ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی جُرمانے کی رقم 5 ہزار روپے کرنے کا حکم
عدالت نے ٹریفک قوانین میں ترمیم کی سمری مسترد کردی
سپریم کورٹ نے ٹرانسپورٹ سسٹم کی مخدوش صورت حال پر اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ شہریوں کومافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
کراچی بد امنی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے موقع پرجسٹس انور ظہیرجمالی کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ کو سیکریٹری ٹرانسپورٹ نذر محمد کلہوڑو نے ٹریفک قوانین میں ترامیم سے متعلق سمری کی نقل پیش کی۔
سپریم کورٹ نے ٹرانسپورٹ سسٹم کی مخدوش صورت حال پر اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ شہریوں کومافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے، جمہوری حکومت بھی مصلحتوں پر چل رہی ہے ، صرف خانہ پری کیلیے رپورٹ پیش کردی جاتی ہے،عدالت نے ٹریفک سے متعلق قوانین میں ترمیم کی سمری مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جرمانے میں اضافہ کرکے نئی سمری تیار کی جائے، جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جرمانے کی رقم 100 سے بڑھا کر 5000 کی جائے، سیکریٹری ٹرانسپورٹ نذرمحمد کلہوڑو نے بتایا کہ یہ سمری انہیں 17دسمبر 2012 کو موصول ہوئی تھی جو محکمہ قانون کو 22 فروری کو بھیجی گئی۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا عرصہ سوتے رہے ،آپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا ئے گا،جسٹس انور ظہیرجمالی نے سمری پڑھ کر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ وزیرٹرانسپورٹ کواتنی بھی توفیق نہ ہوئی کہ سمری پر دستخط کرتے ہوئے تاریخ بھی لکھ دیں، جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ کراچی میں کہیں ٹرانسپورٹ ، کہیں ٹینکر اور کہیں لینڈ مافیا کا راج ہے ہم کچھ کہیں تو پھر خبریں لگتی ہیں کہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں،جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیا کہ کیا شہر میں چلنے والی گاڑیاں اس قابل ہیں کہ اس میں سفر کیا جا سکے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہڑتال کے دوران بسیں جلا دی جا تی ہیں حکومت کو تجویز دی ہے کہ جو سیاسی جماعت ہڑتال کی کال دے جلنے والی گاڑیوں کا ہرجانہ اس سے وصول کیا جائے، عدالت نے سمری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمانے میں مناسب اضافہ نہیں کیا گیا ، اب پیسہ کی قدر کچھ اور ہے، 100روپے سے بڑھاکر رمانہ 200جبکہ 50 روپے سے بڑھاکر 150روپے کردیا گیا ہے جو انتہائی معمولی اضافہ ہے ،جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ سندھ میں پنجاب کی طرح سرکاری ٹرانسپورٹ کا نظام کیوں نہیں بنایا جاتا ، ایک جملہ کہہ دیں کہ سندھ کے عوام کے لیے کچھ کرنا ہی نہیں ہے ، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ شہر میں 50,50 سال پرانی بسیں چل رہی ہیں اوراتنا عرصہ سمری روک کر بیٹھے رہے۔
سپریم کورٹ نے ٹرانسپورٹ سسٹم کی مخدوش صورت حال پر اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ شہریوں کومافیاز کے رحم و کرم پر چھوڑدیا گیا ہے، جمہوری حکومت بھی مصلحتوں پر چل رہی ہے ، صرف خانہ پری کیلیے رپورٹ پیش کردی جاتی ہے،عدالت نے ٹریفک سے متعلق قوانین میں ترمیم کی سمری مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جرمانے میں اضافہ کرکے نئی سمری تیار کی جائے، جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ جرمانے کی رقم 100 سے بڑھا کر 5000 کی جائے، سیکریٹری ٹرانسپورٹ نذرمحمد کلہوڑو نے بتایا کہ یہ سمری انہیں 17دسمبر 2012 کو موصول ہوئی تھی جو محکمہ قانون کو 22 فروری کو بھیجی گئی۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنا عرصہ سوتے رہے ،آپ کو شوکاز نوٹس جاری کیا جا ئے گا،جسٹس انور ظہیرجمالی نے سمری پڑھ کر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا کہ وزیرٹرانسپورٹ کواتنی بھی توفیق نہ ہوئی کہ سمری پر دستخط کرتے ہوئے تاریخ بھی لکھ دیں، جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ کراچی میں کہیں ٹرانسپورٹ ، کہیں ٹینکر اور کہیں لینڈ مافیا کا راج ہے ہم کچھ کہیں تو پھر خبریں لگتی ہیں کہ انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں،جسٹس خلجی عارف حسین نے استفسار کیا کہ کیا شہر میں چلنے والی گاڑیاں اس قابل ہیں کہ اس میں سفر کیا جا سکے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہڑتال کے دوران بسیں جلا دی جا تی ہیں حکومت کو تجویز دی ہے کہ جو سیاسی جماعت ہڑتال کی کال دے جلنے والی گاڑیوں کا ہرجانہ اس سے وصول کیا جائے، عدالت نے سمری پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمانے میں مناسب اضافہ نہیں کیا گیا ، اب پیسہ کی قدر کچھ اور ہے، 100روپے سے بڑھاکر رمانہ 200جبکہ 50 روپے سے بڑھاکر 150روپے کردیا گیا ہے جو انتہائی معمولی اضافہ ہے ،جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ سندھ میں پنجاب کی طرح سرکاری ٹرانسپورٹ کا نظام کیوں نہیں بنایا جاتا ، ایک جملہ کہہ دیں کہ سندھ کے عوام کے لیے کچھ کرنا ہی نہیں ہے ، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ شہر میں 50,50 سال پرانی بسیں چل رہی ہیں اوراتنا عرصہ سمری روک کر بیٹھے رہے۔