لازمی و مفت تعلیم کا بل بنانا سندھ کیلیے اعزاز ہے پیر مظہرالحق

حیدرآباد میں نجی یونیورسٹی کے بجائے سرکاری یونیورسٹی بنے گی،قراردادمنظور ہوگئی

صوبائی وزیرکا یونیسکوکی جانب سے ماہرین تعلیم کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب۔ فوٹو: فائل

صوبائی وزیرتعلیم پیر مظہرالحق نے کہا ہے کہ لازمی و مفت تعلیم کا بل ہم نے بنا دیا ہے اب اس پر عمل سندھ کے عوام کرائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے مقامی ہوٹل میں یونائٹیڈ نیشن ایجوکیشنل سائنٹفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن( یونیسکو) کی جانب سے لازمی و مفت تعلیم کا بل پاکستان کے دیگر صوبوں سے پہلے بنانے پر وزیر تعلیم سندھ سمیت اس بل کے بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے ماہرین تعلیم کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں کیا، سیمینار سے سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو، یونیسکو چیف ڈاکٹر کوزی کے نگاٹا، مسٹر گونا وردنی کنسلٹنٹ آر ایس یو، مس یاسمین لاری، پروفیسر انوار احمد زئی، ڈاکٹر عبدالوہاب، ڈاکٹر محمد امین سمیت دیگر ماہرین تعلیم نے بھی خطاب کیا۔




وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے کہا کہ مفت و لازمی بل کا قانون منظورکرانے میں سندھ نے باقی صوبوں پر سبقت حاصل کرلی ہے، ون یونٹ اور آمریت کے دور اقتدار میں تعلیم کو بہت نقصان ہوا جبکہ تعلیم صوبائی معاملہ تھا، اس کو وفاق کے حوالے کیا گیا، آمریت کے دور میں نصاب کو تبدیل کرکے اس میںآمر شخصیتوں کے اسباق بھی شامل کیے گئے جس کو ہم نے دوبارہ ماہرین تعلیم کی محنت سے ترتیب دیا ہے، انھوں نے کہا کہ حیدرآباد میں یونیورسٹی بنانے کی قرارداد منظور ہوگئی، اب وہاں نجی یونیورسٹی کے بجائے سرکاری یونیورسٹی بنے گی۔
Load Next Story