ہائیکورٹ نے اسکولوں کو نجی پارٹیوں کے حوالے کرنے کا نوٹس لے لیا
حق پرست رکن اسمبلی خالدبن ولایت نے وزیراعلیٰ کوتحریرکردہ خط میں اسکولوں کو نجی افرادکے حوالے کرنے کا انکشاف کیا تھا
حق پرست رکن اسمبلی خالدبن ولایت نے وزیراعلیٰ کوتحریرکردہ خط میں اسکولوں کو نجی افرادکے حوالے کرنے کا انکشاف کیا تھا،3یوم میں رپورٹ طلب۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم نے سرکاری اسکولوںکی عمارتوںکی غیرقانونی فروخت کے متعلق خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری وزارت تعلیم اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی سے 3 یوم میں رپورٹ طلب کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار عبدالمالک گدی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق27فروری کو شایع اخبارات میں 126سرکاری اسکولوں کی عمارات پرائیویٹ پارٹنرز کو دینے سے متعلق خبریں شایع ہوئیں جن کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی خالد بن ولایت نے وزیر اعلی سندھ کوخط تحریر کیا جس میں سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں اور افراد کے حوالے کرنے کا انکشاف کیا گیا تھا، خالد بن ولایت کے مطابق ان اسکولوں کی عمارتوں میں کثیرالمنزلہ پلازے اور شاپنگ سینٹر قائم ہوگئے ہیں۔
اسکولوں کو دور دراز کی عمارتوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جو اسکول نجی افراد کو دیے گئے ان میں سے ایک منیبہ اسکول بھی تھا جسے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ایک نہاری والے کو دیدیاگیا تھا اور اسے عدالت کے حکم پر واپس لیا گیا، فاضل چیف جسٹس نے خبر کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری تعلیم اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی سے صوبائی اور شہری حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اسکولوں کے متعلق 3یوم میں اپنے جوابات داخل کریں۔
سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار عبدالمالک گدی کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق27فروری کو شایع اخبارات میں 126سرکاری اسکولوں کی عمارات پرائیویٹ پارٹنرز کو دینے سے متعلق خبریں شایع ہوئیں جن کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی خالد بن ولایت نے وزیر اعلی سندھ کوخط تحریر کیا جس میں سرکاری اسکولوں کو نجی اداروں اور افراد کے حوالے کرنے کا انکشاف کیا گیا تھا، خالد بن ولایت کے مطابق ان اسکولوں کی عمارتوں میں کثیرالمنزلہ پلازے اور شاپنگ سینٹر قائم ہوگئے ہیں۔
اسکولوں کو دور دراز کی عمارتوں میں منتقل کردیا گیا ہے، جو اسکول نجی افراد کو دیے گئے ان میں سے ایک منیبہ اسکول بھی تھا جسے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ایک نہاری والے کو دیدیاگیا تھا اور اسے عدالت کے حکم پر واپس لیا گیا، فاضل چیف جسٹس نے خبر کا نوٹس لیتے ہوئے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری تعلیم اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمی کراچی سے صوبائی اور شہری حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اسکولوں کے متعلق 3یوم میں اپنے جوابات داخل کریں۔