بلدیاتی انتخاباتسندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل تیار
سندھ حکومت کی جانب سے تیارکردہ اپیل کل سپریم کورٹ رجسٹری میں دائرہوگی
سندھ حکومت کی جانب سے تیارکردہ اپیل کل سپریم کورٹ رجسٹری میں دائرہوگی۔ فوٹو ایکسپریس
حکومت سندھ نے صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں دائرکرنے کیلیے اپیل تیارکرلی ہے،ایڈووکیٹ جنرل آفس کے مطابق اپیل ہفتے کوایڈووکیٹ آن ریکارڈشیرازاقبال کے توسط سے دائر کی جانی تھی تاہم کچھ فنی وجوہ کی بناپر اب پیرکوسپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں دائرکی جائیگی۔
اپیل میں حکومت سندھ نے موقف اختیارکیا ہے کہ 18مئی 2012 کو سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ نے ایک مختصرفیصلہ دیا تھا کہ صوبہ سندھ میں 90 دنوں میں انتخابات کرائے جائیں،حکومت سندھ کے مطابق اس فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کیلیے حکومت کے پاس 60یوم تھے،اس دوران حکومت سندھ نے ہائیکورٹ سے درخواست کی کہ مدت میں توسیع کردی جائے تاہم ہائیکورٹ نے اس درخواست پرکوئی فیصلہ نہیںکیا،اپیل میں موقف اختیارکیاگیاکہ60دن کی مدت گزرجانے کے باوجود سندھ ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری نہیںکیاجس کی وجہ سے حکومت سندھ اس فیصلے کی وجوہات سے آگاہ نہیں، اسی لیے اپیل میں بھی تاخیر ہوئی۔
اپیل میں مزید کہا گیاہے کہ ملک کے دیگر تینوں صوبوں نے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات کے التواکی استدعا کی گئی ہے کیونکہ امن وامان کی صورتحال مناسب نہیں،اس کے علاوہ ووٹر لسٹوں کامعاملہ بھی زیر التوا تھا، حکومت سندھ نے مزیدموقف اختیارکیاکہ صوبے میں سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ختم ہوچکااور اب 1979کے بلدیاتی قوانین نافذہیں تاہم ان میں اصلاحات کیلیے صوبہ سندھ کی پارلیمانی پارٹیوں میں مشاورت جاری ہے۔
اپیل میں حکومت سندھ نے موقف اختیارکیا ہے کہ 18مئی 2012 کو سندھ ہائیکورٹ کے2رکنی بینچ نے ایک مختصرفیصلہ دیا تھا کہ صوبہ سندھ میں 90 دنوں میں انتخابات کرائے جائیں،حکومت سندھ کے مطابق اس فیصلے کیخلاف اپیل دائر کرنے کیلیے حکومت کے پاس 60یوم تھے،اس دوران حکومت سندھ نے ہائیکورٹ سے درخواست کی کہ مدت میں توسیع کردی جائے تاہم ہائیکورٹ نے اس درخواست پرکوئی فیصلہ نہیںکیا،اپیل میں موقف اختیارکیاگیاکہ60دن کی مدت گزرجانے کے باوجود سندھ ہائیکورٹ نے تفصیلی فیصلہ جاری نہیںکیاجس کی وجہ سے حکومت سندھ اس فیصلے کی وجوہات سے آگاہ نہیں، اسی لیے اپیل میں بھی تاخیر ہوئی۔
اپیل میں مزید کہا گیاہے کہ ملک کے دیگر تینوں صوبوں نے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں جن میں بلدیاتی انتخابات کے التواکی استدعا کی گئی ہے کیونکہ امن وامان کی صورتحال مناسب نہیں،اس کے علاوہ ووٹر لسٹوں کامعاملہ بھی زیر التوا تھا، حکومت سندھ نے مزیدموقف اختیارکیاکہ صوبے میں سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس2001ختم ہوچکااور اب 1979کے بلدیاتی قوانین نافذہیں تاہم ان میں اصلاحات کیلیے صوبہ سندھ کی پارلیمانی پارٹیوں میں مشاورت جاری ہے۔