طیارہ گمشدگی اصل کہانی کیا ہے
جہاز واقعی کسی بچہ کا کھلونا تو نہ تھا کہ کسی نے راتوں رات غائب کردیا
جہاز واقعی کسی بچہ کا کھلونا تو نہ تھا کہ کسی نے راتوں رات غائب کردیا : فوٹو: فائل
SHABQADAR:
منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران قومی ایئر لائن کے طیارے کے گم ہونے اور مبینہ طور پر بیچے جانے کی دلچسپ اور افسوس ناک اطلاعات پر مبنی کہانی کی گونج سنائی دی۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت پر شدید تنقید کی، سینیٹرز نے جہاز کی اچانک گمشدگی سے وابستہ جو حقائق بیان کیے ہیں وہ بے حد حیران کن اور کسی جاسوسی فلم کے مناظر سے مشابہت رکھتے ہیں، سینیٹ کو بتایا گیا کہ کاریں چوری ہوتی ہیں، سریا چوری ہوتا ہے لیکن تین سو مسافروں کو لے جانے والے ایئربس طیارہ کی چوری ہونے کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ملک کا جہاز گم ہو گیا کسی بچے کا جہاز نہیں تھا، سینیٹرز کے مطابق مالٹا میں اسی طیارے کو اسرائیل کے حوالے کردیا گیا ۔
جس میں غالباً ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کے کرائے کے بدلے میں فلم بنا کر اسرائیل کو ہیرو اور فلسطینیوں کو ولن بنایا جا رہا ہے، اب وہ جہاز جرمنی میں گراؤنڈ ہے ، کوئی اس کو چلانے والا نہیں، اب ویتنام سے پی آئی اے کو چلانے کے لیے لوگ آتے ہیں۔ ادھر بحث سمیٹتے اور صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ جرمن سی ای او نے اس جہاز کو کسی جرمن فرم کو دس دنوںکے لیے دیا جو اسے کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، اس کے عوض پاکستان کو دو لاکھ یورو دیے گئے۔
جہاز اب مالٹا میں ہے جس کے بعد جرمنی کے ایک میوزیم نے خریدا تاہم اس کی رقم وصول نہیں کی گئی ، جب معاملہ کا پتہ چلا تو سی ای او کے خلاف انکوائری کی گئی اور اس کو فارغ کر دیا گیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری خرید و فروخت اور کراچی ایئر پورٹ سے ایئر بس کی روانگی کا ڈرامہ حکام کے علم میں کیوں نہیں آ سکا جب کہ جہاز واقعی کسی بچہ کا کھلونا تو نہ تھا کہ کسی نے راتوں رات غائب کردیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی ، رن وے سے اڑنے کے دوران کنٹرول ٹاور بھی خاموش رہا، کسی کی آنکھوں سے یہ فضائی پرندہ کیسے اوجھل رہا۔ اس ساری داستان ہوشربا کے اصل کردار کون تھے، ان کو سامنے لایا جائے، تاکہ کہانی کے حقیقی پلاٹ اور چیستاں کا اندازہ لگایا جاسکے۔
ابھی متعلقہ ملک کے سفارت خانہ سے رابطہ یا سی ای او کی تحویل کے بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت بھی سامنے نہیں لائی گئی ہے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ تحقیقات ہو رہی ہے، ایسی عقل کو دنگ کر دینے والی کارروائی پر تحقیقاتی مشن اب کس کے ذمے ہے اور تحقیقاتی رپورٹ کب منظر عام پر لائی جائے گی۔
منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران قومی ایئر لائن کے طیارے کے گم ہونے اور مبینہ طور پر بیچے جانے کی دلچسپ اور افسوس ناک اطلاعات پر مبنی کہانی کی گونج سنائی دی۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت پر شدید تنقید کی، سینیٹرز نے جہاز کی اچانک گمشدگی سے وابستہ جو حقائق بیان کیے ہیں وہ بے حد حیران کن اور کسی جاسوسی فلم کے مناظر سے مشابہت رکھتے ہیں، سینیٹ کو بتایا گیا کہ کاریں چوری ہوتی ہیں، سریا چوری ہوتا ہے لیکن تین سو مسافروں کو لے جانے والے ایئربس طیارہ کی چوری ہونے کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، ملک کا جہاز گم ہو گیا کسی بچے کا جہاز نہیں تھا، سینیٹرز کے مطابق مالٹا میں اسی طیارے کو اسرائیل کے حوالے کردیا گیا ۔
جس میں غالباً ایک لاکھ بیس ہزار ڈالر کے کرائے کے بدلے میں فلم بنا کر اسرائیل کو ہیرو اور فلسطینیوں کو ولن بنایا جا رہا ہے، اب وہ جہاز جرمنی میں گراؤنڈ ہے ، کوئی اس کو چلانے والا نہیں، اب ویتنام سے پی آئی اے کو چلانے کے لیے لوگ آتے ہیں۔ ادھر بحث سمیٹتے اور صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب نے کہا کہ جرمن سی ای او نے اس جہاز کو کسی جرمن فرم کو دس دنوںکے لیے دیا جو اسے کسی فلم کی شوٹنگ کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، اس کے عوض پاکستان کو دو لاکھ یورو دیے گئے۔
جہاز اب مالٹا میں ہے جس کے بعد جرمنی کے ایک میوزیم نے خریدا تاہم اس کی رقم وصول نہیں کی گئی ، جب معاملہ کا پتہ چلا تو سی ای او کے خلاف انکوائری کی گئی اور اس کو فارغ کر دیا گیا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری خرید و فروخت اور کراچی ایئر پورٹ سے ایئر بس کی روانگی کا ڈرامہ حکام کے علم میں کیوں نہیں آ سکا جب کہ جہاز واقعی کسی بچہ کا کھلونا تو نہ تھا کہ کسی نے راتوں رات غائب کردیا اور کسی کو خبر تک نہ ہوئی ، رن وے سے اڑنے کے دوران کنٹرول ٹاور بھی خاموش رہا، کسی کی آنکھوں سے یہ فضائی پرندہ کیسے اوجھل رہا۔ اس ساری داستان ہوشربا کے اصل کردار کون تھے، ان کو سامنے لایا جائے، تاکہ کہانی کے حقیقی پلاٹ اور چیستاں کا اندازہ لگایا جاسکے۔
ابھی متعلقہ ملک کے سفارت خانہ سے رابطہ یا سی ای او کی تحویل کے بارے میں کوئی ٹھوس پیش رفت بھی سامنے نہیں لائی گئی ہے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ تحقیقات ہو رہی ہے، ایسی عقل کو دنگ کر دینے والی کارروائی پر تحقیقاتی مشن اب کس کے ذمے ہے اور تحقیقاتی رپورٹ کب منظر عام پر لائی جائے گی۔