پاکستان اور امریکا ایک دوسرے پر اعتماد کریں

پہلے سرد جنگ اور پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک اتحادی ہیں

پہلے سرد جنگ اور پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک اتحادی ہیں۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں' گزشتہ روز پاک فوج نے کرم ایجنسی میں کامیاب آپریشن کر کے ایک امریکی خاتون' اس کے کینیڈین شوہر اور تین بچوں کو طالبان کی حراست سے آزاد کرا لیا ہے۔ یہ ایسا آپریشن ثابت ہوا ہے جس کے باعث امریکا اور یورپ میں پاکستان اور پاک فوج کا امیج بہتر ہوا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد پیش کی' انھوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات میں یہ ایک مثبت لمحہ ہے اور پاکستان کی حکومت کا تعاون اس بات کی علامت ہے کہ وہ خطے میں سیکیورٹی کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے امریکی خواہشات کا احترام کر رہے ہیں۔ امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے اپنے بیان میں کہاکہ امریکا پاکستان کا انتہائی مشکور ہے' ہمیں امید ہے اس طرح کا تعاون باقی مغویوں کی بازیابی اور مستقبل میں انسداد دہشتگردی کی مشترکہ کارروائیوں میں معاون ثابت ہو گا۔

ادھر صدر ٹرمپ کی ڈپٹی اسسٹنٹ اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کی ڈائریکٹر برائے جنوبی ایشیا لیزا کرئس کے ہمراہ امریکا کا وفد بھی پاکستان آیا ہے' اس وفد نے گزشتہ روز سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی کی' میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس وفد کی پاکستان آمد کا مقصد پاک امریکا تعلقات میں موجود تناؤ کو ختم کرنا ہے۔ دونوں ملکوں میں ہر سطح پر تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو آنے والے دنوں میں پاک امریکا تعلقات میں جاری تناؤ مکمل طور پر ختم ہو جائے گا اور غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔


پاکستان اور امریکا کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہتے ہیں لیکن تمام تر مشکلات کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات قائم رہے ہیں' پہلے سرد جنگ اور پھر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملک اتحادی ہیں' حالیہ چند برسوں سے امریکا اور پاکستان کے درمیان تناؤ کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کے پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں وہ کردار ادا نہیں کر رہا جو اسے کرنا چاہیے' اسی طرح پاکستان کے پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ امریکا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کے کردار کو تسلیم نہیں کر رہا حالانکہ اس جنگ میں سب سے اہم ترین کردار پاکستان نے ہی ادا کیا ہے۔

طالبان اور القاعدہ کے خلاف پاکستان نے ہی آپریشن کیا ہے جب کہ افغانستان میں موجود اتحادی افواج وہاں موجود طالبان کا خاتمہ نہیں کر رہیں' بہر حال گزشتہ روز پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے کامیاب آپریشن کر کے پانچ غیر ملکیوں کو رہا کر کے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاک فوج ہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کر سکتی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ پانچ غیرملکیوں کو حقانی نیٹ ورک کے قبضے سے آزاد کرایا گیا ہے' انھیں افغانستان سے پاکستان منتقل کیا گیا تھا' اس آپریشن میں امریکی معلومات بھی شامل تھیں جو پاکستان کو دی گئیں' ان معلومات کی بنیاد پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کر کے غیرملکیوں کو رہا کرا لیا' آپریشن کی کامیابی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی مغوی کو نقصان نہیں پہنچا۔ امریکا اور پاکستان کے درمیان ایسی انفارمیشن شیئرنگ پہلے نہیں ہوئی' اگر ماضی میں بھی ایسا ہو جاتا تو دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا نہ ہوتیں اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مزید کامیابیاں مل سکتی تھیں' بہرحال اب دونوں ملکوں کے درمیان دوبارہ سے ہم آہنگی پیدا ہوئی جو مثبت پیشرفت ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے بھی گزشتہ روز کہا ہے کہ امریکا اور پاکستان میں انٹیلی جنس شیئرنگ ہونی چاہیے لیکن پاکستانی سرزمین پر صرف پاک فوج کارروائی کرتی ہے، مشترکہ آپریشن کا آپشن نہیں ہے، پاک فوج ملکی سیکیورٹی معاملات کو دیکھتی ہے، پاکستان نے اپنے ملک میں جو کرنا تھا کر لیا، دوسری جانب متعدد ممالک دہشتگردی کا سامنا نہیں کر سکے لیکن ہماری فوج میں تمام صلاحیت موجود ہے، دنیا کے بہت سے ممالک نے دہشتگردی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے، جس ملک کی سیکیورٹی فورسز کمزور ہوتی ہیں وہاں بیرون ممالک کی افواج آ جاتی ہیں، افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے لیکن ہماری فوج میں تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔

امریکا کے پالیسی سازوں کو زمینی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ امریکا پاکستان کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کرے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی مل سکتی ہے' اسی طرح افغانستان میں موجود امریکی فوج پاکستان کی اطلاعات پر کارروائی کرے تو افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کو کامیاب کیا جا سکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان غلط فہمی اور بداعتمادی کا فائدہ دہشتگردوں کو پہنچتا ہے' وقت کا تقاضا یہ ہے کہ امریکا اور پاکستان ایک دوسرے پر اعتماد کریں کیونکہ اس کے بغیر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔
Load Next Story