الیکشن کوریج سے متعلق میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
انتخابی کوریج کرنیوالاسیاسی طورپرغیرجانبدارہو،دباؤقبول نہ کرے،پریس کونسل آف پاکستان.
انتخابی کوریج کرنیوالاسیاسی طورپرغیرجانبدارہو،دباؤقبول نہ کرے،پریس کونسل آف پاکستان. فوٹو : فائل
MIRANSHAH:
پریس کونسل آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کی کوریج کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے لیے 15 نکاتی ضابطۂ اخلاق جاری کردیا۔
جمعے کوجاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو کوریج دینے کے حوالے سے وقت اورگنجائش کے تعین میں شفافیت کے اصول اپنا ئے، خواتین وحضرات اورمعاشرے کے تمام طبقوں اورتمام جمہوری گروپوں کی خواہشات کی عکاسی کرے۔ نجی وسرکاری میڈیا دونوں تشہیری اور ادارتی مواد میں فرق کریں اور تشہیری یا پیڈ (ادائیگی) سیاست کے فروغ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ معاوضے کی ادائیگی پرمبنی سیاسی مواد کی ہر صورت نشاندہی کردی جائے۔
میڈیا انتخابات میں لوگوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرے تاہم افواہوں، قیاس آرائی، سنسنی خیزی اور غلط معلومات، مذموم مقاصد کیلیے ذاتی ریمارکس، رائے یا الزامات کی اشاعت، نفرت پرمبنی تقریر کے نشر/شائع کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ میڈیا سیاسی سرگرمیوں کی کوریج کے دوران اشتعال انگیزخیالات کو نشر/شائع کرنے سے گریزکرے۔ انتخابی عمل کے دوران خصوصاً انتخابات کے قریب آنے پر سروے یا جائزوں میں احتیاط برتی جائے۔ انتخابی نتائج کی صحیح رپورٹنگ کی جائے اور غیرحتمی اور غیر مصدقہ انتخابی نتائج نشر/شائع نہ کیے جائیں۔
میڈیا اس بات کو یقینی بنائے کہ انتخابات کی کوریج کرنے والا اسٹاف تربیت یافتہ اور سیاسی طور پر غیرجانبدار ہو۔ صحافیوں اور میڈیا کے عملے کا تحفظ بہت اہم ہے، اس سلسلے میں تمام میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حفاظتی اقدامات کر یں۔ انتخابات کے عرصے کے دوران کسی طرح کے پروگرام میں امیدوار نیوزاینکرز، انٹرویو لینے والوں جیسا طرزعمل نہ اپنائیں۔ انتخابات کی کوریج کرنے والے صحافی خود کو کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کا ایجنٹ بننے سے دور رکھیں۔ انتخابات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو دستاویز، تحفے یا کیش کی صورت میں کوئی سیاسی قیمت ادا نہ کی جائے۔ میڈیا اہم سیاسی جماعتوں/انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مناسب موقع اور وقت دے۔
میڈیا کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کا دباؤ قبول نہ کرے۔ واضح رہے کہ پریس کونسل آف پاکستان کی جانب سے یہ ضابطۂ اخلاق میڈیا کے تمام شراکت داروں بشمول اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یوجے، پی بی اے، ای جی این، بارایسوسی ایشنز، کراچی، لاہور، ملتان اوراسلام آباد میں متعلقہ سول سوسائٹی کی تنظیموں سے مشاورت کے بعد تیارکیاگیا۔
پریس کونسل آف پاکستان نے آئندہ عام انتخابات کی کوریج کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے لیے 15 نکاتی ضابطۂ اخلاق جاری کردیا۔
جمعے کوجاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق میڈیا سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو کوریج دینے کے حوالے سے وقت اورگنجائش کے تعین میں شفافیت کے اصول اپنا ئے، خواتین وحضرات اورمعاشرے کے تمام طبقوں اورتمام جمہوری گروپوں کی خواہشات کی عکاسی کرے۔ نجی وسرکاری میڈیا دونوں تشہیری اور ادارتی مواد میں فرق کریں اور تشہیری یا پیڈ (ادائیگی) سیاست کے فروغ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ معاوضے کی ادائیگی پرمبنی سیاسی مواد کی ہر صورت نشاندہی کردی جائے۔
میڈیا انتخابات میں لوگوں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کرے تاہم افواہوں، قیاس آرائی، سنسنی خیزی اور غلط معلومات، مذموم مقاصد کیلیے ذاتی ریمارکس، رائے یا الزامات کی اشاعت، نفرت پرمبنی تقریر کے نشر/شائع کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ میڈیا سیاسی سرگرمیوں کی کوریج کے دوران اشتعال انگیزخیالات کو نشر/شائع کرنے سے گریزکرے۔ انتخابی عمل کے دوران خصوصاً انتخابات کے قریب آنے پر سروے یا جائزوں میں احتیاط برتی جائے۔ انتخابی نتائج کی صحیح رپورٹنگ کی جائے اور غیرحتمی اور غیر مصدقہ انتخابی نتائج نشر/شائع نہ کیے جائیں۔
میڈیا اس بات کو یقینی بنائے کہ انتخابات کی کوریج کرنے والا اسٹاف تربیت یافتہ اور سیاسی طور پر غیرجانبدار ہو۔ صحافیوں اور میڈیا کے عملے کا تحفظ بہت اہم ہے، اس سلسلے میں تمام میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حفاظتی اقدامات کر یں۔ انتخابات کے عرصے کے دوران کسی طرح کے پروگرام میں امیدوار نیوزاینکرز، انٹرویو لینے والوں جیسا طرزعمل نہ اپنائیں۔ انتخابات کی کوریج کرنے والے صحافی خود کو کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کا ایجنٹ بننے سے دور رکھیں۔ انتخابات کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو دستاویز، تحفے یا کیش کی صورت میں کوئی سیاسی قیمت ادا نہ کی جائے۔ میڈیا اہم سیاسی جماعتوں/انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو مناسب موقع اور وقت دے۔
میڈیا کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کا دباؤ قبول نہ کرے۔ واضح رہے کہ پریس کونسل آف پاکستان کی جانب سے یہ ضابطۂ اخلاق میڈیا کے تمام شراکت داروں بشمول اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یوجے، پی بی اے، ای جی این، بارایسوسی ایشنز، کراچی، لاہور، ملتان اوراسلام آباد میں متعلقہ سول سوسائٹی کی تنظیموں سے مشاورت کے بعد تیارکیاگیا۔