عدلیہ کو ہر وقت نشانہ بنانیوالے ہوش کے ناخن لیں چیف جسٹس

فیصلہ خلاف آئے توقبول کرناچاہیے،عدالتوں پراعتبارکریں، ہم جذبات پرفیصلے کے بجائے ملکی مفاد دیکھیں گے، جسٹس ثاقب نثار

کیا دھوکے بازی، جعل سازی،کسی کوحق سے محروم کرنا بددیانتی نہیں؟ترین کے وکیل سے استفسار۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ پارلیمنٹ کے لوگ بھی باعزت ہیں لیکن ہروقت عدلیہ کونشانہ بنانیوالے ہوش کے ناخن لیں۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی اہلیت کے خلاف حنیف عباسی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ دونوں مقدمات پر عدالت نے اب تک بہت وقت صرف کیا ہے یہ عدالتی کارروائی ٹرائل سے بڑھ کر ہے، آئے روز نئی چیزیں عدالت کے سامنے آ رہی ہیں۔

عدالت نے عمران خان کی طرف سے دائر تازہ دومتفرق درخواستوں پر حنیف عباسی کے وکیل کودلائل دینے کی ہدایت کی ہے جبکہ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیرکے ایس ای سی پی کا سیکشن 15 اے اور 15 بی غیر آئینی طور پر قانون میں شامل ہونے کے دلائل پر اٹارنی جنرل کوقانونی معاونت کیلیے نوٹس جاری کردیے ہیں۔

پارلیمنٹیرینز کی اہلیت کے بارے میں آئین کی شق 62(1)(f) سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ اس کی کئی جہتیں ہیں، یہ نہ صرف امیدوارکی اخلاقی ساکھ بلکہ ذہنی صلاحیتوںکا بھی احاطہ کرتی ہے، اس شق کومقاصد سمیت گہرائی میں سمجھنا ہوگاکیونکہ بددیانتی کی کئی اقسام ہیں، اگر ایک شخص کے بارے میں پوچھا جائے اور باپ بیٹے کوکہے کہ انھیں بتا دوکہ وہ گھر پر نہیں تو یہ بھی بددیانتی ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ کیا اس پر نااہلیت ہوسکتی ہے؟

چیف جسٹس نے کہاکہ دیانت داری،ایمانداری،راست بازی اور امانت دار ہونے کی تشریح ہونا چاہیے تاکہ یہ طے کردیا جائے کہ کسی کو نااہل کرنے کا معیارکیا ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ الزام ہے کہ جہانگیرترین نے اپنے ملازمین کے ذریعے حصص خریدے، یہ بھی الزام ہے کہ ملازمین کے پاس حصص خریدنے کیلیے رقم نہیں تھی، تیسرا الزام ہے کہ ملازمین جہانگیرترین کے بے نامی دارتھے۔ اگر وہ بے نامی دار تھے تو اثاثہ چھپایا گیا، عدالت کو منتخب رکن کی دیانت داری کاجائزہ لینا ہے۔


جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ جہانگیر ترین جے ڈی ڈبلیوکے شیئر ہولڈر تھے اور انھوں نے بطور ڈائریکٹر اندرونی معلومات پرکمپنی کے شیئر خریدے۔ سکندر بشیر نے کہاکہ ایس ای سی پی کا سیکشن15 اے اور 15 بی قانون میں غیر آئینی طور پر شامل کیا گیا۔ایس ای سی پی میں دفاع کیلیے جہانگیر ترین کے پاس جواز موجود تھا لیکن انھوں نے معاملہ ختم کرنے کیلیے ایس ای سی پی کو ازالے کی رقم ادا کی اور وہ کسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہتے تھے، یہ ان کی ایمانداری تھی۔ انھوں نے کہاکہ آرٹیکل 62 ون ایف ایمانداری کو ریگولیٹ کرتا ہے اور ان کا راستہ روکتا ہے جو صادق اورامین نہ ہوں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا دھوکے بازی،جعلسازی، فریب اورکسی کو حق سے محروم کرنا بددیانتی نہیں؟ وکیل نے جواب دیاکہ یہ بددیانتی ہے لیکن پہلے تعین ہونا چاہیے کہ عمل کے پیچھے ارادہ کیا تھا، نیت کے تعین کے بغیر ڈکلیئریشن نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کسی کو بددیانت قرار دینے کے اب تک تمام فیصلے سرسری ہیں، ڈکشنری سے معنی لے کر فیصلے توکر دیے جاتے ہیں لیکن گہرائی میں نہیں دیکھتے، جہانگیرترین نے ایس ای سی پی کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اور غیرآئینی قانون پرنااہلی نہیں ہوسکتی۔

چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ اگرقانون درست ہو توپھرآپ کا موقف کیا ہوگا۔ وکیل نے جواب دیا میرا موقف ہوگاکہ جہانگیرترین کے کاغذات نامزدگی کوکسی نے چیلنج نہیںکیا، ان کے خلاف کسی عدالتی فورم کا فیصلہ بھی نہیں ہے، ڈیکلیئریشن ٹرائل کے بعد دیا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ والدگھر پر بچوںکوکہہ رہے ہیں باہر والے کو بتا دوکہ پاپا گھر پر نہیں ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی بے ایمانی ہے،کیا گھر پر نہ ہونا کہہ دینا صادق اور امین کے زمرے میں آتا ہے؟ دیکھنا ہوگاکہ ارکان پارلیمان کی نااہلی کیلیے ایمانداری کی نوعیت کیا ہوگی۔ بے ایمانی کی ایک صورت کرپشن بھی ہے،اس لیے آئین کے آرٹیکل62 ون ایف کے ایک ایک لفظ کا جائزہ لینا ہوگا، فریقین کے وکلا آرٹیکل62 ون پر معاونت کریں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ آرٹیکل184 تین کے تحت ٹرائل ہی ہورہا ہے، ہم کوئی ہارڈ اینڈ فاسٹ رولز نہیں بناسکتے، آرٹیکل62 کا جائزہ کیس ٹوکیس لیا جاسکتاہے، کیا چیٹنگ اور فراڈ بے ایمانی ہے؟سکندر بشیر نے کہاکہ چیٹنگ اور فراڈکسی حد تک ایمانداری سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ یہ باتیں جہانگیر ترین کے مقدمے سے متعلق ہیں توسکندر بشیر نے کہاکہ ایمانداری سے سب ذاتی فیصلے کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہاکہ عدالتی آبزرویشن پر جائزہ اپنے انداز سے نہ کریں،جج جس طرح سے دیکھتے ہیں اس طرح دوسراکوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا، ٹھیک ہے عدالتی کارروائی رپورٹ کرنے والے کافی عرصے سے رپورٹنگ کر رہے ہیں، عدالت نے ایسی آبزرویشن نہیں دی جوگزشتہ روز ہائی لائٹ کی گئی اور ہماری آبزرویشن کا مطلب فیصلہ نہیں ہوتا ،عدالتی آبزرویشن چیزوںکوسمجھنے کیلیے ہوتی ہے۔ سکندر بشیرنے کہاکہ عدالت کے سوالات میرے لیے بہت معاون ثابت ہوتے ہیں،جب سے کیس شروع ہوا اخبار پڑھنا بندکردیا ہے۔عدالت نے مزید سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
Load Next Story