آئینہ ان کو دکھایا تو بُرا مان گئے

جو اصل اقدامات ہیں وہ پی سی بی کر نہیں رہا مگر مزید رقم بے کار میں اڑائی جا رہی ہے

یہ حقیقت تسلیم کر لیں کہ بھارت ہم سے نہیں کھیلنا چاہتا ، اس کی بار بار منت سماجت سے کیا فائدہ ہوگا؟ فوٹو : فائل

کئی برس پہلے کی بات ہے قومی کرکٹ ٹیم کے ایک سابق کپتان نجی دورے پر امریکا گئے ہوئے تھے، ان دنوں ایک فاسٹ بولر سے ان کی نہیں بنتی تھی، میں نے انھیں فون کر کے اس کے بارے میں سوال پوچھ لیا، انھوں نے جواب دیا کہ '' میں واپس آ کر اس کی فٹنس کا خود جائزہ لوں گا'' یہ خبر اخبار میں شائع ہوئی تو کپتان صاحب پر دباؤ پڑا، ہمارے کچھ ''دوستوں '' نے بھی آگ بھڑکائی اور ان اسٹار کرکٹر کو یہ بیان دینا پڑا کہ '' میں نے کسی کو کوئی انٹرویو نہیں دیا'' حالانکہ اس وقت تک ان میں ''تبدیلی'' آ چکی تھی لہذا مجھے قطعی امید نہ تھی کہ وہ ایسے مکر جائیں گے۔

میں نے انھیں دوبارہ فون کیا تو وہ کہنے لگے '' ہاں تم سے تو بات ہوئی تھی یہ خبر لگا دو کہ تمہارے علاوہ کسی کو انٹرویو نہیں دیا'' اس وقت تک بعض لوگ اس تنازع سے اپنا فائدہ اٹھا چکے تھے، لہذا میں نے مزید کچھ کرنے سے گریز کیا لیکن یہ واقعہ ایک سبق دے گیا کہ کسی کا بھی انٹرویو کرو تو اسے ریکارڈ لازمی کیا جائے۔

اب تو خیر زمانہ بدل چکا ، کیمرے کا دور ہے، اب کسی کیلیے بیان سے مکرنا آسان نہیں مگر اس کے باوجود بعض لوگ ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جنھیں بعد میں سبکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے شہریارخان کے معاملے میں ہوا، بیچارے جب چیئرمین تھے تب بھی نجم سیٹھی کے زیراثر رہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی کئی فیصلوں میں شریک ہونا پڑا، اب وہ بورڈ سے منسلک نہیں مگر پھر بھی اظہار خیال کی آزادی حاصل نہیں ہے۔

گزشتہ دنوں شہریارخان نے لاہور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران اعتراف کیا کہ ''بھارت کیخلاف پی سی بی کا کیس کمزور ہے۔ دونوں بورڈز کو قانونی جنگ کے بجائے مذاکرات سے معاملہ حل کرنا چاہیے''، یہ بیان چینلز کی بریکنگ نیوز بن گیا، میرے ذہن میں ایک سوال آیا لہذا ٹویٹ کر دی کہ اگر ایسا تھا تو شہریار صاحب آپ نے اور سیٹھی صاحب نے قانونی جنگ کیلیے ایک ارب روپے کیوں مختص کیے، موجودہ چیئرمین کو ان کی ''ٹویٹر آرمی'' میں سے کسی نے میری اس ٹویٹ کا بتا دیا۔

سوال جاندار تھا مگر انھوں نے عجیب سے انداز میں جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے ساتھ میں شہریارخان کے تردیدی بیان کا لنک لگا دیا، مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ کوئی ٹی وی پر بات کر کے کیسے مکر سکتا ہے، میں نے جواب میں شہریارخان کے ویڈیو کلپس لگائے توسیٹھی صاحب نے خاموشی اختیار کر لی، کاش ایسا غصہ انھوں نے بطور چیئرمین آئی سی سی کے اجلاس میں دکھایا ہوتا اور بگ تھری کی مخالفت کر دیتے تو جھوٹے وعدوں کا شکار بن کر آج یہ نوبت نہیں آتی، ہم سب پاکستانی ہیں اور یقیناً یہی چاہتے ہیں کہ بھارت سے زرتلافی وصول کریں لیکن زمینی حقائق سے نظریں کیسے چرائی جا سکتی ہیں۔


سوشل میڈیا پر ٹویٹر آرمی نے پی سی بی اور بھارتی کرکٹ بورڈ حکام کے سادہ کاغذ پر دستخط والے خطوط جاری کیے جس میں کئی باہمی سیریز ہونے کا ذکر ہے مگر میں نے کئی معروف وکلا سے پوچھا سب کا یہی جواب تھا کہ یہ کوئی قانونی دستاویز نہیں اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اصل معاہدے میں حکومت کی اجازت سے مشروط والی بات شامل ہے، یہی بات پی سی بی کا کیس خراب کرتی ہے۔

نجم سیٹھی، سبحان احمد اور سلمان نصیر بورڈ کے لاکھوں روپے پھونک کرکئی بار انگلینڈ کا دورہ کر چکے،وکلا کو بھاری فیسیں بھی ادا ہو رہی ہیں مگراس کا بظاہر کوئی فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا، آئی سی سی بھی بھارت کے سامنے آواز نہیں اٹھا سکتی، اس کی تنازعات حل کرنے والی کمیٹی کیا کر لے گی، کیا بی سی سی آئی پاکستان کو زرتلافی دے کر اپنے ملک میں لوگوں کا غصہ برداشت کر سکے گا؟ قطعی نہیں وہ حکومت کی آڑ لے کر پیچھا چھڑا لے گا۔

جو اصل اقدامات ہیں وہ پی سی بی کر نہیں رہا مگر مزید رقم بے کار میں اڑائی جا رہی ہے، پہلے بھی کئی بار کہا کہ آپ آئی سی سی ایونٹس میں بھارت کے ساتھ مقابلے سے انکار کر دیں جب براڈ کاسٹرز اور کونسل وغیرہ سب کو نقصان ہو گا تب ہی مسئلے کا حل نکالنے میں سنجیدگی دکھائی جائے گی،آپ بھی کہیں حکومت بھارت کے ساتھ مقابلے سے روک رہی ہے، ابھی تو آئی سی سی وغیرہ سب خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں، ٹیسٹ لیگ اور ون ڈے چیمپئن شپ میں کوئی پاک بھارت سیریز شامل نہیں، آپ کیا کر لیں گے۔

اس وقت بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ چونکہ نجم سیٹھی کئی باہمی سیریز کھیلنے کے بھارتی جھانسے میں آ کر بگ تھری معاہدے پر دستخط کر بیٹھے تھے لہذا اب وہ اس بات سے اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں، پی سی بی کے پیسے بے دردی سے اڑائے جا رہے ہیں۔

حالانکہ ٹھنڈے دل سے سوچنا چاہیے اگر آپ کو سو فیصد یقین ہے کہ بھارت چار، پانچ ارب روپے دیدے گا تو ضرور کیس کریں لیکن کوئی بھی عقلمند انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ بھارتی بورڈ اتنا اچھا ہوجائے گا،ایک ارب روپے وکلا پر پھوکنے کے بجائے یہ رقم نوجوان کرکٹرز پر خرچ کریں کچھ تو فائدہ ہوگا، بھارت سے باہمی سیریز کھیلے بغیر بھی ہماری ٹیم نے اسے فائنل میں ہرا کر چیمپئنز ٹرافی جیتی،سری لنکا کو کلین سویپ کیا،کچھ عرصے قبل ٹیسٹ میں نمبر ون بھی بنے، نیا ٹیلنٹ بھی سامنے آ رہا ہے تو کشکول لے کر کیوں بھارت کے پیچھے بھاگیں، اس وقت اپنے ملک میں کرکٹ کی واپسی پر توجہ دیں۔

یہ حقیقت تسلیم کر لیں کہ بھارت ہم سے نہیں کھیلنا چاہتا ، اس کی بار بار منت سماجت سے کیا فائدہ ہوگا؟آپ دیگر بورڈز سے تعلقات بہتر بنائیں اور باہمی سیریز کھیلیں، ایک دن آئے گا جب بھارت خود کہے گا آؤ ہمارے ساتھ کھیلو، اچھے وقت کا انتظار کریں، ہماری ٹیم گھر نہیں بیٹھی مسلسل کھیل ہی رہی ہے، جو سنجیدہ قسم کے مسائل ہیں ان پر توجہ دیں تب ہی پاکستانی کرکٹ کا کوئی فائدہ ہو سکے گا۔
Load Next Story