ڈرون حملہ مسئلے کا حل نہیں
وہ افغانستان کے مسئلے کا حل پاکستان کے ذریعے چاہتے ہیں
وہ افغانستان کے مسئلے کا حل پاکستان کے ذریعے چاہتے ہیں۔۔ فوٹو : فائل
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا جس وقت اعلان کیا تھا ،اسی وقت سے پاک،امریکا تعلقات میں کشیدگی اور تناؤکا عنصر نمایاں نظر آرہا تھا، جس کوکم کرنے کے لیے پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے دو بار امریکا کا دورہ کیا، جس میں برف پگھلنے کے کچھ آثار نظر آئے، لیکن صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق نہیں کہی جاسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ جو کافی عرصے سے بند ہوچکا تھا وہ دوبارہ شروع ہوگیا ہے، تازہ ترین ڈرون حملے میں کرم ایجنسی سے ملحقہ افغان سرحدی علاقے میں ڈرون حملے میں کم ازکم 20 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ٹارگٹ حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر ابوبکر تھا جب کہ آئی ایس پی آر کے مطابق اطلاعات ہیں کہ فضائی حملہ لوئرکرم کے قریب افغان علاقے میں ہوا، پاکستان میں حملہ نہیں کیا گیا۔ ایک طرف تو امریکی صدر' ڈومور' کی رٹ لگاتے ہیں ، دوسری جانب وہ پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز بھی کرتے ہوئے دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں اور پھر اچانک پاکستان کی تعریف میں ٹوئیٹ بھی کرتے ہیں ۔ وہ افغانستان کے مسئلے کا حل پاکستان کے ذریعے چاہتے ہیں، لیکن بھارت کو افغانستان کا ٹھیکیدار بھی بنانا چاہتے ہیں۔
جس طرح ان کی شخصیت غیر متوازن ہے ویسی ہی پالیسیاں بھی نظر آرہی ہیں ۔پاکستان تو امریکی اطلاع پرکینیڈین امریکی جوڑے اور ان کے تین بچوں کو بازیاب کراتا ہے ان اغوا کاروں کی تلاش میں جانے والے ایف سی اہلکاروں کے راستے میں دہشت گرد با رودی سرنگ بچھا دیتے ہیں اور دھماکے کے نتیجے میں ایک کیپٹین سمیت چار اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہے پاکستان کا کردار اور قربانیاں جن سے صرف نظر کرتے ہوئے امریکی حکام ایک مرتبہ بھی بیک ڈور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ڈرون حملوں کا آغازکررہے ہیں، سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں ان ڈرون حملوں کی زد میں کئی ہزار بے گناہ لوگ بھی آئے اور یہ عمل دہشتگردوں نے اپنی ہمدردی میں رائے عام کو استعمال کرنے میں کیا ۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکاکو مشکل صورت حال سے نکالنا چاہتے ہیں تو انھیں یہ سب کچھ کرنے کے بجائے پاکستان سے مکالمہ کرنا چاہیے جب کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کے مسئلے کا دیرپا اور پرامن حل تلاش کرنا ہوگا ، ورنہ اس خطے میں امن کبھی بحال نہیں ہوگا ۔ پاکستان کو بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی ، کیونکہ امریکا دوست نما دشمن بھی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ٹارگٹ حقانی نیٹ ورک کا کمانڈر ابوبکر تھا جب کہ آئی ایس پی آر کے مطابق اطلاعات ہیں کہ فضائی حملہ لوئرکرم کے قریب افغان علاقے میں ہوا، پاکستان میں حملہ نہیں کیا گیا۔ ایک طرف تو امریکی صدر' ڈومور' کی رٹ لگاتے ہیں ، دوسری جانب وہ پاکستان کی قربانیوں کو نظر انداز بھی کرتے ہوئے دھمکیاں دینے پر اتر آتے ہیں اور پھر اچانک پاکستان کی تعریف میں ٹوئیٹ بھی کرتے ہیں ۔ وہ افغانستان کے مسئلے کا حل پاکستان کے ذریعے چاہتے ہیں، لیکن بھارت کو افغانستان کا ٹھیکیدار بھی بنانا چاہتے ہیں۔
جس طرح ان کی شخصیت غیر متوازن ہے ویسی ہی پالیسیاں بھی نظر آرہی ہیں ۔پاکستان تو امریکی اطلاع پرکینیڈین امریکی جوڑے اور ان کے تین بچوں کو بازیاب کراتا ہے ان اغوا کاروں کی تلاش میں جانے والے ایف سی اہلکاروں کے راستے میں دہشت گرد با رودی سرنگ بچھا دیتے ہیں اور دھماکے کے نتیجے میں ایک کیپٹین سمیت چار اہلکار شہید اور پانچ زخمی ہوجاتے ہیں ۔ یہ ہے پاکستان کا کردار اور قربانیاں جن سے صرف نظر کرتے ہوئے امریکی حکام ایک مرتبہ بھی بیک ڈور مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ڈرون حملوں کا آغازکررہے ہیں، سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں ان ڈرون حملوں کی زد میں کئی ہزار بے گناہ لوگ بھی آئے اور یہ عمل دہشتگردوں نے اپنی ہمدردی میں رائے عام کو استعمال کرنے میں کیا ۔
اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکاکو مشکل صورت حال سے نکالنا چاہتے ہیں تو انھیں یہ سب کچھ کرنے کے بجائے پاکستان سے مکالمہ کرنا چاہیے جب کہ زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے افغانستان کے مسئلے کا دیرپا اور پرامن حل تلاش کرنا ہوگا ، ورنہ اس خطے میں امن کبھی بحال نہیں ہوگا ۔ پاکستان کو بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی ، کیونکہ امریکا دوست نما دشمن بھی ہے۔