امریکا ایران تعلقات میں بگاڑ
ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیاربنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ٹرمپ
ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیاربنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،ٹرمپ۔ فوٹو:فائل
امریکا اور ایران کے تعلقات میں شدید تلخی در آئی ہے۔ سابق اوباما انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کر کے صورت حال کو بہتر کیا تھا اور اس وقت ایسا لگتا تھا کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے لیکن صدر ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد صورت حال ایک بار پھر تلخ ہو گئی ہے۔
گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے بارے میں جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے افغان پالیسی کے بعد ایران پالیسی کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے معاملہ امریکی کانگریس کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت مشترکہ ایٹمی معاہدے کے نقائص کو دور کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ تعاون کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیاربنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ امریکا کا بد ترین فیصلہ تھا۔ تہران جوہری معاہدے کی روح کے مطابق عمل نہیں کر رہا ہے۔ امریکا اس معاہدے کو کسی بھی وقت ختم کر سکتا ہے۔ ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ تسلیم شدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ عالمی جوہری ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
امریکی صدر ایران کے ساتھ دشمنی کا رویہ ترک کریں۔ امریکی اشتعال انگیزی جاری رہی تو بھرپور جواب دیں گے۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہاہے کہ ایران جوہری معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا ایران جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار افسوسناک ہے۔ فرانس جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران جوہری معاہدے کو محفوظ رکھنا ہمارے قومی مفاد میں ہے۔
عالمی ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل کر رہا ہے، اس کے باوجود امریکا کے صدر ٹرمپ ایران کے بارے میں جارحانہ بیانات داغ رہے ہیں۔ اس طرح وہ شمالی کوریا کی قیادت کو بھی اشتعال دلا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا کے پالیسی ساز عراق، شام اور لیبیا کے بعد کوئی اور محاذ گرم کرنا چاہتے ہیں۔
عراق اور لیبیا پر حملے سے پہلے ان ملکوں پر بھی جوہری مواد کی تیاری کے الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن آج یہ سارے الزامات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ امریکا کی جارحیت میں یورپ کے ملکوں نے ساتھ دیا۔ اگر یہ ممالک ساتھ نہ دیتے تو امریکا کبھی عراق یا لیبیا پر حملہ نہ کرتا۔ پاکستان کو ایران اور امریکا کے تعلقات میں آنے والی حالیہ کشیدگی پر نظر رکھنی چاہیے اور حالات کو سامنے رکھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر واضح لائن لینی چاہیے۔
گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ایران کے بارے میں جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ انھوں نے افغان پالیسی کے بعد ایران پالیسی کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے معاملہ امریکی کانگریس کی ٹوکری میں ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت مشترکہ ایٹمی معاہدے کے نقائص کو دور کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ تعاون کرے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیاربنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ امریکا کا بد ترین فیصلہ تھا۔ تہران جوہری معاہدے کی روح کے مطابق عمل نہیں کر رہا ہے۔ امریکا اس معاہدے کو کسی بھی وقت ختم کر سکتا ہے۔ ادھر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایران جوہری معاہدہ تسلیم شدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے۔ عالمی جوہری ادارے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
امریکی صدر ایران کے ساتھ دشمنی کا رویہ ترک کریں۔ امریکی اشتعال انگیزی جاری رہی تو بھرپور جواب دیں گے۔ روسی وزارت خارجہ نے اپنے ردعمل میں کہاہے کہ ایران جوہری معاہدے پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے۔ ٹرمپ کا ایران جوہری معاہدے کی توثیق سے انکار افسوسناک ہے۔ فرانس جرمنی اور برطانیہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران جوہری معاہدے کو محفوظ رکھنا ہمارے قومی مفاد میں ہے۔
عالمی ماہرین بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران جوہری معاہدے پر عمل کر رہا ہے، اس کے باوجود امریکا کے صدر ٹرمپ ایران کے بارے میں جارحانہ بیانات داغ رہے ہیں۔ اس طرح وہ شمالی کوریا کی قیادت کو بھی اشتعال دلا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکا کے پالیسی ساز عراق، شام اور لیبیا کے بعد کوئی اور محاذ گرم کرنا چاہتے ہیں۔
عراق اور لیبیا پر حملے سے پہلے ان ملکوں پر بھی جوہری مواد کی تیاری کے الزامات عائد کیے گئے تھے لیکن آج یہ سارے الزامات غلط ثابت ہو چکے ہیں۔ امریکا کی جارحیت میں یورپ کے ملکوں نے ساتھ دیا۔ اگر یہ ممالک ساتھ نہ دیتے تو امریکا کبھی عراق یا لیبیا پر حملہ نہ کرتا۔ پاکستان کو ایران اور امریکا کے تعلقات میں آنے والی حالیہ کشیدگی پر نظر رکھنی چاہیے اور حالات کو سامنے رکھ کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر واضح لائن لینی چاہیے۔