوں نے کہاکہ تین سال قبل اندرون سندھ اور کراچی کے دیہی علاقوں میں 65 فیصد زچگیاں گھروں میںکروائی جاتی تھیں تاہم اس پروگرام کے بعدگھروں میں 15 فیصد زچگیوں کے رجحان میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، انھوں نے بتایا کہ کراچی سمیت تمام اضلاع میں23مڈوائفری اسکول قائم کردیے گئے ہیں جہاں ڈیڑھ سالہ کورس میں ان طالبات کو مکمل تعلیم وتربیت دی جارہی ہے، ان اسکولوں میں طالبات کیلیے ہاسٹل بھی قائم کیے گئے ہیں۔
Load Next Story