افغانستان امریکی فضائی حملوں کی بڑھتی تعداد تشویشناک

حملے ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے لیے نئی اسٹریٹجی کا شاخسانہ ہیں

حملے ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے لیے نئی اسٹریٹجی کا شاخسانہ ہیں.فوٹو، فائل

لاہور:
افغانستان میں طالبان اور اسلامی شدت پسند گروپوں کے خلاف امریکا کا جنون تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے، اطلاعات ملی ہیں کہ امریکا کی جانب سے افغانستان میں صرف ماہ ستمبر میںفضائی حملوں کی تعداد گزشتہ سات سال سے جاری حملوں سے زیادہ رہی ہے اور یہ حملے ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغانستان کے لیے نئی اسٹریٹجی کا شاخسانہ ہیں۔ یو ایس ایئر فورسز سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کی جانے والی رپورٹ کے مطابق ماہ ستمبر میں طالبان اور آئی ایس آئی کے خلاف 751 بم گرائے گئے، یہ تعداد اگست کے حملوں میں گرائے جانے والے 503 بموں سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔


حملوں میں ہونے والے اس اضافے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پالیسی سے منسوب کیا جاسکتا ہے کہ ان شدت پسند گروپوں کے خلاف زیادہ موثر انداز میں کارروائی کی جائے جو کہ افغانستان کے لوگوں کے استحکام اور سلامتی کے درپے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بگرام ایئر بیس پر چھ F-16 طیاروں کا اضافہ کیا گیا ہے جو افغانستان میں B-52 مشن کے لیے وقف ہیں اور ان شدت پسند گروپوں کو نشانہ بنانے کے لیے اضافی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ امریکا کے اس بڑھتے جنگی جنون پر تمام فہمیدہ حلقے متوشش ہیں کیونکہ اکثر ان فضائی حملوں میں معصوم اور بے گناہ عوام ہی نشانہ بنتے آئے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں افغان ایئر فورس کی استعداد کار میں بہتری کے لیے 6.8 ملین امریکی ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی، جب کہ امریکا کی جانب سے ایک سو انسٹھ UH-60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر افغانستان ایئر فورس کو دیے گئے ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر اور دیگر سامان حرب حکومت مخالف عناصر پر حملوں میں معاون ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے21 اگست کو جو نئی افغان پالیسی وضع کی تھی اس میں فضائی حملوں کو بڑھانے کی بات کی گئی تھی۔ امریکا کے وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ امریکی فوج طالبان ٹارگٹ پر کسی خطرے کا احساس ہوئے بغیر بھی فضائی حملے کرسکتی ہیں، جب کہ اس سے پیشتر یہ حملے صرف اسی وقت کیے جاتے تھے جب طالبان کی طرف سے کسی پیشگی حملے کا خطرہ محسوس ہوتا تھا۔ امریکا ایک عرصے سے افغان خطے میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنے کی صائب حکمت عملی اختیار کرنے کے بجائے امریکی صدر مزید جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ افغانستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور شدت پسندوں کی موجودگی خطے کے لیے بھی مضر ہے، اس معاملے کو صائب اور راست حکمت عملی سے نمٹانا ہی وقت کا تقاضا ہے۔
Load Next Story