شاہین ایئرلائن طیارہ حادثے کی انکوائری رپورٹ 2سال بعد جاری
طیارے میں121مسافر سوار تھے، سول ایوی ایشن اتھارٹی، شاہین ایئرلائن اور پائلٹ ذمے دار قرار
جعلی ڈگری ہولڈر پائلٹ نے شراب پی رکھی تھی، آٹو پائلٹ کا سہارا لیتا رہا، رپورٹ میں انکشاف فوٹو:فائل
ISLAMABAD:
شاہین ایئر لائن طیارہ حادثے کی انکوائری 2 سال بعد مکمل ہونے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی، وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ 38 صفحات پر مشتمل ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی، شاہین ایئرلائن اور پائلٹ کو ذمے دار قرار دیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار جہاز شاہین ایئرلائن نے ملائیشین ایئر لائن سے خریدا تھا، ملائیشین ایئر لائن نے20سال استعمال کرنے کے بعد 2012 میں جہاز فروخت کیا، حادثے کے وقت طیارے میں 121 مسافر سوار تھے۔
طیارے کا کپتان عصمت محمود جعلی ڈگری ہولڈر ہے اور جہاز اڑانے سے پہلے کپتان عصمت محمود نے شراب نوشی بھی کی، طیارہ لینڈنگ سے پہلے کپتان آٹو پائلٹ کا سہارا لیتا رہا جبکہ تعلیمی اسناد کی تصدیق کے بغیر نوکری پر رکھنا شاہین ایئر لائن کی مجرمانہ غفلت ہے اور شاہین ایئرلائن کے ڈاکٹرز نے بھی کبھی کپتانوں کا سنجیدہ معائنہ نہیں کیا۔
شاہین ایئر لائن طیارہ حادثے کی انکوائری 2 سال بعد مکمل ہونے پر تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی، وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ 38 صفحات پر مشتمل ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں سول ایوی ایشن اتھارٹی، شاہین ایئرلائن اور پائلٹ کو ذمے دار قرار دیا گیا ہے، رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار جہاز شاہین ایئرلائن نے ملائیشین ایئر لائن سے خریدا تھا، ملائیشین ایئر لائن نے20سال استعمال کرنے کے بعد 2012 میں جہاز فروخت کیا، حادثے کے وقت طیارے میں 121 مسافر سوار تھے۔
طیارے کا کپتان عصمت محمود جعلی ڈگری ہولڈر ہے اور جہاز اڑانے سے پہلے کپتان عصمت محمود نے شراب نوشی بھی کی، طیارہ لینڈنگ سے پہلے کپتان آٹو پائلٹ کا سہارا لیتا رہا جبکہ تعلیمی اسناد کی تصدیق کے بغیر نوکری پر رکھنا شاہین ایئر لائن کی مجرمانہ غفلت ہے اور شاہین ایئرلائن کے ڈاکٹرز نے بھی کبھی کپتانوں کا سنجیدہ معائنہ نہیں کیا۔