نیبایف آئی اے کی توقیرصادق کو2دن میں لانیکی یقین دہانی
سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی،احتساب عدالت کاملزم کو5مارچ کوپیش کرنے کاحکم
کیس میں گرفتارملزم شہزادسرکاری گواہ بن گیا،باعزت بری کیاجائے،نیب پراسیکیوٹر،استدعا۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے سابق چیئرمین اوگراتوقیر صادق کیخلاف کارروائی کے مقدمے کی سماعت4مارچ تک ملتوی کر دی۔
نیب اور ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کویقین دہانی کرائی ہے کہ توقیرصادق کواگلے دودن میں ملک واپس لایاجائے گا۔ عدالت کوبتایاگیاکہ توقیر صادق کی بے دخلی کیلیے قانونی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔احتساب عدالت نے بھی اوگراکرپشن کیس میںتوقیرصادق کوگرفتارکر کے5مارچ کو عدالت پیش کرنے کاحکم دیا ہے ۔
نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹرشیخ غلام عباس نے اس کیس میںگرفتارملزم سلیم شہزادبھٹی کو بے گناہ قراردیتے ہوئے کیس سے ڈسچارج کرکے باعزت بری کرنے کی درخواست دائرکردی جسے عدالت نے سماعت کیلیے منظورکرتے ہوئے اس پرفیصلہ کیلیے28فروری کی تاریخ مقررکردی ہے۔نیب کے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ ملزم کیخلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملا،یہ مقدمہ کاسرکاری گواہ بن گیاہے اسے باعزت بری کر دیا جائے ۔
نیب اور ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کویقین دہانی کرائی ہے کہ توقیرصادق کواگلے دودن میں ملک واپس لایاجائے گا۔ عدالت کوبتایاگیاکہ توقیر صادق کی بے دخلی کیلیے قانونی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔احتساب عدالت نے بھی اوگراکرپشن کیس میںتوقیرصادق کوگرفتارکر کے5مارچ کو عدالت پیش کرنے کاحکم دیا ہے ۔
نیب کے ایڈیشنل پراسیکیوٹرشیخ غلام عباس نے اس کیس میںگرفتارملزم سلیم شہزادبھٹی کو بے گناہ قراردیتے ہوئے کیس سے ڈسچارج کرکے باعزت بری کرنے کی درخواست دائرکردی جسے عدالت نے سماعت کیلیے منظورکرتے ہوئے اس پرفیصلہ کیلیے28فروری کی تاریخ مقررکردی ہے۔نیب کے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ ملزم کیخلاف ٹھوس ثبوت نہیں ملا،یہ مقدمہ کاسرکاری گواہ بن گیاہے اسے باعزت بری کر دیا جائے ۔