پارٹی سربراہ کے اختیار کے خلاف ترمیم متفقہ منظور

ترمیم کے تحت آئین میں تبدیلی کیلیے ارکان پارلیمنٹ اپنے ضمیرکے مطابق فیصلہ کرسکیں گے۔

ترقیوں کے طریقہ کارپرکمیٹی قائم، وزیراعظم نے انٹیلی جنس رپورٹ غیرضروری قراردیدیں۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے کسی بھی آئینی ترمیم کیلیے رائے شماری پرپارٹی سربراہ کوحاصل اختیارات محدود کرنے کی ترمیم کی منظوری دیدی ہے۔


ملک کی مرکزی سیاسی جماعتوں بشمول حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی ایک صفحہ پر آگئیں، قائمہ کمیٹی نے پارٹی سربراہ سے یہ اختیار واپس لینے کیلیے حزب اختلاف کی آئینی شق 63الف میں ترمیم کواتفاق رائے سے منظور کرلیاہے۔ ترمیم کے تحت آئین میں تبدیلی کیلیے ارکان پارلیمنٹ اپنے ضمیرکے مطابق فیصلہ کرسکیں گے۔ جبکہ قائمہ کمیٹی نے اعلیٰ سرکاری افسران کی تقرریوں وترقیوں کے طریقہ کار میں اصلاحات کیلیے سابق وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی قائم کردی ہے۔

گزشتہ روز قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جاوید عباسی کی صدارت میں منعقدہ ہوا جس میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ اسد حیا الدین نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم نے اعلیٰ افسران کی ترقیوں کیلیے انٹیلی جنس رپورٹس کو مدنظر نہ رکھنے کا حکم جاری کیا ہے اس بارے میں وزیراعظم سیکریٹریٹ سے باقاعدہ طور پر ادارے کو خط بھی موصول ہوا ہے۔
Load Next Story