منافقت اور مفاد پرستی کا جنازہ

کرپشن، بد عنوانی، کام چوری، اسکولوں، تھانوں، پٹوارخانوں میں بہت سارے جنازے اٹھے اور ہمیں خبر تک نہیں ہوئی

barq@email.com

ہمارے صوبہ خیر پخیر عرف کے پی کے کے موجودہ وزیر اعلیٰ ویسے تو بڑے کام کے بندے ہیں اور ہمارے تو ایک طرح سے گرائیں بھی لگتے ہیں کیونکہ اسی نوشہرہ سے ان کا بھی تعلق ہے جس سے ہم جیسے السایل والمحروموں کا تعلق ہے اس لیے جب وہ کوئی کارنامہ کرتے ہیں تو ہمارا سر بھی فخر سے اونچا ہو جاتا ہے۔ لیکن ان میں شاید بوجہ انتہائی مصروفیت کے ایک کمی ہے کہ اکثر باتیں ادھوری چھوڑ جاتے ہیں۔

اب کے انھوں نے فرمایا ہے کہ منافقت اور مفاد پرستی کی سیاست کا جنازہ نکلنے والا ہے۔ اب ''خبر'' کی حد تک تو ہمیں یقین ہے کہ ذکر شدہ سیاست کی فوتیدگی یقیناً ہو چکی ہے کیونکہ ساتھ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں رشوت بدعنوانی اور کام چوری کے جنازے نکل چکے ہیں۔ اب ہمارے لیے یہ بڑی شرم کی سی بات ہے کہ صوبے میں اتنے بڑے بڑے جنازے نکل رہے ہیں اور ہم اس سے یکسر محروم ہو رہے ہیں۔

ایک عام مسلمان کی حیثیت سے جنازے میں شرکت کرنا کار ثواب ہے اور ہم اس کار ثواب سے محض اس لیے محروم رہ جاتے ہیں کہ جنازے کی خبر تو دے دی جاتی ہے لیکن ''وقت اور مقام'' نہیں بتایا جاتا ہے، ورنہ اور کچھ نہیں تو کوئی پھٹیچر سائیکل ہی لے کر ہم اس پُر ہجوم جنازوں میں شرکت کی سعادت ضرور حاصل کرتے۔ خیر جو جنازے ہم سے چھوٹ چکے ہیں وہ تو چھوٹ چکے خاص طور پر رشوت اور بدعنوانی عرف کرپشن کے جنازے سے محرومی کا دکھ ہمیشہ رہے گا کیونکہ اگر آپ کو یاد ہو تو کرپشن ہماری موکلہ تھی۔

اور ہم اس کی مظلومیت اور ہونے والی بے انصافی کا رونا اکثر روتے تھے، کہ جس ممدوحہ نے اس ملک کا سب کچھ سنوارا ہوا ہے یہ سارے تام جھام، یہ لگژیاں، یہ بینکوں کی بھرائی اور نہ جانے کیا کیا اس کے دم قدم سے تھا۔ مجال ہے کہ اس نے پاکستان میں کسی کے کسی بھی کام کو رکنے دیا ہو اور ایسا شخص بمشکل ملے گا جو اس کا احسان تلے دبا نہ ہو۔ لیکن اس احسان ناشناس معاشرے نے جب اس کے خلاف منہ کھولا تو صرف ہم ہی تھے جو اس کی طرف داری میں کھڑے ہو گئے اور نہایت زوردار دلائل سے ثابت کر دیا کہ کرپشن نے اس ملک میں کسی کا کچھ بھی بگاڑا نہیں ہے بلکہ سنوارا ہی سنوارا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمیں پتہ بھی نہیں چلا اور اس بیچاری کو کیفر کردار تک پہنچا کر جنازے پر کھینچ ڈالا۔ اور ہمیں جنازے کے وقت اور مقام سے بھی محروم رکھا۔ بلکہ سنا ہے اس کی قبر بھی ہموار کر دی گئی کہ کوئی فاتحہ بھی نہ پڑھنے پائے۔

وہ تو جو ہونا تھا سو ہو گیا۔ کرپشن، بد عنوانی، کام چوری، اسکولوں، تھانوں، پٹوارخانوں میں بہت سارے جنازے اٹھے اور ہمیں خبر تک نہیں ہوئی لیکن اب کے یہ جو وزیر اعلیٰ محترم نے منافقت اور مفاد پرستی کی سیاست کا جنازہ بتایا ہے اس کے ساتھ نکلنے والا کی امید افزا خبر بھی ہے کب نکلنے والا ہے کہاں سے نکلنے والا اور کہاں جنازہ پڑھا جائے گا۔ ہمیں بس اتنا پتہ لگانا ہے لیکن یہ آسان کام نہیں ہے کیونکہ ٹاپ سیکرٹ کا معاملہ لگتا ہے ورنہ وقت اور مقام بلکہ پیش امام بتانے میں کیا حرج تھا؟۔غالباً ہماری چوتھی جماعت کی اردو کتاب میں ''جھینگر'' پر ایک مضمون تھا اس زمانے میں غالباً جرمنی کے قیصر کی بھی مونچھیں ہوا کرتی تھیں مضمون نگار نے کتاب کے اندر ایک مرا ہوا جھینگر پایا تھا تو اس کی صفات عالیہ کے ساتھ ساتھ اس کے جنازے کا منظر بھی کھینچا جس میں ایک شعر بھی تا کہ


جھینگر کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے
قیصر کا یہ پیارا ہے اسے توپ پہ کھینچو

اب یہ جو منافقت اور مفاد پرستی کی ''سیاست'' کا جنازہ نکلنے والا ہے یہ بھی کوئی کم اہمیت کا جنازہ نہیں ہے۔ ذرا حساب لگا کر دیکھیے مفاد پرستی اور منافقت کی اس سیاست نے جو بقول پرویز خٹک یا تو فوت ہو چکی ہے اور یا فوت ہونے والی اور اب اس کا جنازہ نکلنے والا ہے تو یہ جنازہ بھی ذرا دھوم سے نکلنا چاہیے۔ اگر توپ پر کھینچنے کی سہولت میسر نہ ہو تو کم از کم کسی جھنڈے والی گاڑی میں تو ضرور نکلنا چاہیے۔ آخر پورے ستر سالہ خدمات کی حامل ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج اچانک سیاست کا رخ بدل کر انصاف کی طر ف ہو گیا ہے ورنہ گزشتہ ستر سال میں تو یہی مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست چلی رہی ہے۔ اب مرحوم ہوئی تو کیا ہوا اس کی ''خدمات'' تو بھلانے کی نہیں ہیں۔

خاص طور پر لیڈران کرام وزیران عظام اور افسران والا مقام تو اسی کے دم قدم سے شاد و آباد ہیں۔ ویسے ایک ضمنی سوال اور بھی پیدا ہو رہا ہے جو اس سیاست کے جنازے سے بھی زیادہ اہم ہے کہ مفاد پرستی اور منافقت کی اس ''سیاست'' کا تو جنازہ نکل ہی جائے گا لیکن اس کی جگہ کون سی سیاست لے گی؟۔کیونکہ جہاں تک ہمارا خیال ہے نہ تو آسمان سے کوئی نئی سیاست اُتری ہے نہ دساور سے کوئی نئی سیاست درآمد کی گئی ہے۔ اسی کھیت، اسی مٹی، اسی پانی سے اسی ''بیج'' کو اگایا گیا ہے۔ یا اگایا گیا ہوگا۔ تو یہ تو مولانا روم بہت پہلے فرما گئے ہیں کہ

گندم از گندم بروید جو ز جو
ازمکافات عمل غافل مشو

آج تک ایسا تو کبھی ہوا نہیں ہے کہ کسی نے کریلے میں پیوند کاری کرکے مالٹا یا آم اگایا ہو۔ لیکن شاید ہمارے علم میں کچھ کمی ہو کہ وہی پرانے درخت نیا پھل دینے لگ جائیں۔ بظاہر ممکن تو نہیں لیکن دنیا میں کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے۔ بہر حال ہم منتظر ہے کہ مفاد پرستی اور منافقت کی سیاست کا جنازہ نکلنے کے بعد کیا ظہور میں آتا ہے۔ جب دودھ بھی وہی ہو دہی بھی وہی ہو اور مٹکا مدھانی بھی وہی ہو تو......؟
Load Next Story