فائرنگ سے ہلاک اہلکار نے6روز قبل بینک ڈکیتی ناکام بنائی تھی
ندیم بلوچ جہان آباد چوکی پر تعینات تھا، 22 فروری کو نامعلوم ملزمان نے گولیاں ماریں.
مقتول نے گینگ وار کے ملزمان کے خلاف آپریشن میں بھی حصہ لیا تھا، بھائی کی گفتگو۔ فوٹو: فائل
منگھو پیرمیں6روز قبل دہشت گردوں کی فائرنگ سے ہلاک کیے جانے والے پولیس اہلکار نے کچھ عرصہ قبل ناظم آباد میں بینک ڈکیتی ناکام بنائی تھی جس پر پولیس افسران نے اسے انعام دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق منگھو پیر تھانے کی حدود جاویداں سیمنٹ فیکٹری کے قریب22فروری کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے پولیس کانسٹیبل42 سالہ محمد ندیم بلوچ ولد غلام مصطفی بلوچ نے اپنے ساتھی اہلکار کے ہمراہ کچھ عرصہ قبل ناظم آباد میں بینک ڈکیتی ناکام بنائی تھی جس پر اسے اور اس کے ساتھی اہلکار کو ڈی آئی جی ویسٹ نے شاباشی اور انعام دیا تھا۔
یہ بات مقتول کے بڑے بھائی محمد جمیل بلوچ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی، انھوں نے بتایا کہ ندیم بلوچ2003میں پاک کالونی تھانے کی جہان آباد پولیس چوکی پر تعینات تھا اور اس نے اپنی تعیناتی کے دور میں منشیات فروشوں اور گینگ وار کے ملزمان کے خلاف آپریشن میں بھی حصہ لیا تھا، انھوں نے بتایا کہ محمد ندیم بلوچ پہلے لیاری کے علاقے میرا ناکہ اسٹار ہوٹل کے عقب میں اپنے خاندان کے دیگر لوگوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھا تاہم لیاری کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اس نے وہاں سے اپنی رہائش تبدیل کر لی تھی اور اپنی بیوی، 4 بیٹیوں اور4بیٹوں کے ہمراہ پہلے قصبہ کالونی اور پھر وہاں سے8 ماہ قبل منگھو پیر روڈ Bون ایریا گرم چشمہ کے قریب علی میڈیکل اسٹور کے عقب میں کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گیا تھا۔
محمد ندیم بلوچ کی اہلیہ ان دنوں حاملہ ہیں ، ندیم کی والدہ اور دیگر بھائی قصبہ موڑ پر رہائش پزیر ہیں ، ندیم نے جس جگہ کرائے کا مکان لیا تھا وہ جگہ موجودہ وقت میں انتہائی خطرناک ہے وہاں زیادہ تر جرائم پیشہ اور دہشت گردوں نے اپنا ٹھکانہ بنایا ہوا ہے، انھوں نے بتایا کہ مقتول نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اہلیہ کی وجہ سے خاندان سے الگ رہائش اختیار کی تھیم واضح رہے مقتول فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا تھانے میں تعینات تھا ، 22 فروری جمعہ کی شب 8 بجے محمد ندیم بلوچ ڈیوٹی پر جانے کے یونیفارم پہن کر اپنا لائسنس یافتہ پستول لے کر موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا تھا کہ گھر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر اس نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے روک کر پہلے عقب سے گدی پر2 گولیاں ماریں پھر سامنے سے سینے اور سر میں مزید 5 گولیاں ماریں اور ملزمان فرار ہو گئے۔
ندیم بلوچ 20 منٹ سے زائد دیر تک موقع پر تڑپتا رہا وہاں موجود کوئی شخص اس کے قریب نہیں آیا، کسی کے فون کرنے پر چھیپا ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی تھی جو اسے عباسی شہید اسپتال لے جا رہے تھے کہ دوران سفر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا ، پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوع سے مقتول کی موٹر سائیکل ، پستول اور موبائل فون برآمد کر کے قبضے میں لے لیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق منگھو پیر تھانے کی حدود جاویداں سیمنٹ فیکٹری کے قریب22فروری کو دہشت گردوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونیوالے پولیس کانسٹیبل42 سالہ محمد ندیم بلوچ ولد غلام مصطفی بلوچ نے اپنے ساتھی اہلکار کے ہمراہ کچھ عرصہ قبل ناظم آباد میں بینک ڈکیتی ناکام بنائی تھی جس پر اسے اور اس کے ساتھی اہلکار کو ڈی آئی جی ویسٹ نے شاباشی اور انعام دیا تھا۔
یہ بات مقتول کے بڑے بھائی محمد جمیل بلوچ نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی، انھوں نے بتایا کہ ندیم بلوچ2003میں پاک کالونی تھانے کی جہان آباد پولیس چوکی پر تعینات تھا اور اس نے اپنی تعیناتی کے دور میں منشیات فروشوں اور گینگ وار کے ملزمان کے خلاف آپریشن میں بھی حصہ لیا تھا، انھوں نے بتایا کہ محمد ندیم بلوچ پہلے لیاری کے علاقے میرا ناکہ اسٹار ہوٹل کے عقب میں اپنے خاندان کے دیگر لوگوں کے ہمراہ رہائش پزیر تھا تاہم لیاری کے حالات خراب ہونے کی وجہ سے اس نے وہاں سے اپنی رہائش تبدیل کر لی تھی اور اپنی بیوی، 4 بیٹیوں اور4بیٹوں کے ہمراہ پہلے قصبہ کالونی اور پھر وہاں سے8 ماہ قبل منگھو پیر روڈ Bون ایریا گرم چشمہ کے قریب علی میڈیکل اسٹور کے عقب میں کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گیا تھا۔
محمد ندیم بلوچ کی اہلیہ ان دنوں حاملہ ہیں ، ندیم کی والدہ اور دیگر بھائی قصبہ موڑ پر رہائش پزیر ہیں ، ندیم نے جس جگہ کرائے کا مکان لیا تھا وہ جگہ موجودہ وقت میں انتہائی خطرناک ہے وہاں زیادہ تر جرائم پیشہ اور دہشت گردوں نے اپنا ٹھکانہ بنایا ہوا ہے، انھوں نے بتایا کہ مقتول نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اہلیہ کی وجہ سے خاندان سے الگ رہائش اختیار کی تھیم واضح رہے مقتول فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا تھانے میں تعینات تھا ، 22 فروری جمعہ کی شب 8 بجے محمد ندیم بلوچ ڈیوٹی پر جانے کے یونیفارم پہن کر اپنا لائسنس یافتہ پستول لے کر موٹر سائیکل پر گھر سے نکلا تھا کہ گھر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر اس نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے روک کر پہلے عقب سے گدی پر2 گولیاں ماریں پھر سامنے سے سینے اور سر میں مزید 5 گولیاں ماریں اور ملزمان فرار ہو گئے۔
ندیم بلوچ 20 منٹ سے زائد دیر تک موقع پر تڑپتا رہا وہاں موجود کوئی شخص اس کے قریب نہیں آیا، کسی کے فون کرنے پر چھیپا ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی تھی جو اسے عباسی شہید اسپتال لے جا رہے تھے کہ دوران سفر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا ، پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوع سے مقتول کی موٹر سائیکل ، پستول اور موبائل فون برآمد کر کے قبضے میں لے لیا تھا۔