لڑکی کو بازیاب کرانےمیں ناکامی پرعدالت کی پولیس پر برہمی

عدالتی احکامات موصول ہونے کے بعد اعلیٰ افسران نے لڑکی کی بازیابی کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ، ڈی ایس پی شرقی.

پولیس تاخیری حربے اختیار کررہی ہے،آخری موقع ہے، 6روز میں لڑکی کو عدالت میں پیش کیا جائے ، سیشن جج کا حکم. فوٹو: فائل

لاہور:
پولیس کی جانب سے لاپتہ لڑکی کو بازیاب کرانے میں ناکامی پر سیشن جج نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور 6روز میں لڑکی کو بازیاب کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کو ایس ایس پی ایسٹ کے نما ئندہ ڈی ایس پی شرقی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی اشرف جہاں کے روبرو پیش ہوئے، اس موقع پر ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ عدالتی احکامات موصول ہونے کے بعد اعلیٰ افسران نے لڑکی کی بازیابی کے لیے کمیٹی تشکیل دیدی ہے اور مسماۃ بشریٰ کو جلد بازیاب کرنے کی یقین دہانی کرائی ، فاضل عدالت نے شدید برہمی کا ا ظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ پولیس تاخیری حربے اختیار کررہی ہے اور معاملے کو طول دیا جارہا ہے،فاضل عدالت نے آخری موقع دیتے ہوئے لڑکی کو 5 مارچ تک بازیاب کرنے کا حکم دیا ہے۔




قبل ازیں درخواست گزار رائو وراثت علی نے سپریم کورٹ میں اپنی بہن کے لاپتہ ہونے سے متعلق درخواست دائرکی تھی جس میں موقف اختیار کیا تھا کہ اس کی 20 سالہ بہن کئی ماہ سے لاپتہ ہے ، متعلقہ تھانے اور اعلیٰ افسران سے رجوع کرنے کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی کی اور نہ ہی اس کی بہن کو بازیاب کیا گیا ، درخواست میں بہن کی بازیابی کی استدعا کی تھی،عدالت عظمیٰ نے ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج شرقی کو سماعت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے درخواست فاضل عدالت میں منتقل کردی تھی۔
Load Next Story