سیاسی دشمنیاں کہاں تک پہنچ گئیں

اس ملک کے غریب اور مفلوک الحال عوام یہ تماشے حیرت سے دیکھ رہے ہیں اور مایوسیوں کے اندھیروں میں غرق ہورہے ہیں۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

پاکستان جن سیاسی اوراعتقادی اختلافات کا شکار ہے،اب یہ اختلافات سیاسی اور مذہبی دشمنیوں میں اس حد تک آگے چلے گئے ہیں،اصول،اخلاقیات، نظریات، قومی اور عوامی مفادات سیاست کے پیروں کی دھول بن گئے ہیں۔ بغض معاویہ اس حد تک سروں پر سوار ہے کہ ہر معقول بات پر قومی اور عوامی مفاد کے کام اور پروگرام کی مخالفت قومی اور مذہبی فریضہ بن گئی ہے۔ اس ذہنیت کا عالم یہ ہے کہ دوستی اور دشمنی کی بنیاد نظریات اور اصول کے بجائے سیاسی مفادات بن گئے ہیں اور ہر جماعت کی آنکھوں پر اختلافات کی پٹی اس طرح بندھ گئی ہے کہ نہ دوست نظر آرہا ہے نہ دشمن ،نہ ملک کا مستقبل نظر آرہا ہے نہ عوام کا مستقبل۔ سیاسی مخالفت ایسے مقام پر پہنچ گئی ہے جس کی مثال نہ کسی قوم میں ملتی ہے نہ کسی ملک میں نہ کسی مذہب میں۔

سیاست تو درجنوں خانوں میں بٹی ہوئی تھی ہی مذہبی سیاست بھی 72 خانوں میں بٹی مذہب کے تقدس کا مذاق اڑاتی نظر آتی ہے۔ اس شرمناک سیاست کے باوجود ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم ساری دنیا کی برتر قوم ہیں، ہمارا مذہب سارے مذاہب سے اعلیٰ ہے، دنیا ہماری مذہبی انتہاپسندی، ہمارے بے لگام بے سمت دہشت گردی کو دیکھ کر ہمیں ایک وحشی اور جاہل قوم کا نام دے رہی ہے۔ اب ہماری سیاست نے بھی ہمیں دنیا کی بدترین قوم ہونے کا حقدار بنادیا ہے۔ ہماری سیاسی دوستیاں، ہماری سیاسی دشمنیاں، سب ذاتی، جماعتی، نسلی اور لسانی عداوتوں سے شروع ہوتی ہیں اور ان ہی پر ختم ہوتی ہیں۔

اس ملک کے غریب اور مفلوک الحال عوام یہ تماشے حیرت سے دیکھ رہے ہیں اور مایوسیوں کے اندھیروں میں غرق ہورہے ہیں۔ ہمارا میڈیا ہر روز ان تماشوں کو گھر گھر، گاؤں گاؤں پہنچارہا ہے اور ہرگھر، ہرگاؤں ذہنی انتشار، نظریاتی خلفشار کا شکار ہورہا ہے۔ ہر سیاسی جماعت اندرونی اور بیرونی اختلافات کی زد میں ہے۔ ہر قیادت کا رخ اسلام آباد کی طرف ہے۔ ہر سیاسی مذہبی اور عسکری قیادت نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی دعویدار ہے اور سیاست کی منڈی میں نظریات اصول اور اقدار کھلے عام خریدے اور بیچے جارہے ہیں۔ دنیا حیرت سے اس نظریاتی ملک کا حشر دیکھ رہی ہے اور شرم سے آنکھیں بند کر رہی ہے۔

ہمارے سیاستدانوں، ہماری سیاسی دانشوروں کے سروں پر جمہوریت کی ''انکا'' سوار ہے اور زبانوں پر یہ شکایت اور ذہنوں پر یہ خوف کہ اس ملک کو فوجی مداخلت نے تباہ کردیا، بار بار کی فوجی مداخلت کی وجہ سے اس ملک کا جمہوری پودا پروان نہ چڑھ سکا۔ بلوچستان جل رہا ہے ، ہر روز کراچی میں درجنوں بے گناہ انسان مارے جارہے ہیں، سیاست دان چپ ہیں۔ پولیس، رینجرز، ایف سی اور خفیہ ایجنسیاں سب ناکام ہوگئی ہیں اور سڑکوں پر سیکڑوں لاشیں لیے بیٹھے لوگ چلا رہے ہیں کہ ہمارے شہروں کو فوج کے حوالے کردو اور فوج کے نام سے سیاستدانوں اور سیاسی دانشوروں کو پسینہ آرہا ہے۔

حالانکہ ہمارا آئین ہنگامی حالات میں فوج کی مدد لینے کی اجازت دیتا ہے، لیکن اپنی نااہلی، اپنی کرپشن، اپنی بدعنوانیوں سے خوفزدہ ضمیر کی مجرم قیادت کو ہر روز سیکڑوں بے گناہ انسانوں کی موت قبول ہے، لیکن فوج کا تعاون اس لیے قبول نہیں کہ ان کے ذہنوں پر یہ خوف سوار ہے کہ کہیں فوج ان کا اقتدار نہ چھین لے اور یہ خوف فوج کی خواہش اقتدار کا خوف نہیں بلکہ اپنی نااہلیوں ، اپنی بدعنوانیوں، اپنی کرپشن، اپنی سیاسی دوستیوں، سیاسی دشمنیوں کی بے اعتدالیوں، بے اصولیوں کا خوف ہے۔


پاکستان کی جمہوری تاریخ جہاں بے شمار بے راہ رویوں، بے شمار بے اصولیوں سے بھری ہوئی ہے ان میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کی بدترین سیاست کا داغ بھی جمہوریت کی پیشانی پر کلنک بنا ہوا ہے اور بلدیاتی انتخابات کرانے کا سہرا ان ہی فوجی ڈکٹیٹروں کے سر بندھتا ہے جنھیں ہماری جمہوری اشرافیہ جمہوریت کے دشمن اور جمہوریت کے قاتل کہتی ہے۔ سابق فوجی صدر مشرف نے بھی ایک انتہائی موثر نچلی سطح تک مالیاتی اور انتظامی اختیارات پہنچانے والا بلدیاتی نظام روشناس کرایا جس کی وجہ سے عوام کے علاقائی مسائل ان کے علاقوں میں حل ہونے لگے۔

انتظامی اور مالیاتی اختیارات صوبوں کے وڈیرہ شاہی حکمرانوں کے ہاتھوں سے نکل کر غریب لیکن منتخب عوام کے ہاتھوں میں آگئے اور انگریزوں کے کمشنری اور ڈپٹی کمشنری بیورو کریٹک نظام حکمرانی سے عوام کو نجات ملی۔ لیکن اس ملک کی اشرافیائی سیاست کو اختیارات کی یہ تقسیم قطعی منظور نہ تھی جیسے ہی انھیںاقتدار ملا سب سے پہلا کام ان وڈیرہ شاہی جمہوریت کے علمبرداروں نے اس بلدیاتی نظام کے گلے پریہ کہتے ہوئے چھری چلائی کہ یہ نظام ایک ڈکٹیٹر کا دیا ہوا نظام ہے۔ پنجاب، پختونخوا اور بلوچستان میں اس نظام کے گلے پر چھری پھیر دی گئی، سندھ میں اس نظام میں کچھ ترامیم کرکے اس کے نفاذ کو قبول کیا گیا، لیکن وڈیرہ شاہی ذہنیت کو یہ نظام قبول نہ ہوا، ہر طرف اس کی مخالفت میں جلسے جلوس اور دھرنے شروع کرائے گئے اور اس نظام کو سندھ کی تقسیم کا نام دیا گیا۔

لسانی سیاست کے اندھوں کو یہ واضح حقیقت بھی نظر نہیں آئی کہ اس سیاست کی وجہ سے ہی سندھ کے عوام تقسیم ہورہے ہیں سندھ کے عوام ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں، سندھ کے عوام کے ذہنوں میں غلط فہمیاں پیدا ہورہی ہیں اس پاکستان کی بلدیاتی تاریخ کے بہترین نظام کو محض اس لیے بدترین ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس نظام کی وجہ سے ایک مخصوص جماعت کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ جمہوری سیاست میں سیاسی جماعتوں کا مقابلہ اپنے بہتر منشوروں، زیادہ بہتر پروگراموں سے کیا جاتا ہے اور مخالف جماعتوں کے اختیار و اقتدار کو عوام کی حمایت سے ختم کیا جاتا ہے لیکن ہماری متبرک سیاست میں سیاسی تبدیلیوں کو عوام کی حمایت سے نہیں بلکہ سیاسی نفرتیں پھیلاکر لایا جاتا ہے اور ان دشمنیوں میں اس تھام تک جایا جاتا ہے جہاں دوستوں اور دشمنوں میں امتیاز ختم ہوجاتا ہے، جہاں صوبائی اور قومی مفادات نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں، جہاں صرف سیاسی دشمنیاں اور بغض معاویہ سروں پر سوار رہتے ہیں۔

سندھ خاص طور پر کراچی کے عوام جس دہشت گردی، جس ٹارگٹ کلنگ کے شکار ہیں اسے ختم کرنے میں پولیس، رینجرز اور ایف سی اس لیے ناکام ہیں کہ دہشت گرد ہر علاقے، ہر بستی، ہر گلی محلے میں اپنے قدم جماچکے ہیں اور خدشہ ہے کہ کراچی کوئٹہ وغیرہ میں اگر فوج کو بھی لایا گیا تو وہ بھی شاید اس گلی گلی تک پھیلے ہوئے عفریت کو قابو نہ کرسکے۔ یہ ایک انتہائی گمبھیر اور خطرناک صورت حال ہے اور اس پر قابو پانے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے بستی بستی، محلے محلے، گلی گلی میں ایسی تنظیم، ایسی طاقت کی ضرورت ہے جو اس عفریت کا مقابلہ کرسکے اور یہ تنظیم اور طاقت وہ بلدیاتی نظام فراہم کرسکتا ہے جو کونسلر، یوسی سے لے کر ٹاؤن اور شہر تک ایک مربوط شکل میں متعارف کرایا گیا تھا۔

اگر اس نظام میں کوئی خرابیاں تھیں تو انھیں دور کیا جاسکتا تھا ، اسے عوام کی بھلائی کے مطابق بنایا جاسکتا تھا، لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس نظام کو ایک ڈکٹیٹر کا نظام کہہ کر اسے رد کرنے والے اس سے بڑے ڈکٹیٹر کا دیا ہوا 1979 کا انگریزوں کا دیا ہوا کمشنری اور ڈپٹی کمشنری نظام نہ صرف قبول کر رہے ہیں بلکہ اس نظام کے نفاذ پر جشن منارہے ہیں۔ اور اسے اپنی فتح سمجھ رہے ہیں، ہوسکتا ہے یہ سیاسی دشمنیوں، سیاسی اور لسانی عداوتوں کی فتح ہو، لیکن دراصل یہ غریب عوام کی شکست ہے اس 1979 کے کمشنری اور ڈپٹی کمشنری نظام نے اختیارات اور اقتدارکو نچلی سطح تک جانے سے روک دیا ہے اور شہروں کو ایک بیوروکریٹ کے حوالے کردیا ہے جو وڈیرہ شاہی سیاست کو مضبوط کرتا ہے اور نچلی سطح تک جانے والے مالی اور انتظامی اختیارات کو صوبائی حکومت کے بددیانت وڈیروں کے ہاتھوں میں مرتکز کردیتا ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا مقابلہ کرنے والی علاقائی طاقت ہاتھوں سے نکل جاتی ہے، مجھے حیرت ہے کہ سیاسی دشمنیوں میں اندھے لوگوں کو یہ نظر نہیں آرہا ہے کہ ان کی سیاست، ان کا وجود بھی دہشت گردی کی آگ میں جل جائے گا نہ وہ رہیں گے نہ ان کی لسانی، گروہی اورتنگ نظر سیاست۔
Load Next Story