ٹیکس اقدامات پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل صنعتیں بند کرنے کی دھمکی

2 فیصدسیلز ٹیکس اور درآمدی خام مال پر 5 فیصد ودہولڈنگ کافیصلہ فوری واپس لیاجائے، ویلیوایڈڈٹیکسٹائل اورلیدرسیکٹرزکے۔۔۔

2 فیصدسیلز ٹیکس اور درآمدی خام مال پر 5 فیصد ودہولڈنگ کافیصلہ فوری واپس لیاجائے، ویلیوایڈڈٹیکسٹائل اورلیدرسیکٹرزکے نمائندوں کی ہنگامی پریس کانفرنس فوٹو: فائل

ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ہر پیداواری سطح پر2 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذاور درآمدی خام مال، پلانٹ ومشینری پر5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے واپس نہ لینے پر ملک بھر کی ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل صنعتیں بطوراحتجاج بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔

جمعرات کو پی ایچ ایم اے ہائوس میں ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی تمام تنظیموں، کارپٹ ایسوسی ایشن اورلیدر گارمینٹس ایسوسی ایشن کے سربراہوں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل فورم کے چیئرمین جاوید بلوانی اور ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین مہتاب الدین چائولہ نے کہا کہ نئے وفاقی وزیرخزانہ کی تقرری کے بعدایف بی آرکی جانب سے یکطرفہ طور پرقبل ازبجٹ اقدامات آغاز ہوگیا ہے اور یومیہ بنیادوں پر ایس آراوز کا اجرا بھی شروع کردیا گیا ہے، ایف بی آر نے ریونیو کے مقررہ اہداف کے حصول میں ناکامی اوراپنی کوتاہیاں منظرعام پر لانے کے بجائے تاجربرادری کو اعتماد میں لیے بغیر ایسے سخت اقدامات شروع کردیے ہیں جس سے ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سمیت تمام صنعتیں بند ہو جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے فیصلے واپس نہ لیے تو ہزاروں صنعتیں بند ہوجائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر حکام ٹیکس نیٹ کووسعت دینے میں ناکام ہوچکے جس کی وجہ سے ریونیو ہدف میں 65 ارب روپے کا شارٹ فال ہے جسے اب ایسے سیکٹرز پر ٹیکسوں کا نیا بوجھ لاد کر پورا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جن کا نفع وافزائش کی شرح نہ صرف کم ہے بلکہ یہ شعبہ جات پانی بجلی گیس بحران بدامنی سے بری طرح متاثر ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایف بی آرقابل ٹیکس آمدنی کے حامل نئے شعبوں وافراد کو نیٹ میں لائے اورٹیکس چوروں کو پکڑنے کی موثر مہم شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ ظالمانہ ٹیکس اقدامات کے برآمدات پر انتہائی منفی اثرات ہونگے۔




ٹیکسیشن میں ریفنڈبڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کا سبب ہے لیکن ایف بی آر کے ٹیکس افسران اور جعلی برآمدکنندگان ریفنڈ کی بدعنوانیوں میں ملوث ہیں جبکہ کوئی بھی حقیقی برآمدکنندہ یا صنعتکار ملک دشمن کرپشن کے بارے میں تصوربھی نہیں کرسکتا۔ اس موقع پر ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کے رہنمائوں نے کہا کہ 2 فیصد سیلزٹیکس اور5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کے سلسلے میں ویلیوایڈڈ سیکٹر کی کسی بھی ایسوسی ایشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور حیران کن امر یہ ہے کہ اس ضمن میں صرف مقامی مارکیٹ میں یارن فروخت کرنے والے ڈیلرز سے مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفنڈ ریجیم کو بحال کرنے سے صنعتکاروں کا خطیر سرمایہ پھنس جائے گا جو پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ موجودہ حکومت کی معیاد پوری ہونے والی ہے اس نوعیت کے اہم اقدامات آئندہ حکومت کے لیے چھوڑ دینے چاہئیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر حالیہ ٹیکس اقدامات سے متعلق ایس آراوز کو فی الفور معطل کیا جائے اور سیلز ٹیکس ریفنڈ ریجیم کی بحالی کوروکا جائے بصورت دیگر ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے برآمدکنندگان احتجاج کے طور پر اپنی صنعتیں بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پریس کانفرنس میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹرکے علاوہ لیدرگارمنٹس اورکارپٹ ایسوسی ایشن کی 14 ایسوسی ایشنز کے چیرمینز فواد اعجاز، کامران چاندنا، رفیق گوڈیل، سلیم پاریکھ، مزمل حسین، نقی باڑی، عامرحیدربٹ، شاہد رشید، خواجہ عثمان، عرفان علی اوردوست محمدبھی موجود تھے۔
Load Next Story