کام میں تبدیلی اوراحتساب اب ہوتا ہوا نظر آئیگا چیئرمین نیب
ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ میری اولین ترجیح ہے،ہرشہری نیب کی طرف دیکھ رہا ہے، جسٹس (ر) جاوید اقبال
ایکسٹرنل آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا، جسٹس (ر) جاوید اقبال کا جائزہ اجلاس سے خطاب۔ فوٹو: فائل
قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ میری اولین ترجیح ہے، نیب کے کام میں تبدیلی اور احتساب اب ہوتا ہوا نظر آئے گا۔
چیئرمین نیب نے نیب ہیڈ کوارٹرز ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، اس کے وسائل اور خزانہ کا قانون کے مطابق استعمال انتہائی ضروری ہے، نیب کا بجٹ اب قانون اور قاعدے کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جائے گا، انٹرنل آڈٹ ہو چکا ہے جبکہ 2015-16 کا ایکسٹرنل آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ ہم نے گزشتہ برسوں میں بجٹ کا بے جا استعمال تو نہیں کیا اور اس کے ذمے دار اشخاص کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہ اکہ نیب ہیڈ کوارٹرز کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے 500 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جبکہ بلڈنگ تقریباً 1870 ملین روپے میں مکمل ہوئی جس کی انکوائری کی جائے گی۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی گاڑیوں کا بے جا استعمال اور دفتری اوقات کے بعد سرکاری خرچ پر کھانوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چیئرمین نیب نے نیب ہیڈ کوارٹرز ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، اس کے وسائل اور خزانہ کا قانون کے مطابق استعمال انتہائی ضروری ہے، نیب کا بجٹ اب قانون اور قاعدے کے اندر رہتے ہوئے استعمال کیا جائے گا، انٹرنل آڈٹ ہو چکا ہے جبکہ 2015-16 کا ایکسٹرنل آڈٹ کرانے کا حکم دیا ہے تاکہ اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ ہم نے گزشتہ برسوں میں بجٹ کا بے جا استعمال تو نہیں کیا اور اس کے ذمے دار اشخاص کا تعین کیا جائے گا۔ انہوں نے کہ اکہ نیب ہیڈ کوارٹرز کی بلڈنگ کی تعمیر کے لیے 500 ملین روپے کی رقم مختص کی گئی تھی جبکہ بلڈنگ تقریباً 1870 ملین روپے میں مکمل ہوئی جس کی انکوائری کی جائے گی۔
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب کی گاڑیوں کا بے جا استعمال اور دفتری اوقات کے بعد سرکاری خرچ پر کھانوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔