کرکٹ کپتان سرفراز احمد کا قابل ستائش اقدام
کپتان سرفراز کو اس سے قبل اپنے بعض سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعات کا علم تھا
کپتان سرفراز کو اس سے قبل اپنے بعض سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعات کا علم تھا ۔ فوٹو فائل
جہاں تک کرکٹ میچ میں ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرنے کے الزام کا تعلق ہے تو پاکستان کی اس حوالے سے ساکھ کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے کیونکہ کبھی یہ الزام درست ثابت ہو جاتا ہے کبھی غلط نکلتا ہے۔ بعض کھلاڑیوں کو میچ فکس کرنے کے الزام میں جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی۔
وہ بکی جو عمومی طور پر برصغیر پاک و ہند اور جنوبی ایشیا میں اس قسم کی کارروائیاں کراتے ہیں وہ خود منٹوں سکینڈوں میں لاکھوں کروڑوں کما لیتے ہیں جب کہ کھلاڑی اپنے اناڑی پن کی وجہ سے پکڑے جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ پوری کی پوری ٹیم گرفت میں آ جاتی ہے اور یوں اپنے ملک کے لیے بھی بدنامی کا باعث بنتی ہے لیکن کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے جب جرم کا پتہ نہیں چلتا اور یوں مجرم صاف بچ جاتا ہے۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی اپنی نیکو کاری کی وجہ سے نمایاں ہو کر داد و تحسین وصول کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔
اس نوعیت کا ایک واقعہ سری لنکا کے ساتھ کھیلے جانے والی ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی پانچ روزہ سیریز کے دوران پیش آیا جو یو اے ای میں کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے ساتھ بکی کی طرف سے رابطہ کیا گیا اور میچ فکس کرنے پر بھاری رقم کی پیشکش کی گئی۔
کپتان نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سے آگاہ کر دیا جس پر بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے بروقت کارروائی کرکے صورت حال کو سنبھال لیا اور کپتان کی ستائش کی گئی۔ جس بکی نے پیشکش کی اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستانی نژاد ہے یہ پیشکش پہلے او ڈی آئی کے بعد اس وقت کی گئی جب سرفراز اپنی فیملی کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا۔
کپتان سرفراز کو اس سے قبل اپنے بعض سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعات کا علم تھا لہذا اس نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ پیشکش کو سختی سے ٹھکرا دیا بلکہ فوراً ہی کرکٹ بورڈ کے ذمے داروں کو بھی اس سے آگاہ کر دیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہمارے کھلاڑیوں کو اس قسم کی کسی پیشکش کرنے کی کسی کوجرات نہیں ہو سکے گی۔ تاہم ہمارے کھلاڑیوں کے کئی پرستار بھی ہوتے ہیں جو ان سے رابطہ قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں البتہ اب انھیں بھی بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہو گی۔
وہ بکی جو عمومی طور پر برصغیر پاک و ہند اور جنوبی ایشیا میں اس قسم کی کارروائیاں کراتے ہیں وہ خود منٹوں سکینڈوں میں لاکھوں کروڑوں کما لیتے ہیں جب کہ کھلاڑی اپنے اناڑی پن کی وجہ سے پکڑے جاتے ہیں۔ کئی مرتبہ پوری کی پوری ٹیم گرفت میں آ جاتی ہے اور یوں اپنے ملک کے لیے بھی بدنامی کا باعث بنتی ہے لیکن کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے جب جرم کا پتہ نہیں چلتا اور یوں مجرم صاف بچ جاتا ہے۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی اپنی نیکو کاری کی وجہ سے نمایاں ہو کر داد و تحسین وصول کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔
اس نوعیت کا ایک واقعہ سری لنکا کے ساتھ کھیلے جانے والی ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کی پانچ روزہ سیریز کے دوران پیش آیا جو یو اے ای میں کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے ساتھ بکی کی طرف سے رابطہ کیا گیا اور میچ فکس کرنے پر بھاری رقم کی پیشکش کی گئی۔
کپتان نے یہ پیشکش مسترد کر دی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس سے آگاہ کر دیا جس پر بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے بروقت کارروائی کرکے صورت حال کو سنبھال لیا اور کپتان کی ستائش کی گئی۔ جس بکی نے پیشکش کی اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ پاکستانی نژاد ہے یہ پیشکش پہلے او ڈی آئی کے بعد اس وقت کی گئی جب سرفراز اپنی فیملی کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا۔
کپتان سرفراز کو اس سے قبل اپنے بعض سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ہونے والے ناخوشگوار واقعات کا علم تھا لہذا اس نے فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف یہ کہ پیشکش کو سختی سے ٹھکرا دیا بلکہ فوراً ہی کرکٹ بورڈ کے ذمے داروں کو بھی اس سے آگاہ کر دیا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب ہمارے کھلاڑیوں کو اس قسم کی کسی پیشکش کرنے کی کسی کوجرات نہیں ہو سکے گی۔ تاہم ہمارے کھلاڑیوں کے کئی پرستار بھی ہوتے ہیں جو ان سے رابطہ قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں البتہ اب انھیں بھی بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہو گی۔