شائقین کی راہ تکتا ویران ابوظبی اسٹیڈیم

واقعی بورڈ حکام نے یہ سیریز کرا کے محض خانہ پری ہی کی، یقیناً جب آڈٹ ہو گا تو بھاری خسارہ ہی سامنے آئے گا

یقین مانیے ابوظبی میں مجھے ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ کوئی انٹرنیشنل میچ دیکھ رہا ہوں۔ فوٹو: نیٹ

سوچا تھا ویب کیلیے ''فیس بک لائیو'' ویڈیو کروں گا، مگر ابوظبی کے شیخ زید کرکٹ اسٹیڈیم پہنچ کر حیرت کا جھٹکا لگا، یقین مانیے باہر 10 لوگ بھی نظرنہیں آرہے تھے، ویران مقام کی کیا ویڈیو بناتا، میں نے یو اے ای میں کئی میچز کور کیے مگر ایسی بے رونقی پہلے کبھی نہیں دیکھی، شاید اس کی ایک وجہ سری لنکا سے میچز ہونا بھی ہے جو حالیہ سیریز سے قبل کمزور ٹیموں کی فہرست میں موجود تھی مگر ٹیسٹ میں فتوحات سے دوبارہ قدموں پر کھڑی ہو گئی، میں نے اپنے ساتھی عبدالرحمان رضا سے پوچھا کہ شائقین کی عدم دلچسپی کا سبب کیا ہے توانھوں نے پی سی بی حکام کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ''سیریز کی بالکل بھی تشہیر نہیں ہوئی، حکام اگر چاہتے توشائقین کو اسٹیڈیم لایا جا سکتا تھا''۔

میں ان کی بات سے متفق ہوں واقعی بورڈ حکام نے یہ سیریز کرا کے محض خانہ پری ہی کی، یقیناً جب آڈٹ ہو گا تو بھاری خسارہ ہی سامنے آئے گا، ویسے بھی یو اے ای میں میچز پاکستان کیلیے گھاٹے کا سودا ہی ثابت ہوتے ہیں، دبئی کا اسٹیڈیم شہر سے دور ہے، وہاں لوگوں کواگرمیچ دیکھنا ہے تو ٹکٹ کے ساتھ آمدورفت پر بھی بڑی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے جو مزدور طبقہ برداشت نہیں کر سکتا۔

ابوظبی پی سی بی کی گڈ بکس سے باہر تھا مگر اس بار انھوں نے تمام مارکیٹنگ اخراجات خود برداشت کر کے آدھے میچز کی میزبانی حاصل کرلی، وہاں سیریز کے دوسرے ون ڈے میں ایک، دو ہزار لوگ ہی اسٹیڈیم آئے ہوںگے، میں نے اس سے قبل لاہور میں ورلڈالیون کے میچز کور کیے تھے، وہاں کیا زبردست ماحول تھا، یقین مانیے ابوظبی میں مجھے ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ کوئی انٹرنیشنل میچ دیکھ رہا ہوں، شکر ہے اب ملک میں دوبارہ سے میچز ہونے لگے ہیں،مجھے یقین ہے کہ وہاں زمبابوے سے میچز بھی خالی اسٹیڈیم میں نہیں ہوں گے، بورڈ کو بھی کم از کم تشہیر تو کرنی چاہیے۔

آپ نے اگر ذہن بنا لیا ہے کہ کچھ بھی کر لیں آمدنی نہیں ہونی تو ایک، دو ہزارٹکٹ مفت ہی بانٹ دیں ، کچھ تو رونق ہو، پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں فتح کے بعد پہلی ون ڈے سیریز کھیل رہی ہے، ایسے میں اسٹیڈیمز کا خالی ہونا شرمناک ہے، آئندہ کیلیے کوئی حکمت عملی بنانا ہوگی،اتنے لوگ تو کراچی میں کلب میچز کے دوران آ جاتے ہیں،مارکیٹنگ ٹیم کو فعال کریں، مفت کے دورے میںان سے کچھ کام بھی لیں، ویسے اس ٹورمیں بھی بورڈ حکام کی موجیں ہیں، باری باری سب یو اے ای کی سیر کرنے آ رہے ہیں، ایسے میں ڈیلی الاؤنس بھی مل جاتا ہے، یعنی ''پیڈ ہولیڈے'' ایسی موجیں کسی اور ادارے میں کہاں ہوتی ہیں۔

پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل کے بعد بورڈ نے ٹیم ہوٹل تبدیل کر لیا، ان پر یہ ''راز'' فاش ہو گیا کہ ہوٹل کی وجہ سے ''معصوم'' کرکٹرز جوئے میں ملوث ہوئے، اس میں اینٹی کرپشن یونٹ کی غفلت کا کوئی عمل و دخل نہ تھا،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حکام نے خود کرکٹرز کو آزاد چھوڑ دیا تھا، اگر آپ ایسا کریں گے تو ہوٹل کوئی بھی ہو بکیز پہنچ سکتے ہیں۔

کیا کوئی کرکٹر یا بکی میٹرو میں سفر کرتا ہے کہ میٹرو اسٹیشن کے سامنے ہوٹل نہیں ہونا چاہیے تھا،اگر آپ سختی رکھیںگے تب ہی شاید کھلاڑیوں کو غلط افراد سے دور رکھ سکتے ہیں، نیا ہوٹل نسبتاً پُرسکون علاقے میں واقع ہے، وہاں مجھے کرکٹرز سے ملاقات کیلیے آنے والوں کا جم غفیر بھی دکھائی نہ دیا، ساتھ ہی ایک شاپنگ مال واقع ہے جہاں پلیئرز ڈنر وغیرہ کیلیے چلے جاتے ہیں۔


البتہ یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ کس عقلمند نے یہ مشورہ دیا کہ ابوظبی میں میچز کے دوران بھی دبئی میں قیام کیا جائے،دوسرے ون ڈے سے قبل پریکٹس کے بعد ٹیم ڈھائی گھنٹے میں واپس ہوٹل پہنچی تھی، اچھا یہی ہوتا کہ جہاں میچز ہوں وہیں قیام کیا جائے، جیسے سری لنکن ٹیم ابوظبی میں ہی رکی ہوئی ہے۔

ٹیم ہوٹل میں میری کپتان سرفراز احمد سے تفصیلی بات چیت ہوئی، دوسرے لوگوں کی طرح انھوں نے شکست کا ملبہ کسی اور پر نہیں ڈالا،جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹیسٹ سیریز میں ایک اسپنر کھلانے جیسے بعض غلط فیصلے کس نے کیے تو انھوں نے خود کو بھی اس میں شریک قرار دیا، سرفراز کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نڈر اور ذہین کرکٹر ہیں، جاوید میانداد کی طرح ان کے پاس بھی بہترین ''کرکٹنگ دماغ'' موجود ہے۔

چیمپئنز ٹرافی میں فتح کے بعد ان کی جو پذیرائی ہوئی اس کے باوجود اب تک قدم زمین پر رکھے ہیں جو قابل تعریف بات ہے، گوکہ وہ بطور کپتان پہلی ٹیسٹ سیریز نہ جیت سکے مگر یقیناً اپنے ٹیلنٹ کی وجہ سے جلد اس طرز میں بھی کامیاب ثابت ہو سکیںگے، وہیں میری احمد شہزاد سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، بدقسمتی سے وہ ان دنوں ناکامی کا شکار ہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ گیند جتنے اچھے انداز سے بیٹ پر آ رہی ہے پہلے کبھی نہیں آئی، بس ایک بڑی اننگز کی بات ہے سب کچھ ٹھیک ہونے لگے گا، انھوں نے یہ بھی بتایا کہ سیریز کے دوران سوشل میڈیا سے بھی دور ہیں۔

البتہ مجھے وہ کچھ دباؤ میں لگے شاید اسی لیے پرفارمنس متاثر ہوئی ہے،جب وہ اپنا نیچرل گیم کھیلیںگے تو پھر سے ماضی جیسی فارم لوٹ آئے گی،احمد اپنے ساتھ امام الحق ویگر نوجوان کرکٹرز کو ڈنر پر لے کر گئے تھے مجھے ان کی یہ بات پسند آئی کہ جونیئرز کے ساتھ رویہ بڑا دوستانہ ہے،اسی دن بابر اعظم کی سالگرہ تھی ، پریکٹس سیشن کے بعد اسٹیڈیم میں بھی کیک کاٹا گیا جوان کے چہرے پر مل بھی دیا گیا، بعد میں شعیب ملک، ثانیہ مرزا و بعض دیگر افراد ان کو ڈنر پر لے کر گئے۔

شعیب سے ملاقات ہوئی تو ہمیشہ کی طرح ہشاش بشاش پایا وہ اپنی کرکٹ سے ان دنوں بیحد لطف اندوز ہو رہے ہیں، جونیئرز کی بھی خوب رہنمائی کرتے ہیں جو اچھی بات ہے، ابھی پاکستان ٹیم ابتدائی دونوں میچز تو جیت چکی مگر ٹیسٹ کی طرح ون ڈے میں بھی بعض خامیاں نمایاں نظر آئی ہیں، اوپننگ کا مسئلہ برقرار ہے، اسی طرح دوسرے میچ میں ٹاپ آرڈر بیٹنگ کا ناکام ہونا بھی لمحہ فکریہ تھا،خوشی کی بات یہ ہے کہ نوجوان کرکٹرز بہترین پرفارم کر رہے ہیں۔

بابر اعظم مسلسل دو سنچریاں بنا کر ٹیسٹ کی ناکامیوں کا ازالہ کر چکے، شاداب خان نے بھی ثابت کر دیا کہ وہ مستقبل میں بہترین آل راؤنڈر ثابت ہو سکتے ہیں،اب دیکھتے ہیں تیسرے ون ڈے میں کیا ہوتا ہے، فیصلہ کن برتری مل جائے تو باہر بیٹھنے والے کرکٹرز کو بھی موقع دینا چاہیے، چچا جان اپنے بھتیجے کو ٹیم میں لے تو آئے مگر موقع نہیں مل رہا، سرفراز نے اگر مزید تاخیر کی تو وہ مستقبل میں چیف سلیکٹر کے عتاب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ابھی یو اے ای میں مزید میچز ہونا باقی ہیں لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ سری لنکن بورڈ نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آخری ٹی ٹوئنٹی کیلیے ٹیم لاہور بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے،البتہ کون کون یہ میچ کھیلنے آئے گا یہ سوال ابھی جواب طلب ہے،اس میچ سے پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کو بڑافائدہ حاصل ہوگا، حکام کو بھی کسی سہل پسندی کا شکار ہوئے بغیر ورلڈ الیون سے سیریز جیسے انتظامات کرنے چاہئیں۔
Load Next Story