امریکی وزیر دفاع کا سچ پاکستانی موقف کی تائید
بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اس خطے کے ممالک کی جغرافیائی اوراقتصادی اہمیت سے انکار تو ممکن نہیں۔
بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اس خطے کے ممالک کی جغرافیائی اوراقتصادی اہمیت سے انکار تو ممکن نہیں۔ فوٹو: رائٹرز
WASHINGTON:
نامزد امریکی وزیردفاع چیک ہیگل کا یہ اعتراف کہ بھارت افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے ۔بھارت افغان سرحد سے پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کے ذریعے سردجنگ میں مصروف ہے،سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا معاون ومددگار بھی بھارت ہی ہے اور وہ افغانستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کررہا ہے جس سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ایک جانب تو امریکی وزیردفاع کا یہ پورا سچ پاکستانی موقف درست ثابت کرتا ہے تو دوسری جانب بھارت کی خارجہ پالیسی کی خامی اور منفی سوچ کی مکمل عکاسی بھی کرتا ہے۔
بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اس خطے کے ممالک کی جغرافیائی اوراقتصادی اہمیت سے انکار تو ممکن نہیں،کیا عجب ستم ظریفی ہے کہ پاکستان کی شدید امن کی خواہش اور چاہت کا جواب بھارت اس انداز میں دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کو دفاعی اور اقتصادی لحاظ سے عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ مہا بھارت اور خود کو سپریم سمجھنے کی سوچ اور خارجہ پالیسی خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ نظرآتی ہے،توسیع پسندانہ عزائم کا ہی شاخسانہ ہے کہ بھارت کے خطے میں کسی پڑوسی سے اچھے، خوشگوار تعلقات نہیں ہیں، چاہے وہ نیپال ہو، بنگلہ دیش ہو ، سری لنکا ہو یا افغانستان ۔
پاکستان نے امن کی خاطردہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں شمولیت اختیار کی اور 45 ہزار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن بھارتی لابی اتنی مضبوط ہے کہ اس نے امریکا کو یہی باور کروایا کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے یہی وجہ ہے کہ'' ڈو مور ''کا مطالبہ امریکا اکثر دہراتا رہتا ہے ۔ جب یورپی ممالک اپنے اختلافات بھلا کر یورپی یونین کے پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں تو بھارت گھمنڈ میں مبتلا ہوکر اپنے پڑوسی ممالک کو کیونکر عدم استحکام کا شکارکر رہا ہے ۔ سابق مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو ہتھیاروں کی فراہمی اور فوج کشی کر کے پاکستان کو دولخت کرنا اور اب افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار حملوں پر اکسانا اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا بھارتی اسکرپٹ کو پڑھ کر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا کہاں کی دانشمندی ہے، سوچنے کی بات ہے۔
جس پاکستان نے موجودہ افغان صدر سمیت لاکھوں افغان مہاجرین کو تین دہائیوں تک اپنے پاس پناہ دی۔یہ صلہ دے رہے ہیں ہماری مہمان نوازی کا ۔اسی موضوع کا ایک اور رخ بھی دیکھتے ہیں کہ امریکی سی آئی اے کے سابق اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی حمایت کرنے پر اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کو محکمہ خارجہ اورسفارت کاروں کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بروس رائیڈل نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں نکسن کی جانب سے انتظامیہ کو واضح ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنا جھکائو پاکستان کی طرف رکھیں اور اس سلسلے میں پاکستان کی کھل کر حمایت کریں تاہم ڈھاکا میں موجود محکمہ خارجہ کے اہلکاروں کی جانب سے اس وقت کے وزیر خارجہ ولیم روگرز کی حمایت سے ایک خودساختہ ٹیلی گراف بھیجی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکا بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل عام روکنے اور جمہوریت کی حمایت پر مبنی پالیسی مرتب کرے ۔
ہنری کسنجر نے انتظامیہ کو پاکستان کی جانب جھکائوکا حکم دیا تاہم امریکی صدر کو بیوروکریسی اور محکمہ خارجہ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔گو بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی پالیسی کے تحت چیک ہیگل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے پڑوسی ملک کی خوشحالی چاہتا ہے اور الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ بھارت پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو کمزور کر کے سپرپاور بننے کے زعم میں مبتلا ہے ۔کاش اس زعم کے بجائے وہ امن کے قیام میں مدد دے۔
نامزد امریکی وزیردفاع چیک ہیگل کا یہ اعتراف کہ بھارت افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے ۔بھارت افغان سرحد سے پاکستان کے خلاف ہونے والے حملوں کے ذریعے سردجنگ میں مصروف ہے،سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا معاون ومددگار بھی بھارت ہی ہے اور وہ افغانستان میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کررہا ہے جس سے پاکستان کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ایک جانب تو امریکی وزیردفاع کا یہ پورا سچ پاکستانی موقف درست ثابت کرتا ہے تو دوسری جانب بھارت کی خارجہ پالیسی کی خامی اور منفی سوچ کی مکمل عکاسی بھی کرتا ہے۔
بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں اس خطے کے ممالک کی جغرافیائی اوراقتصادی اہمیت سے انکار تو ممکن نہیں،کیا عجب ستم ظریفی ہے کہ پاکستان کی شدید امن کی خواہش اور چاہت کا جواب بھارت اس انداز میں دے رہا ہے کہ وہ پاکستان کو دفاعی اور اقتصادی لحاظ سے عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ مہا بھارت اور خود کو سپریم سمجھنے کی سوچ اور خارجہ پالیسی خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ نظرآتی ہے،توسیع پسندانہ عزائم کا ہی شاخسانہ ہے کہ بھارت کے خطے میں کسی پڑوسی سے اچھے، خوشگوار تعلقات نہیں ہیں، چاہے وہ نیپال ہو، بنگلہ دیش ہو ، سری لنکا ہو یا افغانستان ۔
پاکستان نے امن کی خاطردہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں شمولیت اختیار کی اور 45 ہزار قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا لیکن بھارتی لابی اتنی مضبوط ہے کہ اس نے امریکا کو یہی باور کروایا کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ ہے یہی وجہ ہے کہ'' ڈو مور ''کا مطالبہ امریکا اکثر دہراتا رہتا ہے ۔ جب یورپی ممالک اپنے اختلافات بھلا کر یورپی یونین کے پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں تو بھارت گھمنڈ میں مبتلا ہوکر اپنے پڑوسی ممالک کو کیونکر عدم استحکام کا شکارکر رہا ہے ۔ سابق مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی کو ہتھیاروں کی فراہمی اور فوج کشی کر کے پاکستان کو دولخت کرنا اور اب افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار حملوں پر اکسانا اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا بھارتی اسکرپٹ کو پڑھ کر پاکستان کو موردالزام ٹھہرانا کہاں کی دانشمندی ہے، سوچنے کی بات ہے۔
جس پاکستان نے موجودہ افغان صدر سمیت لاکھوں افغان مہاجرین کو تین دہائیوں تک اپنے پاس پناہ دی۔یہ صلہ دے رہے ہیں ہماری مہمان نوازی کا ۔اسی موضوع کا ایک اور رخ بھی دیکھتے ہیں کہ امریکی سی آئی اے کے سابق اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی حمایت کرنے پر اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کو محکمہ خارجہ اورسفارت کاروں کی جانب سے بغاوت کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بروس رائیڈل نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں نکسن کی جانب سے انتظامیہ کو واضح ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنا جھکائو پاکستان کی طرف رکھیں اور اس سلسلے میں پاکستان کی کھل کر حمایت کریں تاہم ڈھاکا میں موجود محکمہ خارجہ کے اہلکاروں کی جانب سے اس وقت کے وزیر خارجہ ولیم روگرز کی حمایت سے ایک خودساختہ ٹیلی گراف بھیجی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ امریکا بے گناہ اور معصوم لوگوں کا قتل عام روکنے اور جمہوریت کی حمایت پر مبنی پالیسی مرتب کرے ۔
ہنری کسنجر نے انتظامیہ کو پاکستان کی جانب جھکائوکا حکم دیا تاہم امریکی صدر کو بیوروکریسی اور محکمہ خارجہ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔گو بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی اور میں نہ مانوں کی پالیسی کے تحت چیک ہیگل کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنے پڑوسی ملک کی خوشحالی چاہتا ہے اور الزامات میں کوئی حقیقت نہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ بھارت پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کو کمزور کر کے سپرپاور بننے کے زعم میں مبتلا ہے ۔کاش اس زعم کے بجائے وہ امن کے قیام میں مدد دے۔