سینیٹ سے ترمیمی بل منظور ختم نبوت کا حلف نامہ اصل حالت میں بحال
استغفراللہ! ختم نبوتؐ کیخلاف سوچ بھی نہیں سکتے، زاہد حامد
پارلیمنٹ کوکمزوربنایاجارہاہے،رضاربانی،عدالتی فیصلے الہامی نہیں،سعد رفیق۔ فوٹو: فائل
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی سے انتخابات ترمیمی بل 2017 متفقہ طورپر منظور کرلیا گیا اور ختم نبوتؐ کے حلف نامے سے متعلق شق اصل حالت میں دوبارہ بحال کردی گئی۔
گزشتہ روز وفاقی وزیرقانون زاہدحامدنے انتخابات ترمیمی بل2017 ایوان میں پیش کیا۔ اس موقع پراظہارخیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہاکہ یہ ایک تاریخی بل ہے۔ استغفراللہ! ہم ختم نبوت کیخلاف سوچ بھی نہیں سکتے، اس بارے میں فوری احساس ہوا تو اس کا تدارک کیا۔
اس موقع پر کامل آغا نے کہاکہ اتنا بڑا جرم ہوا جب تک تعین نہیں ہوگا معاملہ حل نہیں ہوگا، معاملے پرکمیشن بنا یا جائے۔ سراج الحق نے کہاکہ حکومت کے ترمیمی بل کو سپورٹ کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے حکومت سے جلد قانون میں 7b اور7c کی شقیں شامل کرنے کامطالبہ کیاجس پر وزیرقانون نے اتفاق کرتے ہوئے جلد اس پرقانون سازی کی یقین دہانی کرادی۔
بل کی پیشی کے موقع پرچیئرمین رضاربانی نے ارکان کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی، پرویز رشید اورکامل علی آغانے اظہارخیال کی کوشش کی لیکن چیئرمین سینٹ نے اجازت نہیںدی ۔چیئرمین سینٹ نے ایوان سے بل کی شق وار منظوری لی۔
علاوہ ازیں چیئرمین رضاربانی نے اجلاس کے دوران اپنے ریمارکس میں کہاکہ پارلیمنٹ ہے،جان بوجھ کرپارلیمنٹ کو بے توقیرکرنے کی باربارکوشش کی گئی، باقی ادارے مقدس ٹھہرے اورپارلیمنٹ کو کمزور بنایا جارہا ہے۔
اجلاس کے دوران پی آئی اے کے طیارے کے گم ہونے اوربیچنے کی اطلاعات پراپوزیشن ارکان نے حکومت پرشدید تنقید کی، مشاہداللہ نے کہاکہ آج وہ لوگ بھی عدالتوں سے تصادم کی بات کرتے ہی ں جن کے لیڈرخود عدالتوں سے مفرور ہیں۔ اس پرتحریک انصاف کے ممبران بینچوںسے اٹھے اور شور شرابہ کیا۔ محسن عزیز اوراعظم سواتی نشستوں سے اٹھے اور کراس ٹاک کرنے لگے۔ اپوزیشن ممبران نے اس موقع پروزیرخزانہ اسحاق ڈارکے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں اجلاس آج دوپہرڈھائی بجے تک کیلیے ملتوی کردیا گیا۔
گزشتہ روز وفاقی وزیرقانون زاہدحامدنے انتخابات ترمیمی بل2017 ایوان میں پیش کیا۔ اس موقع پراظہارخیال کرتے ہوئے وزیر قانون نے کہاکہ یہ ایک تاریخی بل ہے۔ استغفراللہ! ہم ختم نبوت کیخلاف سوچ بھی نہیں سکتے، اس بارے میں فوری احساس ہوا تو اس کا تدارک کیا۔
اس موقع پر کامل آغا نے کہاکہ اتنا بڑا جرم ہوا جب تک تعین نہیں ہوگا معاملہ حل نہیں ہوگا، معاملے پرکمیشن بنا یا جائے۔ سراج الحق نے کہاکہ حکومت کے ترمیمی بل کو سپورٹ کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے حکومت سے جلد قانون میں 7b اور7c کی شقیں شامل کرنے کامطالبہ کیاجس پر وزیرقانون نے اتفاق کرتے ہوئے جلد اس پرقانون سازی کی یقین دہانی کرادی۔
بل کی پیشی کے موقع پرچیئرمین رضاربانی نے ارکان کو بات کرنے کی اجازت نہیں دی، پرویز رشید اورکامل علی آغانے اظہارخیال کی کوشش کی لیکن چیئرمین سینٹ نے اجازت نہیںدی ۔چیئرمین سینٹ نے ایوان سے بل کی شق وار منظوری لی۔
علاوہ ازیں چیئرمین رضاربانی نے اجلاس کے دوران اپنے ریمارکس میں کہاکہ پارلیمنٹ ہے،جان بوجھ کرپارلیمنٹ کو بے توقیرکرنے کی باربارکوشش کی گئی، باقی ادارے مقدس ٹھہرے اورپارلیمنٹ کو کمزور بنایا جارہا ہے۔
اجلاس کے دوران پی آئی اے کے طیارے کے گم ہونے اوربیچنے کی اطلاعات پراپوزیشن ارکان نے حکومت پرشدید تنقید کی، مشاہداللہ نے کہاکہ آج وہ لوگ بھی عدالتوں سے تصادم کی بات کرتے ہی ں جن کے لیڈرخود عدالتوں سے مفرور ہیں۔ اس پرتحریک انصاف کے ممبران بینچوںسے اٹھے اور شور شرابہ کیا۔ محسن عزیز اوراعظم سواتی نشستوں سے اٹھے اور کراس ٹاک کرنے لگے۔ اپوزیشن ممبران نے اس موقع پروزیرخزانہ اسحاق ڈارکے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں اجلاس آج دوپہرڈھائی بجے تک کیلیے ملتوی کردیا گیا۔