طالبان سے بات چیت روڈ میپ کیا ہو گا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک اعصاب شکن تناظر رکھتی ہے

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک اعصاب شکن تناظر رکھتی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس نے فاٹا میں طالبان سمیت تمام فریقین سے مذاکرات کے لیے قبائلی جرگہ کو با اختیار بناتے ہوئے پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کر دیا، جب کہ کانفرنس میں شریک تمام قومی رہنمائوں نے طالبان کی طرف سے مذاکرات کی پیش کش کا مثبت جواب دینے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن مذاکرات سے ہوتا ہے، جنگ سے نہیں، مذاکرات کے لیے طالبان کی پیش کش کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، حکومت طالبان کی پیش کش کا مثبت جواب دے' قیام امن کے لیے پارلیمنٹ کی قراردادوں پر عمل نہ ہونا افسوس ناک ہے، ملک میں امن و امان کی صورتحال مایوس کن ہے۔

اعلامیے پر تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے دستخط کر دیے جس کے مطابق گرینڈ قبائلی جرگے میں مزید جماعتوں کو شامل کرنا، شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کی فلاح و بہبود کے لیے ٹرسٹ کا قیام، پاکستان کے آئین اور قانون کی عملداری مستحکم کرنے کے لیے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت اور اپوزیشن پر ان مذاکرات کو آگے لے کر چلنا بھی شامل ہے۔ سیاسی اور جمہوری قوتوں اور جمہوری انداز فکر رکھنے والی منتخب حکومت کی طرف سے مذاکرات سے انکار خاصا دشوار ہوتا ہے کیونکہ جمہوریت کی اساس مکالمہ، استدلال، منطق، رواداری اور مفاہمانہ ڈائیلاگ پر ہوتی ہے۔

دنیا بھر میں شورش اور جنگ زدہ معاشروں، دہشت گردی، تخریب کاری، پر تشدد جدوجہد، خونی انقلاب، علیحدگی، آزادی کی تحریکوں کے پرتشدد نشیب و فراز کے بعد بھی مسائل و تنازعات کا حل رو برو بیٹھ کر مکالمہ کے ذریعے نکالا گیا ہے، حتیٰ کہ امریکا کے نئے وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ امریکا زبردستی دنیا سے اپنی ہر بات نہیں منوا سکتا، ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر معاملات طے کرنے ہیں۔ امریکا سمیت کوئی قوم اکیلے چیلنجز کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لیے ہمیں مل کر کوششں کرنی ہو گی۔ جب ایک سپر پاور کی کچھ محدودات ہیں تو پاکستان کو کون سی طاقت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے؟ ہیگل نے کہا کہ امریکا کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ دنیا پر اپنا حکم چلائے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ایک اعصاب شکن تناظر رکھتی ہے، طالبان نے پاکستان کی ریاستی رٹ کو چیلنج کیا، جمہوری عمل کو مسترد کرتے ہوئے القاعدہ کے ایجنڈے کے اشتراک عمل سے ہزاروں پاکستانی شہریوں کو شہید کیا، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے سر قلم کیے، سوات، جنوبی اور شمالی وزیرستان سمیت فاٹا کے علاقے کو نوگو ایریا بنا کر پاکستان کی سالمیت، خود مختاری اور معمولات زندگی کو درہم برہم کرنے پر کمر باندھ لی۔ یہ وہ درد ناک زمینی حقائق ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے طالبان سے بات چیت کا ایجنڈا قومی اتفاق رائے سے ترتیب دینا ہو گا۔ موجود حکومت کو طالبان کی طرف سے دہشت گردی کا ورثہ ملا۔ پی پی کی اتحادی حکومت کی تقریباً پوری مدت اسی دہشت گردی کی نذر ہوئی۔ قومی ترقی و خوشحالی کے خواب چکنا چور ہوئے۔


لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مملکت خدا داد اور اس کے 18 کروڑ محب وطن شہری اپنی جمہوریت کو دائو پر لگا کر ساری عمر دہشت گردی اور طالبان سے جنگ اور مزاحمت میںنہیں گزار سکتے اس لیے مذاکرات کی پیشکش کو اس کے عبوری اور مستقبل کے نتائج کے حوالے سے مکمل باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے جب کہ خطے میں افغان جنگ سے پیدا شدہ تزویراتی، سیاسی، عسکری اور اقتصادی حرکیات اور تبدیلیوں کا ادراک بھی ناگزیر ہے۔ مذاکرات کیجیے، طالبان سے بلوچستان کے ناراض لیڈروں سے اور ہر اس سیاسی جماعت اور تنظیم سے جو پاکستان کی سالمیت، جمہوری استحکام، اس کی خود مختاری اور قومی وقار کو ملیامیٹ کرنے پر کمر بستگی کے بجائے اس کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے کچھ لو کچھ دو کے جذبے کے تحت میز پر آ کے بیٹھے۔

مگر بات چیت تاریخی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔ جہاں تک طالبان سے بات چیت کے لیے جمعیت علمائے اسلام کی کل جماعتی کانفرنس اور اس کے اعلامیے کا تعلق ہے، اسے درست سمت میں ایک اہم قدم سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل اے این پی کی اے پی سی کو بھی امن، جمہوری عمل کے تسلسل اور دہشت گردی کے خاتمے کی عوامی تمنائوں کا ایک مثبت اظہار سمجھاگیا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کانفرنس میں بوجوہ شرکت نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات سے دو ہفتے قبل اے پی سی کرانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ بہر کیف مذاکرات سے قبل روڈ میپ بنایا جائے جس میں سوچا جائے کہ طالبان کے مذاکراتی ایجنڈے کی بنیاد کیا ہے، کیا یہ پیشکش پاکستان کو اس کی مضبوط پوزیشن کے پیش نظر دی گئی ہے، اس میں طالبان کا احساس زیاں شامل ہے یا بات چیت کا تحفہ اس رعونت اور اسلحہ کے پیدا کردہ تکبر کا سبب تو نہیں جس میں پاکستان کو یہ ملفوف پیغام دیا جا رہا ہو کہ جمہوریت کی نجات اب طالبان سے بات چیت ہی میں ہے۔

نیت اور دل دونوں طرف سے صاف ہونے چاہئیں۔ دیکھنا ہو گا کہ ماضی میں ہونے والے طالبان اور دیگر قبائلی اکابرین، لشکر اور جرگوں کی بنیاد پر جو معاہدے ہوئے ان کا کیا بنا۔ پھر پاکستانی اور افغان طالبان کی جدوجہد اور ان کے اہداف کے اختلاف کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر، کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے اپنا تعلق الگ ظاہر کرتے رہے، افغانستان میں طالبان غیر ملکی فورسز کو اپنے وطن سے نکالنے کی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ انداز نظر قابل غور ہے کہ اگر وہاں امریکا و نیٹو حکام سے ممکنہ کامیاب مذاکرات میں پاکستان کا کردار ایک امدادی اور مشاورتی دوست و پڑوسی ملک کا ہوتا ہے تو پاکستانی طالبان کو افغان طالبان سے دہشت گردی یا ریاست کے خلاف تصادم کے لیے کوئی کمک نہیں مل سکتی۔ افغان طالبان کی جدوجہد واضح ہے جب کہ پاکستانی طالبان کی منزل کیا ہے کوئی لالہ صحرائی ہی بتا پائیگا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اہل وطن پر خود کش بمباروں نے قیامت ڈھائی، بم حملوں سے جانی و مالی نقصانات کا تصور ہی دل دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔

اس سب کے باوجود وفاقی حکومت اے پی سی کی سفارشات کی روشنی میں آگے بڑھی تو سیاسی قوتوں کی مکمل حمایت اس بات چیت کو فیصلہ کن بھی بنا سکتی ہے، یقیناً ایک مثبت پیش رفت کی سب کو توقع بھی رکھنی چاہیے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے فاٹا میں امن کے لیے گرینڈ جرگہ کی حمایت کر دی ہے، طالبان سے مذاکرات کے لیے فوج سے بھی بات کی جائے گی۔ طالبان نے تین نام مولانا فضل الرحمن، میاں نواز شریف اور منور حسن کے دیے مگر ان کی پیشکش کا جواب تین کے بجائے پوری قومی قیادت کے ساتھ دیا ہے، پورے ملک، فاٹا، بلوچستان اور افغانستان کا امن فاٹا سے وابستہ ہے۔ کانفرنس سے مولانا فضل الرحمن، قومی جرگہ کے چیئرمین قادر خان، مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف، تحریک تحفظ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن، اے این پی کے رہنما سینیٹر افراسیاب خٹک، آفتاب شیر پائو، ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فارق ستار، علامہ ساجد میر، سینیٹر میر حاصل بزنجو ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ سردار محمود خان اچکزئی، اسلامی تحریک کے سربراہ ساجد نقوی، جے یو پی کے سربراہ ڈاکٹر ابوالخیر زبیر، اہلسنت و الجماعت پاکستان کے سربراہ علامہ احمد لدھیانوی، پاکستان علما کونسل کے سربراہ علامہ حافظ طاہر محمود اشرفی، مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت، صوبائی وزیر اطلاعات اور اے این پی کے پارلیمانی لیڈر میاں افتخار حسین نے اظہار خیال کیا۔

یہ ایک نمایندہ اجتماع تھا جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کل جماعتی کانفرنس کے پلیٹ فارم سے امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے وہ خود حکومتی سطح پر سیاسی قوتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کل جماعتی کانفرنس بلائے تا کہ طالبان سے نتیجہ خیز مذاکرات کر کے پورے ملک کو امن کا گہوارہ بنایا جا سکے پارٹی تنظیمیں مل بیٹھ کر انتخابات کے لیے بھر پور تیاری کریں۔
Load Next Story