ہائر ایجوکیشن کمیشن سندھ سے متعلق حکومت سے جواب طلب

اس ضمن میں دائر دیگر درخواستوں کو اس درخواست سے منسلک کرنے کی ہدایت

اس ضمن میں دائر دیگر درخواستوں کو اس درخواست سے منسلک کرنے کی ہدایت فوٹو: فائل

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن ایکٹ 2013 کے خلاف سابق چیئرمین ہائیر ایجوکیشن عطا الرحمن اور مسلم لیگی رہنما ماروی میمن کی آئینی درخواست پر وفاقی وصوبائی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 مارچ کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔


اس کے علاوہ اس ضمن میں دائر دیگر درخواستوں کو بھی اس درخواست کے ساتھ منسلک کرنیکی ہدایت کی گئی ہے ،درخواست گزاروں نے انور منصور خان ایڈووکیٹ کے توسط سے صوبائی وزارت قانون ،وزارت تعلیم ، بین الصوبائی رابطے کی وزارت کے سیکریٹری اور دیگر کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عدالت عالیہ سندھ اسمبلی سے منظور ہونیوالے اس ایکٹ کو غیر آئینی و غیر قانونی قراردے کیونکہ اعلیٰ تعلیم خصوصی طور پر وفاق کے دائرہ کار میں آتی ہے ، کوئی صوبائی حکومت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی ، اس لیے درخواست کے فیصلے تک صوبائی ہائیر ایجوکیشن کے قیام سے متعلق ایکٹ پر عملدرآمد معطل کرے۔

عدالت عالیہ قراردے کہ اس قانون کے تحت اعلی تعلیم کے لیے تشکیل دیا گیا کوئی بھی کمیشن غیر قانونی ہوگا،درخواست گزاروں نے موقف اختیارکیا کہ صوبائی سطح پر ہائیر ایجوکیشن کے قیام کا مقصد پارلیمنٹرینز کی ڈگریوں کی تصدیق کے عمل کو پیچیدہ بنانا ہے ، اس سے قبل پاک چائنا فاونڈیشن کے ندیم شیخ اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے پی ایچ ڈی کی ڈگریوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز حاصل کیے ہیں اور سرکاری ادارے انہیں ہڑپ کرنے کے لیے کمیشن کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔
Load Next Story