سیاسی کارکن اور انتخابات

دنیا کی ان قدیم سیاسی جماعتوں میں سیاسی کارکنوں کے ادارہ کی شفافیت اور اس کی اہمیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے

tauceeph@gmail.com

لاہور:
پیپلز پارٹی میں مخلص اور بے لوث کارکنوں کی کمی نہیں لیکن وہ جس طرح گزشتہ کئی برسوں سے نظر انداز کیے گئے ہیں، وہ اپنی جگہ ایک المیہ ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو میڈیا سے بھی دور رہے۔ کراچی کے خلیل قریشی کی عمر اب 60 سال ہے، وہ جب میٹرک میں تھے تو ذوالفقارعلی بھٹو نے پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی۔ خلیل قریشی کا خاندان سابقہ ڈرگ کالونی، شاہ فیصل کالونی میں آباد تھا، بائیں بازو کی کارکنوں، مزدور تنظیموں کے رہنمائوں کی ایک کثیر تعداد اس وقت ڈرگ روڈ کالونی میں رہتی تھی، یہ اسکول کے دنوں سے ترقی پسند تحریک سے روشناس ہوئے، جب 1969 میں ترقی پسند کارکنوں نے ڈرگ روڈ کالونی میں پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی تو خلیل قریشی پارٹی کے کارکن بننے والوں کی فہرست میں سرفہرست تھے۔

انھوں نے جب جامعہ ملیہ کالج میں داخلہ لیا اور وہ نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوئے اور 1975-76 میں جامعہ ملیہ کالج کی طلبا یونین کے صدر منتخب ہوئے۔ طالب علمی کے دور میں وہ دائیں بازو کی طلبا تنظیم کے تھنڈر اسکواڈ کی چیرہ دستی کے خلاف سینہ سپر رہے۔ جب وہ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کی سند لے کر فارغ ہوئے تو جنرل ضیاء نے 1977 میں پیپلزپارٹی کی پہلی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔ ملک میں شہری آزادیوں پر قدغن لگادی گئی تھی۔

سیاسی کارکنوں کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ہراساں کرتے تھے اور مزاحمت ختم نہ کرنے والے کارکن سیف ہائوسز، تھانوں اور جیلوں میں مقید کردیے جاتے تھے ۔ خلیل قریشی نے اس پر آشوب سیاسی ماحول میں پیپلزپارٹی میں سرگرمیاں شروع جاری رکھیں، انھوں نے شاہ فیصل کالونی سے پہلے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا، انتخابی نتائج میں ان کا نام سب سے آگے تھا مگر مقامی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی مداخلت پر وہ کامیاب قرار نہیں دیے گئے، پھر جب جنرل ضیاء الحق نے انتخابات ملتوی کیے اور سیاسی جماعتون کو کالعدم قرار دیا گیا، پیپلزپارٹی کے ترجمان اخبار سمیت بائیں بازو کے بہت سے اخبارات و رسائل پر پابندی عائد کردی گئی۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے مارشل لاء کے اس جابرانہ حکم کے خلاف روزنامہ مساوات شایع کرنے کا فیصلہ کیا۔ خلیل قریشی کراچی میں اس ٹیم میں شامل تھے جو ترجمان اخبار کو شایع اور تقسیم کرتی تھی ۔پھر خلیل قریشی گرفتار ہوئے۔

جان عالم جو اپنی زندگی کی 64 بہاریں دیکھ چکے ہیں وہ لیاقت آباد میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شامل ہوئے۔ 70 کی دہائی میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی، دن بھر محنت کرتے تھے، گریجویشن کی تعلیم مکمل کرنے کے لیے شام کو سٹی کالج میں داخلہ لیا، دو دفعہ سٹی کالج کی طلبا یونین کے صدر منتخب ہوئے پھر کراچی یونیورسٹی میں پروگریسو فرنٹ کو منظم کیا، جان عالم جب این ایس ایف کے صدر تھے تو 1978 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس اور ایپنک نے روزنامہ مساوات پر پابندی کے خلاف کراچی میں تحریک شروع کی، اس تحریک کے لیے فضا ہموار کرنے کی کوشش میں اردو سائنس کالج میں رجعت پسندوں کے تشدد کا شکار ہوئے مگر صحافیوں کے مطالبات کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے اور گرفتاری دی۔

جب حکومت نے پی ایف یو جے کے مطالبات مان لیے، صحافی مزدوروں، طلبا اور دوسرے کارکن رہا ہوئے مگر جان عالم مارشل لاء ضوابط کے تحت نظر بند کردیے گئے۔ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر رہائی ملی مگر پھر جان عالم، خلیل قریشی اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ کے خفیہ ایجنسیوں کے آپریشن میں گرفتار ہوئے، انھیں پی آئی اے کے طیارہ اغوا کرنے والوں کے مطالبے پر دمشق لے جایا گیا۔ خلیل قریشی دمشق سے کابل آئے اور پھر کراچی پہنچے اور دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔ خلیل نے 6 سال ہری پور جیل میں گزارے۔


شاہ جہان خان نوجوان ہیں، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا، پھر قوم پرست سیاست کو چھوڑ کر پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ لانڈھی میں عوامی کاموں کے لیے مشہور ہیں، ان کے مخالفین بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ کبھی کسی کو ملازمت دلوانے اور کسی اور کام کے لیے پیسے نہیں لیتے۔ خلیل قریشی، جان عالم اور دوسرے سیاسی کارکنوں کی قربانیوں کو پیپلزپارٹی کی سربراہ نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے بار بار سراہا، مگر ان کارکنوں کو قومی و صوبائی اور سینیٹ کے ٹکٹ نہیں دیے تھے۔ پیپلزپارٹی نے ایسے کئی جانثار کارکنوں کو چھوڑ کر موقع پرستوں کو ٹکٹ اور ان لوگوں کو نوازا، جنہوں نے بھاری رقمیں پیپلزپارٹی کے بعض رہنمائوں کو دیں۔

جب سیاسی موقع پر ستوں اور سرمایہ کی بنیاد پر انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم ہوئی اور جب یہ لوگ اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہوئے تو انھوں نے اپنی سرمایہ کاری سے کئی گنا زیادہ رقمیں وصول کرنے کی کوشش کی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کا ہر دور کرپشن اور نااہلی کے حوالے سے پہلے دور کو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ پانچ سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ہر وزیر اور منتخب اراکین کے خلاف اسکینڈلز کی بھر مار نظر آتی ہے۔ سندھ میں ہر محکمے میں ملازمتوں کی فروخت سرکاری افسروں کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے لیے بھاری رقموں کا ذکر ہوتا ہے مگر اکثر واقعات سچائی پر مبنی ہوتے ہیں، اس ساری صورتحال میں پیپلزپارٹی کی حکومت اچھی طرز حکومت سے محروم نظر آتی ہے۔

پیپلزپارٹی کے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ صدر زرداری کی قیادت میں موجودہ حکومت نے پانچ سال مکمل کرکے جمہوری نظام کے استحکام کے لیے رکاوٹوں کو دور کردیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے آئینی اور قانونی محاذ پر تاریخ ساز کارنامے انجام دیے ہیں۔ حکومت نے آئین میں کی گئی 18ویں، 19ویں اور 20 ویں ترامیم کے ذریعے 1973 کے آئین کو اصلی شکل میں بحال کیا ہے اور اختیارات صوبوں کو منتقل کرکے 1940 کی قرارداد لاہور کی روح کے مطابق وفاق کو مستحکم کیا۔ اس طرح شہریوں کے تعلیم اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پیپلزپارٹی کے بعض اراکین نے قابل قدر قوانین پارلیمنٹ سے منظور کرائے ہیں مگر میرٹ کی پامالی اور اچھی طرز حکومت سے محرومی نے پیپلزپارٹی کی کامیابیوں کو ماند کردیا ہے۔

بعض ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے علاوہ ملک کی دوسری بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی وغیرہ میں بھی ایسا ہی کلچر پروان چڑھا ہے۔ یہ کلچر سیاسی جماعتوں کو کھوکھلا کرتا ہے، سیاسی جماعتوں کے عوام سے رابطے کمزور ہوتے ہیں۔ دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک میں سیاسی جماعتیں اپنی تنظیم نو کرتی ہیں، وہ سیاسی کارکنوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتی ہیں، یہ سیاسی کارکن ان جماعتوں کو نئی قیادت فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اسٹبلشمنٹ بہت مضبوط ہے، اسٹبلشمنٹ اور اس کے حواری سیاسی جماعتوں کی ناکامی کا واویلا کرکے جمہوری نظام کو سبو تاژ کرنے کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں۔

اس صورتحال میں پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتوں کی قیادت کی ذمے داری ہوتی ہے کہ اپنے کارکنوں کی سیاسی تربیت کریں اور انتخابات میں امیدواروں کے چنائو کے مرحلے پر مخلص کارکنوں کو اہمیت دی جائے اور انتخابی اخراجات کے لیے فنڈزفراہم کیے جائیں۔ اہل کارکن جب منتخب ہوکر قیادت سنبھالیں گے تو وہ میرٹ کے اصول کو ترجیح دیں گے۔ خاص طور پر پیپلزپارٹی کی قیادت کو بدعنوان عناصر سے جان چھڑانی چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری نئے وژن کے ساتھ پارٹی کی قیادت سنبھال رہے ہیں، انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کے دوران برطانیہ میں لیبر پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کی تنظیموں کا مطالعہ کیا ہے۔

دنیا کی ان قدیم سیاسی جماعتوں میں سیاسی کارکنوں کے ادارہ کی شفافیت اور اس کی اہمیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، حکومت کو چلانے کے لیے ٹیکنوکریٹس کو ترجیح دی جاتی ہے، قیادت نچلی سطح سے ابھرتی ہے۔ اگر پارٹی قیادت نے وقتی فائدے کو نظرانداز کرکے مستقبل پر توجہ دی تو خلیل قریشی اور جان عالم جیسے کارکنوں کو مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور پیپلزپارٹی ملک کو ترقی کی جانب گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرسکے گی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنے گی، اس سے مخلص کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
Load Next Story