کراچی دنیا کا سب سے غیر محفوظ شہر قرار
4 ماہ میں ترقیاتی سرگرمیاں پورے صوبے میں نظر آئیں گی،وزیر اعلیٰ سندھ
4 ماہ میں ترقیاتی سرگرمیاں پورے صوبے میں نظر آئیں گی،وزیر اعلیٰ سندھ۔ فوٹو : فائل
ایک وقت میں عروس البلاد، روشنیوں کا شہر اور کتنے ہی خوشنما ناموں سے پکارا جانے والا حرماں نصیب شہر آج اس نہج پر آچکا ہے کہ کراچی کو دنیا کا سب سے غیر محفوظ شہر قرار دیا جارہا ہے۔ یہ رپورٹ 'اکنانومسٹ گروپ' کے ریسرچ اینڈ اینالیسز ڈویژن نے جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا کے 60 شہروں کو ڈیجیٹل سیکیورٹی، ہیلتھ سیکیورٹی، انفراسٹرکچر سیکیورٹی اور ذاتی سیکیورٹی سمیت 49 پیمانوں پر پرکھا گیا۔
افسوسناک امر ہے کہ ان تمام ہی امور کی بدحالی پر شہر قائد کے رہائشی ایک عرصہ سے نوحہ کناں ہیں، کوئی عجب نہیں کہ کراچی کو ان تمام کیٹیگریز میں نچلے درجے پر تفویض کیا گیا ہے، کراچی میں سیکیورٹی ایشوز، ناقص انفراسٹرکچر، صحت و صفائی کے مسائل پر بارہا باتیں تو خوب کی جاتی رہی ہیں لیکن ان مسائل کے حل کی جانب توجہ مرکوز نہیں کی جاتی۔
کراچی کو سب سے زیادہ نقصان سندھ حکومت اور شہر کی سٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں نے پہنچایا ہے۔ پاکستان کے اس معاشی ہب کی دولت سے فیض یاب ہونے کے لیے تو سب تیار ہیں لیکن اس شہر کو ''اون'' کرنے کے لیے کوئی سامنے نہیں آتا۔ اس وقت شہریوں کی ذاتی سیکیورٹی کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی، کبھی بھی کسی کو سر راہ لوٹ جائے، راہ چلتی خواتین کو تیز دھار آلے سے زخمی کرجائے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے محض زبانی کلامی دعوے سے آگے نہیں بڑھتے۔
شہریوں میں بے حسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اپنے سامنے واردات ہوتے دیکھ کر بھی درجنوں افراد کا ہجوم واردات کرنے والے دو افراد کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ شہر میں وقتی اور مصنوعی ترقی کے لیے بھی کئی منصوبے پیش کیے گئے لیکن ان کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے۔ ایک اور خبر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے ٹریفک نظام کو عالمی بینک کی مدد سے بہتر بنایا جائے گا، 4 ماہ میں ترقیاتی سرگرمیاں پورے صوبے میں نظر آئیں گی۔
امید کی جانی چاہیے کہ اس بار یہ ترقیاتی سرگرمیاں واقعی صوبے کے ''حالات'' بدل دیں گی۔ وفاقی و صوبائی حکومت کو کراچی کو اس کا سابقہ مقام واپس دلانے کے ساتھ شہر میں بہترین انفراسٹرکچر، سیکیورٹی حالات، صحت و صفائی کے مسائل اور بلدیاتی نظام کی بہتری کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ قائد کے جنم بھومی کی مزید جگ ہنسائی نہ ہوسکے۔
افسوسناک امر ہے کہ ان تمام ہی امور کی بدحالی پر شہر قائد کے رہائشی ایک عرصہ سے نوحہ کناں ہیں، کوئی عجب نہیں کہ کراچی کو ان تمام کیٹیگریز میں نچلے درجے پر تفویض کیا گیا ہے، کراچی میں سیکیورٹی ایشوز، ناقص انفراسٹرکچر، صحت و صفائی کے مسائل پر بارہا باتیں تو خوب کی جاتی رہی ہیں لیکن ان مسائل کے حل کی جانب توجہ مرکوز نہیں کی جاتی۔
کراچی کو سب سے زیادہ نقصان سندھ حکومت اور شہر کی سٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں نے پہنچایا ہے۔ پاکستان کے اس معاشی ہب کی دولت سے فیض یاب ہونے کے لیے تو سب تیار ہیں لیکن اس شہر کو ''اون'' کرنے کے لیے کوئی سامنے نہیں آتا۔ اس وقت شہریوں کی ذاتی سیکیورٹی کا حال یہ ہے کہ کوئی بھی، کبھی بھی کسی کو سر راہ لوٹ جائے، راہ چلتی خواتین کو تیز دھار آلے سے زخمی کرجائے لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے محض زبانی کلامی دعوے سے آگے نہیں بڑھتے۔
شہریوں میں بے حسی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اپنے سامنے واردات ہوتے دیکھ کر بھی درجنوں افراد کا ہجوم واردات کرنے والے دو افراد کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ شہر میں وقتی اور مصنوعی ترقی کے لیے بھی کئی منصوبے پیش کیے گئے لیکن ان کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچ سکے۔ ایک اور خبر کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی کے ٹریفک نظام کو عالمی بینک کی مدد سے بہتر بنایا جائے گا، 4 ماہ میں ترقیاتی سرگرمیاں پورے صوبے میں نظر آئیں گی۔
امید کی جانی چاہیے کہ اس بار یہ ترقیاتی سرگرمیاں واقعی صوبے کے ''حالات'' بدل دیں گی۔ وفاقی و صوبائی حکومت کو کراچی کو اس کا سابقہ مقام واپس دلانے کے ساتھ شہر میں بہترین انفراسٹرکچر، سیکیورٹی حالات، صحت و صفائی کے مسائل اور بلدیاتی نظام کی بہتری کی جانب توجہ مرکوز کرنی چاہیے تاکہ قائد کے جنم بھومی کی مزید جگ ہنسائی نہ ہوسکے۔