سندھ اسمبلی میں بل منظور تجارتی بنیادوں پر گردوں کی خرید و فروخت جرم بن گئی

بعدازمرگ انسانی اعضا کی پیوندکاری کے بل کامسودہ ایس آئی یو ٹی نے15سال قبل بھیجا،صدرمشرف نے آرڈیننس جاری کیا

بعدازمرگ انسانی اعضا کی پیوندکاری کے بل کامسودہ ایس آئی یو ٹی نے15سال قبل بھیجا،صدرمشرف نے آرڈیننس جاری کیا فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
سندھ اسمبلی سے بعدازمرگ انسانی اعضاکی پیوندکاری کے بل کی منظوری کے بعداب صوبے میں گردوں کی تجارت اورتجارتی بنیادوں پرگردوںکی خریدوفروخت اور علاج قابل جرم ہوگیا۔

اس سے قبل بعداز مرگ انسانی اعضا اورٹشوکے بل کے لیے آرڈیننس جاری ہوا تھا جوبعدازاں قومی اسمبلی سے منظورکیا گیا تھا تاہم 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد صحت سے متعلق تمام بل جوقومی اسمبلی سے منظورکیے گئے تھے اب صوبائی اسمبلی سے منظور ہونا تھے کیونکہ 18ویں ترمیم کے بعدصحت سمیت دیگر محکمے صوبائی حکومتوں کے ماتحت ہوگئے، ملک میں بعدازمرگ انسانی اعضا کی پیوندکاری کے بل کا مسودہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) نے15 سال قبل بھیجا تھا جو سردخانے کی نذرکردیا گیا تھا۔




تاہم سابق صدر پرویز مشرف نے2007 میں بعدازمرگ انسانی اعضاکی پیوندکاری کے حوالے سے آرڈیننس جاری کیاتھا جس کے بعد اس بل کوقومی اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اسے منظورکیا گیا اور ملک میں بعداز مرگ انسانی اعضا وٹشوکا قانون بن گیا 18ویں ترمیم کے بعداب صوبائی اسمبلی نے بھی اس بل کی منظوری دیدی ہے جس پرصوبائی محکمہ صحت ماہرین پرمشتمل کمیٹی قائم کرے گا جو نجی اسپتالوں میںکیے جانے والے ٹرانسپلانٹیشن کی مانیٹرنگ کرے گا، صوبائی محکمہ صحت نے بعدازمرگ انسانی اعضاکی پیوندکاری کی مانیٹرنگ کیلیے ایس آئی یوٹی کے ماہرین پر مشتمل ٹرانسپلانٹ کمیٹی بھی قائم کرے گا۔
Load Next Story