کرم ایجنسی میں کیپٹن اور چار ایف سی اہلکاروں کی شہادت

وزیراعظم نے دھماکے میں فوجی اہلکاروں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا

وزیراعظم نے دھماکے میں فوجی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔ فوٹو : اسکرین گریب

افغان سرحد کے قریب کرم ایجنسی کے علاقے خرلاچی میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی طرف سے نصب بارودی سرنگ کے 3دھماکوں سے کیپٹن سمیت چار ایف سی اہلکار شہید اور 5زخمی ہوگئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اہلکار چند روز قبل بازیاب کرائے گئے کینیڈین خاندان کو اغوا کرنے والوں کے ہینڈلرز کی تلاش میں جانے والی سرچ پارٹی کا حصہ تھے کہ دہشت گردوں کی طرف سے بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی زد میں آ گئے۔ اس واقعے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دھماکے میں فوجی اہلکاروں کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور غمزدہ خاندانوں کے ساتھ افسوس اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ چند روز قبل پاک فوج نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کرم ایجنسی میں کامیاب آپریشن کر کے 5غیرملکی یرغمالیوں کو بازیاب کرایا تھا جن میں ایک کینیڈین شخص' اس کی امریکی بیوی اور ان کے تین بچے شامل تھے۔ ان غیرملکیوں کو 2012ء میں دہشت گردوں نے افغانستان سے اغوا کرکے قید کر رکھا تھا' تب سے امریکی خفیہ ادارے انھیں تلاش کر رہے تھے' 11اکتوبر کو امریکی خفیہ اداروں نے ان یرغمالیوں کی کرم ایجنسی کے راستے پاکستان منتقلی کی معلومات فراہم کی تھیں۔


پاک فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کامیاب آپریشن کر کے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں' ان کی دھماکا خیز مواد تیار کرنے والی فیکٹریوں کو تباہ کر دیا تھا۔ بعدازاں آپریشن ردالفساد کے دوران بھی دہشت گردوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا' دو روز قبل بھی آپریشن ردالفساد کے دوران جنوبی وزیرستان سے بھاری اسلحہ اور گولہ بارود پکڑا گیا ہے۔ اب کرم ایجنسی میں ہونے والے بارودی سرنگ دھماکوں سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں کہ دہشت گردوں کے پاس دھماکا خیز مواد کہاں سے آ رہا ہے اور ان کے محفوظ ٹھکانے کہاں کہاں ہیں اور ان کے وہ کون سہولت کار ہیں جو انھیں مالی امداد کے علاوہ معلومات فراہم کر رہے ہیں۔یوں لگتا ہے کہ ملک کے اندر ابھی دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے موجود ہیں جن کا سراغ لگایا جانا ناگزیر ہو گیا ہے۔

کرم ایجنسی میں ہونے والے دھماکے بھی پاک افغان سرحد کے قریب ہوئے ہیں جس کے بعد پاک افغان خرلاچی سرحد بند کر دی گئی ہے۔ پاکستان بارہا اس جانب توجہ مبذول کراتا رہا ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں جن کا خاتمہ ضروری ہے۔ امریکا پاکستان پر ڈومور کا دباؤ بڑھانے کے بجائے اگر افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ کر دے تو اس سے دہشت گردی کے واقعات میں خود بخود کمی آ جائے گی۔
Load Next Story