کراچی کے انتخابی حلقوں میں ردوبدل کیلیے مردم شماری ضروری نہیں سپریم کورٹ

نئی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواست مسترد، آئی جی سندھ نے تحریری معافی مانگ لی

کوئی خواب میں بھی نہ سوچے کہ الیکشن کے التوا کی اجازت دیں گے،الیکشن کمیشن ذمے داریوں سے جان نہ چھڑائے، کراچی بدامنی کیس میں ریمارکس، نئی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواست مسترد، آئی جی سندھ نے تحریری معافی مانگ لی۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے جسٹس انورظہیرجمالی کی سربراہی میں5رکنی لارجربینچ نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کیخلاف الیکشن کمیشن کی درخواست مستردکرتے ہوئے اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ اب مصلحتوں کا زمانہ گیا،الیکشن کمیشن الفاظ کی ہیراپھیری کے بجائے شفاف انتخابات منعقد کرائے۔

الیکشن کمیشن اپنی ذمے داریوں سے جان چھڑانے کی کوشش نہ کرے،کسی کو خواب میں بھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کسی صورت انتخابات کے التوا کی اجازت دے سکتی ہے۔عدالت نے قراردیا کہ الیکشن کمیشن نے بعض حقائق عدالت سے چھپانے کی کوشش کی۔ جسٹس انور ظہیرجمالی نے کہا کہ اسلام میں کوئی ابہام نہیں،کوئی چیزغلط ہے یا صحیح ہے۔ فاضل عدالت نے بدھ کو بھی کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس کی سماعت جاری رکھی۔ سماعت کے موقع پر الیکشن کمیشن کے وکیل منیراحمد پراچہ کے دلائل سننے کے بعدالیکشن کمیشن کی درخواست مسترد کردی گئی۔ عدالت نے قراردیا کہ آئین کی دفعات51(3),(5)اورحلقہ بندی ایکٹ1974کی دفعہ7 نئی حلقہ بندی میں رکاوٹ نہیں۔

آئین کی دفعہ51(3)اورحلقہ بندی ایکٹ1974کی دفعہ7قومی اسمبلی کی ترتیب سے متعلق ہے جبکہ حلقہ بندی ایکٹ1974میں دفعہ10-Aکے اضافہ سے الیکشن کمیشن مزید بااختیار ہوگیا ہے جوکہ خود اہم فیصلے کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل منیر احمد پراچہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس کے فیصلے میں انتظامی اور ریونیو حدود میں ردوبدل کی ہدایت کی گئی تھی مگر نئی حلقہ بندیوں کیلیے کوئی حکم نہیں تھا۔الیکشن کمیشن عدالتی حکم کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پرپہنچاہے کہ تازہ مردم شماری کے بغیر نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیں۔جسٹس انور ظہیرجمالی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کراچی ازخود نوٹس کیس کے فیصلے کی روح اور مقصد امن کا قیام تھا۔

منیر پراچہ نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے اس ضمن میں ہدایت دینے کے بجائے لفظ''MAY''استعمال کیا تھا، اسلیے الیکشن کمیشن نے آبزرویشن کو ہدایت سے علیحدہ تصور کیا، جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد اورقابل احترام ادارہ ہے اس لیے لفظ'' MAY''استعمال کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عدلیہ کی ہدایات کو نظرانداز کردیا جائے۔ عدالت نے آبزرو کیا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے خود عدالت کو بتایا تھا کی کراچی میں حلقہ بندیاں کی جائیں گی اور اس ضمن میں کام شروع کیا جارہا ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ عوام شفاف انتخابات کیلیے الیکشن کمیشن کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آپ لفظوں کی ہیراپھیری میں لگے ہوئے ہیں۔ جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ عدلیہ نے اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ یا کمی کا حکم نہیں دیا ۔جسٹس انور ظہیرجمالی نے کہا کہ آپ کنفیوژن پیدا نہ کریں۔




جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہا کہ نشستوں کی تعدادکا حلقہ بندی سے کوئی تعلق نہیں۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انتخابات سر پر ہیں ،ایسا نہ ہو کہ عدالت کے کسی حکم سے انتخابات کابروقت انعقاد متاثر ہوجائے۔ جسٹس انورظہیرجمالی نے کہا کہ آپ الفاظ سے نہ کھیلیں۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی نے کہاکہ اسمبلیاں اگر16مارچ کو تحلیل ہوں گی تو آپ کے پاس مئی تک وقت ہے، آپ چاہیں تو یہ کام2 دن میں ہوجائے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ کسی کو یہ خواب میں بھی سوچنا نہیں چاہیے کہ سپریم کورٹ انتخابات کے التوا کی اجازت دے سکتی ہے۔ جسٹس انور ظہیرجمالی نے کہا کہ ڈی جی الیکشن کمیشن نے غلط رپورٹ پیش کی، ان پر جرمانہ عائد ہونا چاہیے، وہ کس کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں؟۔

عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ فاضل عدالت کا28نومبر2012کا حکم سیکریٹری الیکشن کمیشن کے بیان پر مبنی ہے ،الیکشن کمیشن کے وکیل نے جو آئینی دفعات بیان کیے وہ غیرمتعلقہ ہیں۔ سماعت کے موقع پر آئی جی سندھ فیاض لغاری سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور ایس ایس پی پیر فرید جان سرہندی ، فرخ بشیر سمیت8سو پولیس افسران و اہلکاروں کی فہرست جمع کرائی۔ انھوں نیعدالت کو بتایا کہ تمام ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے۔ آئی جی نے قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس موقع پر انھوں نے تحریری طور پر معافی کی استدعا کی جس پر فاضل بینچ نے آئی جی سندھ کی جانب سے تحریری معافی مانگنے پر انھیں غیر مشروط طور پر معاف کردیا۔ بعدازاں ازخود نوٹس کیس کی سماعت جمعرات کیلیے ملتوی کردی۔

بی بی سی کے مطابق جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ منصفانہ حدبندیوں کیلیے حکم جاری کیا گیا حلقہ بندیوں کیلیے نہیں۔ جسٹس خلجی عارف حسین کے ریمارکس تھے کہ نئے حلقے بنانے کیلیے مردم شماری ضروری ہے لیکن حلقوں میں ردوبدل کیلیے نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کے لیے بدنیتی کا لفظ استعمال نہیں کریں گے حالانکہ عدالت کے واضح حکم کو نظر انداز کیا گیا۔
Load Next Story