ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست مسترد

وزارت داخلہ کی کلیئرنس تک ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہیں کرسکتے،الیکشن کمیشن

وزارت داخلہ کی کلیئرنس تک ملی مسلم لیگ کو رجسٹرڈ نہیں کرسکتے،الیکشن کمیشن فوٹو: فائل

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزارت داخلہ کی مخالفت کے باعث ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق درخواست مسترد کر دی، مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ کی کلیئرنس تک ملی مسلم لیگ کو الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ نہیں کر سکتے، ملی مسلم لیگ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں وزارت داخلہ کے خط میں استعمال کی گئی زبان پر اعتراض ہے۔


بدھ کو الیکشن کمیشن میں ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن سے متعلق الیکشن کمیشن کے چار رکنی بنچ نے سیف اللہ کی دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔اس موقع پر ملی مسلم لیگ کی طرف سے راجا عبدالرحمان ایڈووکیٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی جماعت سے متعلق وزارت داخلہ کا خط آپ کے علم میں ہے؟اس پر ملی مسلم لیگ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وزارت داخلہ نے ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کی مخالفت کی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ خود کو وزارت داخلہ سے کلیئر کیوں نہیں کرا لیتے؟ وزارت داخلہ کے خط کے مطابق تو لگتا ہے آپ کی جماعت کا تعلق کالعدم جماعت سے ہے۔آپ وزارت داخلہ کے خط کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

وکیل نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن وزارت داخلہ کی سفارش پر عملدرآمد کرنے کا پابند ہے،کیا اب ہر سیاسی جماعت کو وزارت داخلہ سے کلیئرنس لینا ہو گی۔الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کسی جماعت کی رجسٹریشن کے لیے وزارت داخلہ سے رائے لینے کا پابند نہیں ہے۔انھوں نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن قانون کے مطابق ملی مسلم لیگ کی رجسٹریشن کا فیصلہ کرے۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم نے اخبار میں خبرپڑھنے کے بعد وفاقی حکومت سے جواب مانگا تھا۔ وکیل نے کہا کہ کس قانون کے تحت ہم وفاقی حکومت سے رجوع کریں۔ہم نے سیاسی جماعت کی رجسٹریشن سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کیے ہیں۔ہمارا کوئی پارٹی عہدیدارکالعدم تنظیم کا رکن نہیں۔ سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔بعدازاں کمیشن نے مختصر فیصلہ سنا دیا۔
Load Next Story