چھرا مار چھلاوہ گرفتار تفتیش فول پروف بنائی جائے

کراچی میں گزشتہ دنوں خوف کی وجہ بننے والا مبینہ چھرا مار حملہ آور بالآخر منڈی بہاؤ الدین سے گرفتار کرلیا گیا

کراچی میں گزشتہ دنوں خوف کی وجہ بننے والا مبینہ چھرا مار حملہ آور بالآخر منڈی بہاؤ الدین سے گرفتار کرلیا گیا ۔ فوٹو : فائل

کراچی میں گزشتہ دنوں خوف کی وجہ بننے والا مبینہ چھرا مار حملہ آور بالآخر منڈی بہاؤ الدین سے گرفتار کرلیا گیا ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق حساس ادارے نے منڈی بہاؤ الدین میں چھاپہ مار کر ساہیوال کے رہائشی ملزم کو حراست میں لے کر کراچی پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔ شنید ہے کہ ملزم وسیم کو اس بنا پر گرفتار کیا گیا ہے کیونکہ وہ اس سے پیشتر ساہیوال اور چیچہ وطنی میں بھی 41 خواتین کو چھریاں مار کر زخمی کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا تاہم ضمانت پر رہا ہونے کے بعد روپوش ہوگیا تھا۔ جب کہ ڈی آئی جی ایسٹ کراچی کے بیان کے بعد یہ تفتیش ایک اور نیا موڑ اختیار کرگئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم کئی مشتبہ افراد میں سے ایک اہم مشکوک شخص ہے، دیگر ممکنہ مشتبہ افراد سے بھی تحقیقات جاری ہیں اور یہ تحقیقات صرف وسیم تک محدود نہیں رہیں گی۔ بظاہر چھرا مار ملزم کے گرفتار ہونے کی خبر خوش آیند ہے، متاثرہ خواتین نے ملزم کے گرفتار ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش میں یہ مجرم ثابت ہوجائے تو اسے سخت سے سخت ترین سزا دی جائے، ان واقعات کے بعد گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں اب تک خوف کی فضا برقرار ہے۔کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ محض ایک شخص پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں خوف کی فضا پھیلا دیتا ہے اور تمام ریاستی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس و لاچار دکھائی دیتے ہیں۔


واضح رہے کہ 25 ستمبر سے 5 اکتوبر تک ایک ملزم نے گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں 13 خواتین کو تیز دھار آلے کے وار سے زخمی کیا تھا۔ ملزم کی گرفتاری پر پہلے سندھ پولیس نے 5 لاکھ روپے انعام مقرر کیا تھا، پے درپے وارداتوں کے بعد انعام کی رقم بڑھا کر 10 لاکھ روپے کردی تھی۔ انعامی رقم کی کشش بھی ملزم کی مخبری نہ کروا سکی۔ زخمی کرنے کی ان وارداتوں کے پیچھے چھپے مضمرات کا ادراک کرنا بھی ضروری ہے۔

اگر لاقانونیت کا یہی حال رہا تو کوئی بھی، کہیں بھی، کسی پر بھی حملہ آور ہوسکتا ہے، جب قانون کی پاسداری اور پکڑے جانے کا خوف ہی نہ ہو تو معاشرے کو جنگل بننے میں کتنی دیر لگے گی۔ پولیس کا محکمہ پہلے ہی بدنام ہے، سیاسی بھرتیوں کے علاوہ من پسند افراد کو اعلیٰ عہدوں پر تفویض کرنے کے الزامات ڈھکے چھپے نہیں، اعلیٰ عہدوں پر بڑے ناموں کے تقرر کے اعلان پر شور و غوغا تو بہت ہوتا ہے لیکن نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں؟ صائب ہوگا کہ چھرا مار حملہ آور کی گرفتاری کے بعد فول پروف تفتیش کی جائے اور کسی بھی ممکنہ پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ قانون شکن عناصر کا خاتمہ ہی ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے۔
Load Next Story